عالمی یوم آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آبادی کا عالمی دن ہر سال 11جولائی کومنایا جا تا ہے۔

انسان کی ابتدا سے 1800 عیسوی تک انسانی آبادی کو ایک ارب ہونے میں ہزاروں برس لگے۔ پھر 1920 کی دہائی میں آبادی دو ارب تک پہنچ گئی، یعنی دگنا ہونے میں صرف سو سال لگے۔ اس کے صرف پچاس برس بعد 1970کی دہا ئی میں آبادی دگنا یعنی چار ارب ہو گئی۔ دنیا کی آبادی بہت جلد آٹھ ارب کی لکیر تک پہنچنے والی ہے اور آج ایک دن میں، انسانی نسل سیارۂ زمین پر ایک چوتھائی ملین (ڈھائی لاکھ)افراد اضافہ کر رہی ہے یعنی ہم ہر سال جرمنی کے پورے ملک کے برابر آبادی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

1798ء میں ماہر معاشیات ٹامس رابرٹ مالتھس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ آبادی جیومیٹرک تناسب (1، 2، 4، 8، 16، 32)سے بڑھتی ہے جبکہ وسائل میں اضافہ آرتھمیٹک حساب (1، 2، 3، 4، 5، 6، 7)سے ہوتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق آبادی میں اضافہ وسائل پر بوجھ کا باعث بنتا ہے ۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی کہ جس تیزی سے وسائل مہیا نہیں ہو رہے۔ دنیا بھر کے بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں ان میں خوراک کی فراہمی، علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی اشیاءجو بنی نوع انسان کے لیے ضروری ہیں۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے آبادی کا عالمی دن ہر سال 11جولائی کومنایا جا تا ہے۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔