صحیفہ بہار و خزاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
19ویں صدی کے صحیفہ کی ایک جھلک

صحیفہ بہار و خزاں (انگریزی: Spring and Autumn Annals) یا چنچو (Chunqiu) ایک قدیم چینی جریدہ ہے جسے زمانہ قدیم سے ہی چینی ادبیات عالیہ میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ یہ صحیفہ ریاست لو کی تحریر ہے اور 241 سالہ تاریخ (722 ق م تا 481 ق م) پر مشتمل ہے۔ چین کی تاریخ میں لکھی جانے والی کتابوں میں صحیفہ بہار و خزاں سب سے قدیم منظم تاریخی کتاب ہے جو اب تک باقی ہے۔و1و کہا جاتا ہے کہ اسے کنفیوشس نے مدون کیا تھا۔ اسی لیے اسے چین کی پانچ ادبیات عالیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ صحیفہ ہر سال لیو میں ہونے والے واقعات کا مکمل دستاویز ہے مثلاً تاج پوشی، شادی بیاہ، موت، بادشاہوں کی تدفین، جنگیں، قربانی کی رسومات اور دیگر قدرتی آفات وغیرہ کو منظم اور تاریخی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔و1و واقعات کے اندراج میں اس بات کا سختی سے اہتمام کیا گیا ہے کہ ہر اندراج محض دس حروف پر مشتمل ہو اور اس کی کوئی تفصیل یا کسی کی تقریر وغیرہ کو تحریر نہیں کیا گیا ہے۔و1و

متحارب ریاستوں کے دور (475 ق م تا 221 ق م) میں اس صحیفہ کی تفاسیر اور پیچیدہ الفاظ کی تشریح کی کوشش کی گئی اور مختصر جملے کی وضاحت کی گئی۔ ان کوششوں میں زو زوان کی تفسیر سب سے زیادہ مقبول ہوئی اور اسے کلاسیکی ادب کا درجہ ملا اور چینی اقوال اور محاوروں کا سب سے بہترین ماخذ قرار پایا۔و1و

تاریخ اور مندرجات[ترمیم]

صحیفہ بہار و خزاں کی تدوین غالباً 5 ویں صدی قبل مسیح میں ہوئی اور صحیفہ بامبو کے علاوہ اس دور کی بس یہی ایک یادگار ہے۔و1و چھٹی صدی عیسوی یعنی کنفیوشس کے زمانے میں "بہار و خزاں" کی ترکیب (قدیم چینی: hūnqiū 春秋) سال کے معنی میں استعمال ہوتی تھی اور صحیفہ یا جریدہ کے لیے اسے بطور اصطلاح استعمال کیا جاتا تھا۔و2و

یہ صحیفہ بہت واضح، مختصر اور جامع ہے۔ تمام واقعات مثلاً تاج پوشی، شادی بیاہ، اموات، بادشاہوں کی تجہیز و تکفین، جنگیں، قربانی کی رسومات، قدرتی آفات اور دیگر واقعات کو بہت اہتمام سے اور اس یقین کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے کہ ان کی ایک رسمی اہمیت ہے۔و1و اختصار کی یہ حالت ہے کہ اکثر اندراج اوسطاً 10 حروف میں سمیٹ دیے گئے ہیں، سب سے طویل اندراج 47 حروف میں ہے اور کئی اندراج محض ایک حرف میں ملتا ہے۔و1و 11 اندراج میں صرف “تونگ“ (پنین: 螽) یعنی کیڑوں کی وبا (طاعون) ہے۔و1و بعض جدید محققین کو شک ہے کہ کیا یہ تحریر اور واقعات نگاری انسان کے پڑھنے کے لیے لکھی گئی ہے یا دنیا سے جا چکے آباد و اجداد کی ارواح کو پیغام دینے کی خاطر مرتب کیے گئے تھے۔و1و

تفاسیر[ترمیم]

چونکہ اس صحیفہ کا متن بہت مبہم اور مندرجات مختصر ہیں، اس لیے متعدد افراد نے اس کی تفسیریں لکھیں اور اس کی شرح کرنے کی کوشش کی۔ 30 جلدوں پر مشتمل کتاب حان میں مندرجہ ذیل 5 تفاسیر کا تذکرہ ملتا ہے:

حوالہ جات[ترمیم]