ضد حیوی
| ضد حیوی | |
|---|---|
| صنف دوا | |
کِربی بوئر ڈسک ڈفیوژن طریقہ کے ذریعے ’اسٹافائلوکوکس اوریئس‘ کی اینٹی بایوٹکس کے خلاف حساسیت کی جانچ، جس میں اینٹی بایوٹک ڈسکس کے گرد نشو و نما کا zone of inhibition دیکھا جا سکتا ہے۔ | |
| تلفظ | اینٹی بایوٹِکس |
| قانونی حیثیت | |
| قانونی حیثیت | ? |
| ویکیڈیٹا پر | |

ضد نامیات یا ضد حیات / ضد حیوی (اینٹی بائیوٹکس) مختلف مادے ہیں جو بالعموم خرد نامیوں سے حاصل ہوتے ہیں اور بعض مخصوص خرد نامیوں کی افزائش روکنے یا انجیں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ضد حیوی وہ ادویہ ہیں جنھیں اصل میں کچھ جراثیم اپنے مقاصد کے لیے پیدا کرتے ہیں۔ یہ مرکبات مٹی، پانی اور ہوا میں موجود بیکٹیریا اور پھپھوند سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ معالجین زیادہ تر اینٹی بیکٹیریا کو مضر جراثیموں کی پیدا کردہ بیماریوں پر قابو پانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چند ضد حیوی سرطان کے علاج میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ضد حیویوں کا زہریلا پن اختصاصی ہوتا ہے، یعنی یہ بعض مخصوص خلیات کو تباہ کرتے ہیں جبکہ باقی متاثر نہیں ہوتے۔ بہت سی ضد حیوی بیماری پیدا کرنے والے مرض آور (pathogenic) کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں جبکہ عام طور پر انسانی خلیوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ معالجین ضد حیویوں کو سوزاک (Gonorrhea)، آتشک (Syphilis) اور تپ دق (Tuberculosis) جیسی بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ ادویات اسٹافی لوکوکس (Staphylococcus) اور اسٹرپ ٹوکوکس (Streptococcus) بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف بھی مؤثر ہیں۔ تاہم بعض ضد حیوی ایسے بھی تیار کیے گئے ہیں جو انسانی خلیوں پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ سرطان کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان خلیوں کے لیے مہلک ہوتے ہیں جو خلیائی تقسیم کے عمل سے گذر رہے ہوتے ہیں۔ ضد حیویوں نے بہت سی ایسی بیماریوں کے علاج کو ممکن بنایا ہے جو ماضی میں اکثر ناقابلِ علاج سمجھی جاتی تھیں۔ ان ادویات کے استعمال کے بعد سے تپ دق، گردن توڑ بخار اور نمونیا سے اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
جانوروں کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اناج اور پھلوں کی فصلوں کے لیے نقصان دہ بیکٹیریا اور پھپھوند کو قابو میں رکھنے میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض اوقات خوراک کو خراب ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی یہ مرکبات بہت کم مقدار میں استعمال کیے جاتے ہیں۔