فعل مثبت اور فعل منفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فعل مثبت اور فعل منفی فعل مثبت وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی فعل (کام) کے کرنے یا ہونے کا ذکرہوا ہو۔ مثبت کے معنی جمع کے ہوتے ہیں۔ جیسے حنا نے نماز پڑھی، عرفان اسکول گیا، عمران نے سیر کی، سیما نے خط لکھا، وغیرہ فعل منفی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی فعل (کام) کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا کا ذکر ہو۔ منفی کے معنی تفریق یا نفی کے ہوتے ہیں۔ جیسے حنا نے نماز نہیں پڑھی، عرفان اسکول نہیں گیا، عمران نے سیر نہیں کی، سیما نے خط نہیں لکھا، وغیرہ

فعل مثبت اور فعل منفی[ترمیم]

فعل مثبت[ترمیم]

فعل مثبت وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی فعل (کام) کے کرنے یا ہونے کا ذکرہوا ہو۔ مثبت کے معنی جمع کے ہوتے ہیں۔

یا

ایسا فعل یا مثبت جملے وہ جملے ہوتے ہیں جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کا ذکر کیا گیا ہو۔

مثالیں

حنا نے نماز پڑھی، عرفان اسکول گیا، عمران نے سیر کی، سیما نے خط لکھا، وغیرہ

فعل منفی[ترمیم]

فعل منفی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی فعل (کام) کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا کا ذکر ہو۔ منفی کے معنی تفریق یا نفی کے ہوتے ہیں۔

یا

فعل منفی یا منفی یا منفی جملے وہ جملے ہوتے ہیں جس میں کسی کام کے نہ کرنے یا نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہو۔ مثالیں حنا نے نماز نہیں پڑھی، عرفان اسکول نہیں گیا، عمران نے سیر نہیں کی، سیما نے خط نہیں لکھا، وغیرہ

فعل منفی بنانے کا قاعدہ[ترمیم]

  1. فعل مثبت کو فعل منفی میں تبدیل کرنے کے لیے ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی استمراری اور ماضی شکیہ سے پہلے عام طور پر نہیں لگا دیا جاتا ہے۔# فعل ماضی تمنائی اور فعل مضارع کو فعل منفی میں تبدیل کرنے کے لیے ان فعلوں سے پہلے نہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

فعل منفی اور فعل نہی میں فرق[ترمیم]

فعل منفی اور فعل نہی میں ایک باریک سا فرق ہے۔ فعل منفی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ جیسے حنا نے کتاب نہیں پڑھی۔ جبکہ فعل نہی میں کسی کام سے منع کیا جاتا ہے جیسے جھوٹ مت بولو۔

استفہامیہ یا سوالیہ جملے[ترمیم]

استفہامیہ یا سوالیہ جملے وہ جملے ہوتے ہیں جن میں کوئی سوال پایا جائے۔

یا

استفہامیہ اُن جملوں کو کہتے ہیں جن میں کوئی سوال کیا گیا ہو۔ استفہام کے معنی پوچھنا کے معنی ہوتے ہیں۔

مثالیں

کون آیا تھا؟، تم کب آئے؟، کیا تم نے نماز بڑھی؟، کیا حنا نے خط لکھا؟، کیا اسلم اسکول جاتا ہے؟، وغیرہ

مثبت جملوں کو منفی اور سوالیہ جملوں میں تبدیل کرنا
  1. مثبت جملوں کومنفی جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے ماضی مطلق، ماضی قریب، ماضی بعید، ماضی استمراری اور ماضی شکیہ سے پہلے نہیں کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے حنا نے نماز پڑھی مثبت جملہ ہے اور حنا نے نماز نہیں پڑھی منفی جملہ ہے
  2. ماضی تمنائی اور فعل مضارع کے جملوں کو منفی جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے ان فعلوں سے پہلے نہ پڑھاتے ہیں جیسے جھوٹ بولو مثبت جملہ ہے اور جھوٹ نہ بولو منفی جملہ بن جاتا ہے۔
  3. مثبت جملوں کو سوالیہ جملوں میں تبدیل کرنے کے لیے جملے کے شروع میں کون، کس کیا، کونسا، کونسی، کتنا، کتنی، کب میں سے کوئی سا حرف استفہام لگا دیا جاتا ہے جیسے حنا نے نماز پڑھی مثبت جملہ ہے جبکہ کیا حنا نے نماز پڑھی؟ سوالیہ یا استفہامیہ جملہ ہے۔
مثبت جملے۔ منفی جملے، سوالیہ جملے
مثبت جملے منفی جملے سوالیہ جملے
حنا نے نماز پڑھی حنانے نمازنہیں پڑھی کیا حنا نے نماز پڑھی؟
منتظر نے خط لکھا منتظر نے خط نہیں لکھا کیا منتظر نے خط نہیں لکھا؟
وہ اخبار پڑھتا ہے وہ اخبار نہیں پڑھتا ہے کیا وہ اخبار نہیں پڑھتا ہے؟
میں کتاب خریدوں گا میں کتاب نہیں خریدوں گا کیا میں کتاب نہیں خریدوں گا؟
انیلا نے سبق یاد کیا ہے انیلا نے سبق یاد نہیں کیا ہے کیا انیلا نے سبق یاد کیا ہے؟
وہ اسکول جاتا ہے وہ اسکول نہیں جاتا ہے کیا وہ اسکول جاتا ہے؟
سلیم مجھے کل ملا تھا سلیم مجھے نہیں ملا تھا کیا سلیم مجھے ملا تھا؟
تم بازار جا رہے ہو تم بازار نہیں جا رہے ہو کیا تم بازار جا رہے ہو

حوالہ جات[ترمیم]

[1][2]

  1. آئینہ اردو قواعد و انشاء پرزادی
  2. آئینہ اردو