مجسمہ اتحاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


مجسمہ اتحاد
Statue of Unity.jpg
مجسمہ اتحاد
متناسقات 21°50′17″N 73°43′09″E / 21.8380°N 73.7191°E / 21.8380; 73.7191متناسقات: 21°50′17″N 73°43′09″E / 21.8380°N 73.7191°E / 21.8380; 73.7191
مقام ضلع نرمدا، گجرات، بھارت
ڈیزائنر رام وی ستر
قسم مجسمہ
مواد Steel framing, reinforced concrete, کانسی cladding[1]
اونچائی
  • مجسمہ: 182 میٹر (597 فٹ)
  • بنیاد سمیت: 240 میٹر (790 فٹ)[1]
تاریخ آغاز 31 اکتوبر 2013 (2013-10-31)
تاریخ افتتاح 31 اکتوبر 2018؛ 7 مہینہ قبل (2018-10-31)
وقف کو بھارت

مجسمہ اتحاد (انگریزی: Statue of Unity) بھارت کے سیاستدان ولبھ بھائی پٹیل1875–1950) کے مجسمہ کو کہا جاتا ہے جسے گجرات کے نرمدا ضلع میں نصب کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے طویل مجسمہ ہے جس کی انچائی 182 میٹر (597فٹ) ہے۔ یہ امریکہ کے مجسمہ آزادی سے دوگنا بڑا ہے۔ سردار پٹیل تحریک آزادی ہند کے ایک اہم رہنما ہیں اور بھارت کے پہلے نائب وزیر اعظم بھی۔انہوں نے بھارت کی نوابی ریاست کو متحد کر کے سب کو بھارت کی سیاسی حد میں شامل کردیا اور اب وہ ساری ریاستیں بحارت کا حصہ ہیں۔ یہ ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ ان کا مجسمہ ندی کے ایک جزیرہ پر ہے جس کا رخ نرمدا باندھ کی جانب ہے۔ اسے سردار سروور باندح کہا جاتا ہے اور یہ وڈودرا کے 100 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ یہ مجسمہ اور اور اس کے آس پاس کی جگہ 2 ہیکٹر (4،9 ایکر) پر محیط ہے اور اس کے چاروں طرف 12 مربع کلومیٹر مصنوعی ندی جھیل ہے۔ اس مجسمہ کی تعمیر لارسین اینڈ ٹربو نے کی ہے جسے ₹2,989 کڑوڑ کا ڈیزائن، تعمیر اور دیکھ ریکھ کانٹریکٹ ملا تھا۔ اس کی تعمیر کا آغاز 31 اکتوبر 2014ء کو ہوا اور 2018ء کے وسط اکتوبر میں مکمل ہوا۔ اسے رام وی سوتر کے ڈیزائن کیا ہے۔ زائرین اس کا ٹکٹ سردار ولبھ بھائی راشٹریہ ایکتا ٹرسٹ کی ویبسائٹ سے آنلائن حاصل کرسکتے ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

ولبھ بھائی پٹیل was one of the founding fathers of the بھارت
Aerial view of the Statue of Unity, 2018.

اس پروجیکٹ کا اعلان 7 اکتوبر 2010 کو کیا گیا تھا۔[2] حکومت گجرات نے تعمیر مجسمہ کے واسطے سردار ولبھ بھائی راشٹریہ ایکتا ٹرسٹ کو تشکیل دیا۔ [3] جسمہ کی تعمیر کی تائید کے لئے مجسمہ اتحاد کی تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کے تحت بھارتی کسانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ مجسمہ کے لئے ضروری لوہا بطور چندہ دیں۔ [4][5][6] نتیجتا 5000 ٹن لوہا جمع کیا گیا۔ [7][6] حالانکہ شروع میں کہا گیا تھا کہ یہ لوہا مجسمہ میں استعمال ہو گا مگر بعد میں یہ فیصلہ ہوا کہ یہ لوہا کسی اور پروجیکٹ میں زیر استعمال لایا جائے گا۔ [8][بہتر ماخذ درکار] تحریک مجسمہ اتحاد نے “سوراج“ پٹیشن منعقد کیا جس پر 20 ملین لوگوں نے دستخط کئے۔ یہ دینا کی سب سے بڑی پٹیشن ہے۔ [5] 15 دسمبر 2013ء کو اتحاد کی دوڑ کے نام سے ملک بھر میں ایک میراتھن کا انعقاد کیا گیا۔

منصوبہ[ترمیم]

یہ مجسمہ سردارولبھ بھائی پٹیل کا ہے۔ وہ تحریک آزادی ہند کے ایک اہم رہنما ہیں اور بھارت کے پہلے نائب وزیر اعظم بھی ہیں۔ اس کی تعمیر سادھو بیت نامی جزیرہ پر کی گئی ہے جو جائے وقوع سے 3۔2 کلومیٹ کی دوری پر واقع ہے۔ جسمہ کی کل لمبائی 240 میٹر ہے۔ اس کی بنیاد 58 میٹر طویل ہے اور اصل مجسمہ 182 میٹر طویل ہے۔ اس کی تعمیر میں اسٹیل فریمنگ، سیمینٹ کانکریٹ اور کانسہ کلیڈنگ کا استعمال ہوا ہے۔ [1] اس میں 75000 کیوبک میٹر کانکریٹ، 75000 ٹن اسٹیل اور 22500 ٹن کانسہ کا استعمال ہوا ہے۔ [9][10][11]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Gujarat: Sardar Patel statue to be twice the size of Statue of Liberty"۔ CNN-IBN۔ مورخہ 31 اکتوبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2013۔
  2. "For iron to build Sardar Patel statue, Modi goes to farmers"۔ The Indian Express۔ مورخہ 1 نومبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2013۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  3. "Statue of Unity: 36 new offices across India for collecting iron"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ مورخہ 1 نومبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2013۔
  4. Hiral Dave۔ "For iron to build Sardar Patel statue, Modi goes to farmers"۔ The Indian Express۔ مورخہ 14 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 نومبر 2018۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  5. ^ ا ب "The Indian Republic"۔ The Indian Republic۔ مورخہ 3 دسمبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2013۔
  6. ^ ا ب "Pan-India panel for Modi's unity show in iron"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 18 نومبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2013۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  7. "Statue of Unity: 36 new offices across India for collecting iron"۔ The Times of India۔ مورخہ 31 اکتوبر 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2013۔
  8. "Farmers' iron not to be used for Sardar Patel statue"۔ dna۔ مورخہ 14 جولائی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جولائی 2014۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  9. "Gujarat govt issues Rs 2,97-cr work order to L&T for Statue of Unity"۔ Business Standard۔ مورخہ 27 اکتوبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اکتوبر 2014۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  10. "Statue of Unity to be unveiled in Gujarat on Wednesday"۔ The Economic Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2018۔
  11. "Burj Khalifa consultant firm gets Statue of Unity contract"۔ دی ٹائمز آف انڈیا۔ مورخہ 27 جولائی 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2013۔