طرزیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بیسویں صدی کے عہد وسطـٰی میں انسان نے طرزیات پر اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ وہ کرۂ ارض کی سطح سے آزاد ہو کر فضاء میں جا سکے۔

طرزیات یا Technology، سائنس اور معلومات کے فنی اور عملی استعمال کو کہا جاتا ہے اور اس شعبہ علم کے دائرہ کار میں وہ تمام آلات بھی آجاتے ہیں اور وہ تمام دستورالعمل یا طریقۂ کار بھی کہ جو علمی معلومات کے عملی استعمال سے متعلق ہوتے ہیں۔ طرزیات یا ٹیکنالوجی کی اصطلاح عام طور پر طرازوں (techniques) کے ایک مجموعے کیلیۓ استعمال ہوتی ہے (مثال کے طور پر space technology)، اور بعض اوقات اسکو ہندسیات (engineering) کی طراز یا ٹیکنیک استعمال کرتے ہوۓ بنائی جانے والی کسی چیز (پیداوار یا پروڈکٹ) کے لیۓ بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کوئی طرزیاتی کاروباری ادارہ اپنی بنائی ہوئی پیداوار کو ایک ٹیکنالوجی کہ سکتا ہے، مثلا Hitachi technology اور ABI technology وغیرہ وغیرہ۔

وجۂ تسمیہ[ترمیم]

  • انگریزی میں ٹیکنالوجی کا لفظ بنیادی طور پر دو یونانی الفاظ کا مرکب ہے
  • اردو میں طرزیات کا لفظ بنیادی طور پر دو الفاظ کا مرکب ہے
    • طرز = اسلوب، وضع، انداز، طریقہ، فن، ٹیکنیک
    • یات = مطالعہ، علم، لوجی
ایک شکل طرزیات؛ یہ آبی اختراع ایک مسلم سائنسدان بنام الرزاز الجزاری نے اس زمانے میں ایجاد کی تھی کہ جب آج کی ترقی پذیر ہی نہیں پسماندہ مسلم قوم ، سائنس اور طرزیات کے عروج پر تھی اور نئی اختراعات اور تخلیقات میں مصروف تھی۔

بیان[ترمیم]

طرزیات ایک بہت وسیع اصطلاح ہے اور نوع انسان کا اس سے تعلق اس وقت سے ہی جاری ہے کہ جب سے اس نے قدرتی اسباب اور وسیلوں کو سادہ اوزاروں میں بدلنا سیکھا۔ زمانہ قبل از تاریخ کے ادوار میں حضرت انسان کا آگ لگانے کے طریقے کا دریافت کرنا اور کسی وزنی چیز کے نیچے کوئی گول چیز رکھ کر اسے دھکیلنا (جس سے پہیے کی ایجاد ہوئی) سب کچھ طرزیات ہی کی ابتدائی اشکال ہیں۔ اور موجودہ دور میں آئیں تو بہت سی ایسی ایجادات و طراز ہیں جنہوں نے اس دنیا کو ایک نئی شکل میں ڈھال دیا ہے، ان میں www اور اسکی بنیاد یعنی شمارندہ (computer) وغیرہ اہم ہیں۔ ایک اور پہلو یہ کہ تمام تر طرزیات نے انسانی بھلائی کی جانب ہی رخ نہیں کیا بلکہ کثیر تعداد میں ایسی طرزیات بھی تخلیق کی جاچکی ہے اور کی جارہی ہے کہ جو انسانیت ہی کو مٹا دینے کی بھر پور صلاحیت سے مالا مال ہے اور انکی چند مثالوں میں Atom bomb اور Neutron bomb جیسے مہیب ہتھیار شامل ہیں۔