صغیر ملال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صغیر ملال
معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1951  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ضلع راولپنڈی،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 جنوری 1992 (41 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مترجم،  شاعر،  افسانہ نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

صغیر ملال (پیدائش: 15 فروری، 1951ء - وفات: 26 جنوری، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم تھے۔

حالات زندگی و ادبی خدمات[ترمیم]

صغیر ملال 15 فروری، 1951ء میں راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے[1][2][3]۔ انہوں نے بہت مختصر وقت میں بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ ان سے ادبی حلقوں کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں جو ان کی ناوقت موت کی وجہ سے ادھوری رہ گئیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں انگلیوں پر گنتی کا زمانہ، بے کار آمد، ناول آفرینش اور نابود، شعری مجموعہ اختلاف اور تراجم میں بیسویں صدی کے شاہکار افسانے کے نام سے اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • اختلاف (شاعری، 1981ء)
  • بے کار آمد (افسانے، 1989ء)
  • نابود (ناول)
  • آفرنیش (ناول، 1985ء)
  • انگلیوں پر گنتی کا زمانہ (افسانے)
  • بیسویں صدی کے شاہکار افسانے (تراجم)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتےشہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلےپھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
پہلے دیتے ہیں دلاسہ کہ بہت کچھ ہے یہاںاور پھر ہاتھ میں کاسہ نہیں رہنے دیتے
دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاںکوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے
زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالکیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے[4]

غزل

الگ ہیں ہم کہ جدا اپنی رہگزر میں ہیںوگرنہ لوگ تو سارے اسی سفر میں ہیں
ہماری جست نے معزول کر دیا ہم کوہم اپنی وسعتوں میں اپنے بام و در میں ہیں
یہاں سے ان کے گزرنے کا ایک موسم ہےیہ لوگ رہتے مگر کون سے نگر میں ہیں
جو در بدر ہو وہ کیسے سنبھال سکتا ہےتری امانتیں جتنی ہیں میرے گھر میں ہیں
عجیب طرح کا رشتہ ہے پانیوں سے ملالؔجدا جدا سہی سب ایک ہی بھنور میں ہیں [5]

وفات[ترمیم]

صغیر ملال 26 فروری، 1992ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]