صغیر ملال
| صغیر ملال | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 15 فروری 1951ء ضلع راولپنڈی ، پاکستان |
| وفات | 26 جنوری 1992ء (41 سال) کراچی ، پاکستان |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | مترجم ، شاعر ، افسانہ نگار ، ناول نگار |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو |
| درستی - ترمیم | |
صغیر ملال (پیدائش: 15 فروری 1951ء - وفات: 26 جنوری،1992ء)[1]، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔
حالات زندگی و ادبی خدمات
[ترمیم]صغیر ملال 15 فروری، 1951ء میں راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے[2][3][4]۔ انھوں نے بہت مختصر وقت میں بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ ان سے ادبی حلقوں کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں جو ان کی ناوقت موت کی وجہ سے ادھوری رہ گئیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں انگلیوں پر گنتی کا زمانہ، بے کار آمد، ناول آفرینش اور نابود، شعری مجموعہ اختلاف اور تراجم میں بیسویں صدی کے شاہکار افسانے کے نام سے اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔[3]
شکیل عادل زادہ صاحب سب رنگ، مارچ/اپریل 1989ء،شمارہ 112-111میں ان کا تعارف یوں لکھتے ہیں:
پوٹھوہار کے پہاڑوں میں آباد اوسط درجے کے زمیں داروں کے ہاں پیدائش۔ کراچی یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے۔ مطالعے کا شوق دیوانگی کی حد تک۔ مشاہدے کی خاطر اندھی گلیوں اور اندھیرے لوگوں سے معانقے کے کیے ہمہ وقت مضطرب۔ تیراکی، جوگنگ، مرغ بازی، پتنگ بازی اور کتے پالنے کا شوق۔ کچھہ عرصہ غیر ملکوں میں بہ سلسلۂ روزگار قیام۔ حال آرگس ایڈورٹائزگ کراچی میں عبارت آرائی اور خیال کاری کی ملازمت۔ اقبال اور غالب کے حافظ۔ میر کے معتقد۔ لطیفہ خواں، قہقہے باز شادی شدہ۔ واحد بیوی فرزانہ اور واحد بچی درماں سے کہیں زیادہ شعر و ادب سے رشتہ۔ افسانوں کے مجموعے انگلیوں پر گنتی کا زمانہ، ناول آفرینش اور شاعری کے مجموعے اختلاف کے مصنف۔ اردو کے نئے افسانہ نگاروں میں ایک ممتاز نام، صغیر ملال۔صغیر ملال پر اردو کے ثقہ اور تجریدی ادب کا غلبہ ہے اور وہ ان ادیبوں میں شامل ہیں جو قارئین کی تعداد کی پروا نہیں کرتے۔ چند منتخب قارئین اور کبھی محض اپنا اطمینان ان کے لیے بہت ہوتا ہے۔ ہمیں گمان ہے، ہم نے صغیر ملال کو کسی حد تک قائل کر لیا ہے کہ ایسا ادب بھی تخلیق کیا جا سکتا ہے جو خواص کے ساتھ عوام کو بھی مرغوب ہو اور یہ کوئی ناروا بات نہیں۔
تصانیف
[ترمیم]- اختلاف (شاعری، 1981ء)
- بے کار آمد (افسانے، 1989ء)
- نابود (ناول)
- آفرنیش (ناول، 1985ء)
- انگلیوں پر گنتی کا زمانہ (افسانے)
- بیسویں صدی کے شاہکار افسانے (تراجم)
نمونۂ کلام
[ترمیم]غزل
| کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے | شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے | |
| ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے | پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے | |
| پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاں | اور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے | |
| دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں | کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے | |
| زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملال | کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے[5] |
غزل
| الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں | وگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں | |
| ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کو | ہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں | |
| یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہے | یہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں | |
| جو در بدر ہو وہ کیسے سنبھال سکتا ہے | تری امانتیں جتنی ہیں میرے گھر میں ہیں | |
| عجیب طرح کا رشتہ ہے پانیوں سے ملالؔ | جدا جدا سہی سب ایک ہی بھنور میں ہیں [6] |
وفات
[ترمیم]صغیر ملال 26 فروری، 1992ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔[2][3][4][7]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Death of Sagheer Malal(صغیر ملال کی وفات)"۔ tareekhepakistan.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-07-04
- ^ ا ب صغیر ملال، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
- ^ ا ب پ عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 697
- ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 425
- ↑ کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے (غزل)، صغیر ملال، اردو ویب، پاکستان
- ↑ الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیں (غزل)، صغیر ملال، ریختہ ویب، بھارت
- ↑ "Sagheer Malal Poetry - Sagheer Malal Shayari, Urdu Ghazal, Nazam Collection". UrduPoint (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-07-04.