قومی مفاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قومی مفاد (انگریزی: National interest) کسی بھی ملک کے مقاصد اور اس کے عزائم کا نام ہے، جو چاہیں معاشی، فوجی، ثقافتی یا کسی اور دائرے پر محیط ہوں۔ یہ تصور بین الاقوامی تعلقات میں کافی اہم ہیں، جہاں قومی مفاد کی جستجو حقیقت پسندانہ مکتب فکر کی بنیاد ہے۔

قومی مفاد کی عمل آوری اور تنازع کے پہلو[ترمیم]

کسی ملک کی معیشت کے پیش نظر اس ملک میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کن مدوں اور زمروں کے خرچ کو ترجیح دی جائے۔ مثال کے طور پر ہر ملک کی اپنی دفاعی ضرورتیں ہوتی ہیں، جو فوج کی تنظیم اور اسلٰحہ کی خرید و فروخت، بری، بحری اور فضائی حدود کے تحفظ پر مبنی ہے۔ دوسری جانب اسی ملک میں تعلیم ایک اہم حصہ۔ یہ بنیادی اسکولی تعلیم سے لے کر جامعاتی سطح پر عائد ہوتی۔ کچھ ممالک جیسے کہ جرمنی میں تعلیم مفت ہے۔ نہ صرف یہ فائدہ ملک کے شہریوں کے لیے ہے، بلکہ غیر ملکی باشندے بھی سہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ عوامی صحت بھی کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے ہر قسم کے امراض کی تشخیص، ان کے علاج اور ممکنہ آپریشن اور دیکھ ریکھ کا خرچ در کار ہوتا ہے۔ کئی ممالک جیسے کہ کینیڈا میں صحت کی دیکھ ریکھ ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے، عوام کو اس تعلق سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح سے عوامی مقامات کا انتظام جیسے کہ سڑکیں، شاہ رہیں، عجائب گھر اور قومی یاد گار وغیرہ حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ملک کی صورت حال اور فوری اور دیر پا ضرورتوں کے پیش نظر حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ طے کریں کہ قومی مفاد میں اس چیز پر زیادہ توجہ دیں، کس پر توجہ کم کریں اور کن معاملات یا اخراجات کو ذیلی زمروں یا مؤخر خرچ کے زمروں میں شامل کریں۔

2019ء کے اواخر میں پاکستانی فوج نے ملک کے خراب معاشی حالات اور ادائیگی کے توازن کی بگڑتی صورت حال کے پیش نطر اپنے اگلے سال کے خرچ میں کمی کا اعلان کیا۔ اس سے یہ فائدہ ممکن ہے کہ دفاعی خرچ کے لیے مختص بھاری رقم دیگر قومی مفاد کی مدوں میں صرف ہو سکے گی۔ پاکستان فوج کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات میں رضا کارانہ کمی کے اس فیصلے پر ملک کے بر سر اقتدار وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ قومی سلامتی کو درپیش مشکلات کے باوجود یہ قابل تحسین ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]