مار گزیدگی
| مارگزیدگی | |
|---|---|
| وینیزویلا کی ایک نو سالہ بچی کو ریٹل اسنیک کاٹنے کا زخمی | |
| اختصاص | ہنگامی طب |
| علامات | دو پنکچر زخم، لالی، پھولنا، شدید تکلیف |
| سبب | سانپ[1] |
| عوامل خطرہ | خود کے ہاتھوں سے کیے جانے والے کام، (زراعت، جنگل میں کام، تعمیرات)[1][2] |
| تدارک | حفاظتی پاپوش، سانپوں سے بھرے علاقوں سے بچنا |
| معالجی تدابیر | زخم کے ارد گرد پانی اور صابن سے دھونا، تریاق |
| قابل علاج | سانپ کی قسم پر منحصر |
| تعدد | ہر سال پانچ ملین تک |
| اموات | 94,000–125,000 ہر سال |
مار گزیدگی یا سانپ کا کاٹنا (انگریزی: Snakebite) ایک ایسا زخم ہے جو سانپ کے کاٹنے سے پھیلتا ہے، خاض طور پر زہریلا سانپ سے[3]۔ کسی زہریلے سانپ کے کاٹنے کی ایک عام علامت یہ ہے کہ اس کے منہ کے دانتوں سے پنکچر زخم کا نشان ظاہر ہونا۔ کبھی کبھار اس کاٹنے سے زہر جسم میں پھیلنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے لالی، پھولنا اور اس کاٹنے کے مقام پر بہت زیادہ درد کا ظاہر ہونا دیکھا جا سکتا ہے، جو ممکن ہے کہ ظاہر ہونے میں ایک گھنٹے تک کا وقت لگے۔ قے، نظر کی دھندلا ہونا، ہاتھ پاؤں میں حرکت کا کم سے کم تر ہونا اور پسینوں کا جاری ہونا دیکھا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر کاٹنے کے واقعات ہاتھوں، بغلوں یا پاؤں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔[4][5] کاٹنے کے فوری بعد خوف کا طاری ہونا دل کی دھڑکن کے تیز ہو جانے کی وجہ سے ہو سکتا ہے اور سر کے چکرانے کا بھی سبب ہو سکتا ہے۔[1][2] سانپ کا زہر مسلسل خون کو جاری کرنے، گردوں کی ناکارگی، شدید الرجی کا رد عمل، کاٹنے کے مقام کے خلیوں کا غیر کار گرد ہونا یا سانس لینے میں مشکل پیدا کر سکتا ہے۔ مار گزیدہ شخص ہاتھ پاؤں سے معذور ہو سکتا ہے۔ کس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے، یہ کاٹنے والے سانپ کی قسم، جسم کا حصہ جہاں کاٹا گیا، چھوڑے گئے زہر کی مقدار اور مار گزیدہ شخص کی صحت پر منحصر ہے۔[6] بچوں میں مسائل بالغوں کے مقابلے زیادہ سنگین ہوا کرتے ہیں۔ [7]
احتیاط
[ترمیم]سانپ کو پکڑنے کا کام صرف ماہر کو ہی کرنا چاہیے۔عام لوگوں کو ہر طرح کے سانپوں سے کم از کم چھ فٹ دور رہنا چاہیے۔اس سے قریب جانے پر ہر طرح کا سانپ کاٹ سکتا ہے۔زہریلے یا غیر زہریلے ہر طرح کے سانپ کے کاٹنے کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر کسی بھی ٹی۔ایچ۔کیو، ڈی ایچ کیو، ایم ایچ، سی۔ایم۔ایچ، پی۔اے۔ایف ہسپتال، ناول ہسپتال، آغا خان یونیورسٹی ہوسپیٹل، ایوب میڈیکل کمپلیکس، قائد اعظم ہوسپیٹل، وکٹوریہ ہوسپیٹل یا کسی بھی سرکاری غیر سرکاری ہسپتال میں لے جائیں جہاں زہر کے تریاق ہونے کی امید ہو۔ ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ زیر کا تریاق کس ہسپتال میں ہو سکتا ہے۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ "Venomous Snakes"۔ U.S. National Institute for Occupational Safety and Health۔ 24 فروری 2012۔ 29 اپریل 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2015
- ^ ا ب
- ↑ "Definition of Snakebite". www.merriam-webster.com (بزبان انگریزی). Retrieved 2019-06-17.
- ↑ Barry S. Gold؛ Richard C. Dart؛ Robert A. Barish (1 اپریل 2002)۔ "Bites of venomous snakes"۔ The New England Journal of Medicine۔ ج 347 شمارہ 5: 347–56۔ DOI:10.1056/NEJMra013477۔ PMID:12151473
- ↑ BJ Daley؛ J Torres (جون 2014)۔ "Venomous snakebites."۔ JEMS : A Journal of Emergency Medical Services۔ ج 39 شمارہ 6: 58–62۔ PMID:25109149
- ↑ John A. Marx (2010)۔ Rosen's emergency medicine : concepts and clinical practice (7 ایڈیشن)۔ Philadelphia: Mosby/Elsevier۔ ص 746۔ ISBN:9780323054720۔ 21 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ M. M. Peden (2008). World Report on Child Injury Prevention (بزبان انگریزی). عالمی ادارہ صحت. p. 128. ISBN:9789241563574. Archived from the original on 2 فروری 2017.