عصبی نظام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انسان کا عصبی نظام ؛ یوں کہا جاۓ تو مناسب ہوگا کہ عصبی نظام کا اہم ترین حصہ تو کھوپڑی میں موجود ہوتا ہے جسے دماغ کہتے ہیں اور اسکے نچلے حصے کی جانب سے ایک دم لٹکی ہوئی ہوتی ہے جو نیچے کی جانب بڑھ کر ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی نالی میں اتر جاتی ہے، اس دم کو نُخاع (یا حرام مغز) کہا جاتا ہے۔ دماغ اور نُخاع سے تار نما اجسام نکل کر تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں جو پیغامات کو دماغ اور نُخاع سے جسم میں اور جسم سے دماغ اور نُخاع تک لاتے لیجاتے رہنے کا کام کرتے ہیں۔

ایک کثیرخلوی جاندار کے جسم میں بہت سے نظام پائے جاتے ہیں جو زندگی کے لیے لازمی افعال (مثلاً ؛ کھانا، سانس لینا، حرکت کرنا، سوچنا وغیرہ) انجام دیتے ہیں اور اس طرح زندگی کے لیے ہر ضروری فعل انجام دینے کے لیے کثیر خلوی جانداروں میں ایک ایک نظام ہوتا ہے۔

چونکہ یہ نظام الگ آزاداGIPر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ !!PIGصہ ہوتے ہیں جس کے لیے یہ کام کر رہے ہوں لہذا یہ بات بھی ضروری ہے کہ انکا کام آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہو اور اسکے لیے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو ان تمام الگ الگ افعال انجام دینے والے نظاموں کو آپس میں مربوط کر سکے اور ان کے افعال کی نگرانی بھی کرسImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananaImage result for bananavvvکے اور وقت ضرورت انکو پیغامات یا ہدایات بھی مہیا کرسکے تاکہ ہر نظام وہی کام کرے اور اسی انداز میں کرے کہ جس طرح اس جاندار کی زندگی کے لیے فائدہ مند اور مفید ثابت ہو۔ اور اس مقصد کے لیے جانداروں میں عصبی نظام (nervous system) پایا جاتا ہے جو جسم کے دیگر نظام کو (endocrine system کے ساتھ ملکر) منظم بھی کرتا ہے اور جاندار کو اسکے بیرونی ماحول سے آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں شعور و ادراک بھی پیدا کرتا ہے۔

عصبی نظام کو پھر مطالعے میں آسانی کی خاطر مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یہ تقسیم مقصد کے لحاظ سے کئی انداز میں کی جاسکتی ہے جن میں سے دو اہم اقسام کی تقسیم وہ ہیں کہ جن میں عصبی نظام کو یا تو افعال کے لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہو اور یا پھر ساخت کے لحاظ سے۔ free palestine 1- فعلیاتی لحاظ سے

2- ساختی لحاظ سے

مرکزی عصبی نظام[ترمیم]