ماموں یا چچا کا قتل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ماموں یا چچا کا قتل کسی آدمی یا عورت کی جانب سے اپنے ہی سگے ماموں یا سگے چچا کا قتل کیا جانا ہے۔ یہ خوں ریزی تاریخ میں کئی بار ہو گئی ہیں اور یہ جرم جدید دور میں بھی انجام پاتا ہے۔[1]

تاریخی مثالیں[ترمیم]

یہ قتل کی وارداتیں تاریخ میں کئی بار ہو گئی ہیں اور یہ جرم جدید دور میں بھی انجام پاتا ہے، تاریخی اعتبار سے علاء الدین خلجی، جلال الدین خلجی کا بھتیجا اور داماد بھی تھا۔ وہ صوبہ اودھ میں کڑہ کا حاکم مقرر کیا تھا۔ اس نے 1294ء میں دیوگری کے راجا رام چندر پر حملہ کر دیا۔ راجا نے شکست کھائی اور بہت سا زر و مال اور ایلچ پور کا علاقہ علاؤ الدین کے حوالے کرنا پڑا۔ جب جلال الدین اپنے بھتیجے کی فتح کی خبر سن کر ملاقات کے لیے آیا تو علاؤ الدین نے اسے قتل کر دیا اور پھر اس کے تمام خاندان کا خاتمہ کر کے خود بادشاہ بن گیا تھا۔ اس طرح سے یہ بھی چچا ہی کا ایک قتل تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

مزید پڑھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]