محمد اسمٰعیل آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

محمد اسمٰعیل ( ۱۹۲۴ تا ۱۴ فروری ۲۰۱۰) سی پی برار کی ایک تحصیل باسم ( اکولہ ضلعا ضلع آکولا) میں پیدا ہوئے۔ تخلص آزاد، والد کا نام شیخ احمد تھا۔ اسلام کے داعی ،مبلغ اور عالم تھے۔ ہندوستان کے طول و عرض میں ، خاص طور پر جنوبی ہند اور ر شمال مغربی سرحدی علاقے ( موجودہ خیبر پختوں خواہ ) تبلیغی دورے کیے اور جلسوں اور مناظروں میں حصہ لینے کے علاوہ کئی لوگوں کو مسلمان کیا۔ صوبہ سرحد میں وقتاً فوقتاً قیام کے دوران تبلیغ کے ساتھ ساتھ تحریک ِ پاکستان کا کام بھی مستقل بنیادوں پر کیا۔ عربی ، فارسی ، انگریزی اور سنسکرت سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا جو آگے چل کر مطالعہ بین المذاہب اور اس سلسلے میں کئی اہم مضامین کی وجہ بنا۔ نابیناؤں کے لیے ان کے نمایاں کارناموں میں معیاری اردو بریل کا قاعدہ، Braille میں قرآن کی اشاعت کے علاوہ ایک مقالہ ’’ اسلامی معاشرہ اور نابینا افراد بھی شامل ہے۔

۴ جنوری ۲۰۰۹ کو Luis Braille کے دوسو سالہ سلگرہ کی تقاریب کے سلسلے میں پاکستان ڈسیبلڈ فورم Pakistan Disabled Forum کی جانب سے اردو اور عربی بریریل کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ایک شیلڈ پیش کی گئی۔

اسلام کو ہر دور میں خاموش مجاہدین اور جفاکش کارکنوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ اسلام کا چودہ سو سالہ شکوہ اور علمی رعب اور وقار انھی خاموش کارکنوں کی محنت اور جفاکشی کا صلہ ہے۔ یہ خدامِ اسلام ہر عہد میں مکمل کمٹمنٹ اور انتہائی جفاکشی کے ساتھ مختلف محازون پر سرگرم رہے۔ خصوصاً علمی محاذ پر ان کی کاوشیں اور دعوتی محاذ پر ان کی خدمات ہر عہد میں نظریاتی وابستگی رکھنے والوں لیے مشعلِ راہ ثابت ہوتی رہیں گی۔آزاد صاحب ان ہی گمنام کارکنوں میں سے ایک تھے ، جن کی خدمات عشروں پر پھیلی ہوئی ہیں اور جن کے نتائج اور ثمرات سے بہت سے حوالوں سے آج بھی ہم متمتع ہورہے ہیں۔

— اداریہ۔ ماہنامہ تعمیرِ افکار کراچی پاکستان۔ اشاعتِ خاص بیاد مولانا محمد اسمٰعیل آزاد۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ جنوری فروری ۲۰۱۱ مطابق صفر ربیع الاول ۱۴۳۲ھ)

حیات و خدمات[ترمیم]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نام محمد اسمٰعیل اور تخلص آزاد، والد کا نام شیخ احمد تھا، ۱۹۲۴ میں سی پی برار کی ایک تحصیل باسم ( ضلع آکولا) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم باسم ہی میں حاصل کی، وہیں ایک دینی استاد مولانا غفور محمد حضرت سے تعلق پیدا ہوا جو دیو بندی عقیدے کے سیدھے سادے عالم تھے، جنھوں نے انھیں ساری زندگی کے لیے ایک پختہ عقیدہ اور لائحہ عمل عطا کیا۔ اللہ تب العزت کی وحدانیت اور اس کے[1] کی بشریت، ختمِ رسالت، حرمت اور معصومیت پر پختہ یقین اور بدعات سے بریت، اس عقیدے کے خاص جزو تھے۔ نوجوانی میںحیدرآباد آگئے، اور ایک پیر صاحب کی مریدی اختیار کی۔ دینی استاد کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ پیر صاحب کا سات سالہ ساتھ بھی انھیں اس عقیدے سے متزلزل نہیں کرسکا۔ اس عقیدے کا شاخسانہ سرسید احمد خان کے خیالات سے ہم آہنگی اور مسلم لیگ کے ساتھ سیاسی ہمدردی تھا جو مرتے دم تک ان کے ساتھ رہا۔ صوبہ سرحد میں وقتاً فوقتاً قیام کے دوران تبلیغ کے ساتھ ساتھ تحریک ِ پاکستان کا کام بھی مستقل بنیادوں پر کیا۔

شخصیت[ترمیم]

اللہ رب العزت پر یقین کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی انسان( جس میں ان کی اولاد بھی شامل ہے) کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کیا۔ جو ملا صبر و شکر کے ساتھ کھایا، نہیں ملا تو بھوکے رہے۔ ایک بچے کے ٹائیفائڈ جیسے موذی مرض میں بھی ایک خیراتی شفا خانے سے دوا لیتے وقت جب کمپاوئنڈر نے یہ کہا کہ یہ دوا فلاں جماعت کی طرف سے ہے تو اسی وقت دوا زمین پر انڈیل دی اور چلے آئے۔

اردو کے علاوہ انگریزی ، عربی، فارسی، سنسکرت، پشتو، بریل[2] اور مرہٹی پر عبور حاصل تھا، گویا ہفت زبان تھے۔ شاعری بھی کی اور اس ناطے شعری ذوق بھی بدرجہ اتّم موجود تھا۔

کارھائے نمایاں[ترمیم]

انھوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں اور خصوصاً شمال مغربی سرحدی صوبے میں ان گنت تبلیغی دورے کیے اور بے شمار جلسوں اور مناظروں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کو مسلمان کیا۔ ۱۹۴۸ میں سقوطِ حیدرآباد کے موقعے پر ایک ہندو غنڈے نانا پٹیل عرف پتری سرکار کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ بیس ماہ کی جیل کاٹ کر ہندوستان کی جیل سے رہا ہوئے تو پاکستان کی جستجو کی۔ اونٹ پر سوار ہوکر سرحد پار کی اور میر پور خاص پہنچے۔ پاکستان آکر پشاور میں سکونت اختیار کی لیکن بے قرار طبیعت نے چین سے بیٹھنے نہ دیا تو یہاں سے بھی صوبہ سرحد کے قبائیلی علاقوں کے کئی یادگار دورے کیے۔ ۱۹۵۰ میں پاکستان آتے ہی پیر صاحب اور پھر ۱۹۵۴ میں کراچی آکر تبلیغی کام دونوں کو خیر باد کہہ کر پرانی نمائش پر نابیناوں کے ایک اسکول [3] میں استاد ہوگئے۔ ۱۹۶۰ میں معلمی چھوڑکر ن[4] میں بریل پریس کے مینیجر کے طور پر ذمہ داری سنبھالی اور خوب سنبھالی۔ نمایاں کارناموں میں معیاری اردو بریل کا قاعدہ اور بریل میں قرآن شریف کیطباعت شامل ہیں۔ اس سے پہلے اردن اور سعودی عرب سے بریل قرآن شائع ہوچکا تھا لیکن اردن والے نسخے میں Punctuations انگلش والے استعمال ہوئے تھے اور سعودی نسخے میں سرے سے اعراب ہی نہیں تھے، جبکہ آزاد صاحب والے نسخے میں اردو بریل کے اعراب استعمال کیے گئے ۔ ۱۹۷۰ میں بریل قرآن مکمل کرچکے تھے جس کی تصحیح مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب نے فرمائی۔ تقریباً بیس سال نیشنل فیڈریشن فار دی ویلفیئر آف دی بلائینڈ کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد ۱۹۷۹ میں نیشنل بک فاونڈیشن میں بریل پریس کے مینیجر مقرر ہوئے۔

علمی کارنامے[ترمیم]

تحصیل علم[ترمیم]

کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا ۔ مطالعے کا شوق جنون کی حد تک تھا، جس کی ابتدا اپنے ماموں کی ذاتی لائبریری سے ہوئی اور پھر قیامِ حیدرآباد کے دنوں میں وہاں کی مشہور پبلک لائبریریوں سے خاطر خواہ اکتساب کیا۔ کئی یادگار تحریریں چھوڑی ہیں جن میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی کتاب [5] ( جو بعد میں [6] میں بھی شایع ہوئی، ’’ اسلامی معاشرہ اور نابینا افراد‘‘ ، ’’ حضرت ابوزر غفاری‘‘,[7] اور مذاہبِ عالم کے تقابلی مطالعے پر کئی قابلِ ذکر مضامین ( جو شش ماہی جریدہ السیرہ میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے) شامل ہیں۔ انھوں نے ایک اسلامی عالم، داعی حق، بہترین مقرر، بہترین استاد، مضمون نگار اور comparative religion کے طالب علم کی حیثیت سے ایک بھر پور زندگی گزاری،

ایک یادگار لیکچر[ترمیم]

مولانا محمد اسمٰعیل آزاد کا ایک یادگار لیکچر’’ عصر حاضر کے چیلنج اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ جو انھوں نے ہوٹل آواری ٹاور میں منعقدہ ایک سیمینار میں دیا۔ اس سیمینار میں آزاد صاحب کے علاوہ مولانا حنیف جالندھری، مولانا زاہد الراشدی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، مفتی منیب الرحمٰن اور پروفیسر عبدالجبار شاکر بھی موجود تھے[8]

تحریری سرمایہ[ترمیم]

فہرستِ کتب[ترمیم]

  1. خلیفہ بلا فصل ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
  2. انتخابِ لاجواب، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
  3. شہیدِ مظلوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
  4. حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا مسلک
  5. سیرتِ خیر البشر صلی اللہ علیہ و سلم
  6. اسلامی معاشرہ اور نابینا افراد
  7. معیاری اردو بریل کا قاعدہ
  8. اسلام میں حفظِ مراتب کے اصول
  9. سانحہ کربلا
  10. مرزائیوں کا المیہ

فہرستِ مضامین ( شائع شدہ)[ترمیم]

  1. ابراہیمی مذاہب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ ششماہی السیرہ ماہ ستمبر ۲۰۰۷
  2. انسانیت اور مذاہبِ عالم ماہنامہ تعمیرِ افکار ماہ جون ۲۰۰۱
  3. پروفیسر سید محمد سلیم صاحب کی یاد میں ۔ماہنامہ تعمیرِ افکار۔ مارچ اپریل ۲۰۰۷
  4. جسونت سنگھ کے الزامات یا اعترافات ماہنامہ تعمیرِ افکار ماہ اکتوبر ۲۰۰۹
  5. حضرت مجدد الف ثانی اور مولانا سید زوار حسین شاہ ماہنامہ تعمیر، افکار ماہ نومبر دسمبر ۲۰۰۸
  6. دیوبند کی کہکشاں کا درخشاں ستارہ ( بیاد علامہ محمد طاسین رحمۃ اللہ علیہ ) ماہنامہ تعمیر افکار ماہ جون جولائی اگست ۲۰۰۶
  7. سیرتِ خیر البشر ماہنامہ تعمیر افکار سیرت نمبر
  8. عیسائیت آغاز اور ارتقا۔ تاریخی جائزہ۔ ماہنامہ تعمیر ِ افکار ماہ جولائی ۲۰۰۰
  9. عیسائیت آغاز اور ارتقا۔ تاریخی جائزہ۔ ماہنامہ تعمیر ِ افکار ماہ دسمبر ۲۰۰۰
  10. عیسیٰ علیہ السلام اناجیل کی روشنی میں۔ ماہنامہ تعمیر ِ افکار ماہ دسمبر ۲۰۰۰
  11. کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بائیو گرافی آف دی پرافٹ ایک مطالعہ۔ مطبوعہ ششماہی السیرہ ماہ مارچ ۲۰۰۷
  12. مذاہبِ عالم کا تقابلی جائزہ ۔ ماہنامہ تعمیرِ افکار اپریل ۲۰۰۱
  13. مذاہبِ عالم کا مستقبل۔ماہنامہ تعمیرِ افکار ۔ مئی ۲۰۰۱
  14. مرزائیوں کا المیہ۔ ماہنامہ تعمیرِ افکار۔ اپریل ۲۰۱۰
  15. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و اوصاف، اقوامِ عالم کی مذہبی کتب میں۔مطبوعہ ششماہی السیرہ۔ اکتوبر ۲۰۰۵
  16. وحدتِ انسانی اور ادیاںِ عالم۔ ماہنامہ تعمیرِ افکار۔ ماہ جولائی ۲۰۰۱
  17. وحدتِ انسانیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ ایک خدائی منصوبہ۔ ششماہی السیرہ۔ ماہ ربیع الاول ۱۴۳۰ھ

بیرونی روابط[ترمیم]

فسانہ آزاد : محمد اسمٰعیل آزاد کی سوانح حیات

نوٹ: یہ مضمون زوار اکیڈمی کے رسالے تعمیر افکار کی اشاعتِ خاص بیاد مولانا محمد اسمٰعیل آزاد رحمہ اللہ شمارہ جنوری فروری ۲۰۱۱ئ مطابق صفر ربیع الاول ۱۴۳۲ ھ میں شایع ہوا