ضمانت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کسی جرم کے ملزم کو قید خانے سے چھڑانے کے لیے عدالت کے روبرو جو رقم جمع کی جاتی ہے یا دینے کا حلف لیا جاتا ہے، اسے ضمانت (bail) کہتے ہیں۔ ضمانت پاکر عدالت اس سے مطمئن ہو جاتی ہے کہ ملزم سنوائی کے لیے ضرور آئیگا ورنہ اس کی ضمانت ضبط کر لی جائیگی (اور سنوائی کے لیے نہ آنے پر پھر سے پکڑا جا سکتا ہے۔)

تعزیرات ہند میں ضمانت[ترمیم]

(١) ضمانتی جرائم (Bailable Offence) - تعزیرات ہند کی دفعہ 21 کے مطابق ضمانتی جرائم سے مراد ایسے جرم ہیں جو:
(الف) ایف آئی آر میں ضمانتی جرائم کے روپ میں دکھایا گیا ہو یا
(ب) کسی ذیلی دفعہ کی روسے ضمانتی جرائم بنایا گیا ہو یا
(گ) غیر ضمانتی جرائم سے ہٹ کر کوئی اور جرم ہو۔

ضابطے کی پہلے شیڈیول میں ضمانتی جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو ضمانتی جرائم بتائے گئے ہیں اور اسمیں ملزم کو ضمانت قبول کرنا پولیس افسراورعدالت کا فریضہ ہے۔ مثلاً کسی شخص کو از خود معمولی چوٹ پہنچانا، اس پر سے مجرمانہ انداز میں آمدورفت میں رخنے ڈالنا، کسی خاتون کو رسوا کرنا، ہتک عزت وغیرہضمانتی جرائم ہیں۔

  1. غیر ضمانتی جرائم (Non - Bailable Offence) - تعزیرات ہند میں 'غیر ضمانتی جرائم' کی تعریف نہیں دی گئی ہے۔ تاہم یہ کہا سکتے ہے کہ ایسا وہ ایسا جرم ہے جو:

(ک) قابل ضمانت نہیں ہے۔ (کھ) جسے ایف آئی آر میں غیر ضمانتی جرم کے روپ میں تحریر کیا گیا ہے۔

عمومًا سنگین نوعیت کے جرائم کو غیر ضمانتی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان جرائم میں ضمانت کا منظور یا نامنظور ہونا جج کے اختیار پر منحصر ہے۔ مثلاً دہشت گردی، اجتماعی آبروریزی، وغیرہ۔[1]

مجموعہ تعزیرات پاکستان میں ضمانت[ترمیم]

دنیا کے دیگر ممالک میں ضمانت[ترمیم]

انہیں بھی دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]