محمود سرحدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا محمود سرحدی
پیدائش عبدالطیف
1913ء
مردان
پیشہ اردو شاعری
زبان اردو
قومیت برطانوی ہندوستانی (1913ء-1947ء) اور
پاکستانی
شہریت پاکستانی

مرزا محمود سرحدی (1913ء-1967ء) اردو شاعر تھے۔ محمود سرحدی کا اصل نام عبد الطیف تھا۔ اان کی پیدائش مردان کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی طور فوج میں ملازمت کی، پھر جب فوج کی ملازمت چھوڑی تو شعبہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول پشاور میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے۔ اس کے بعد وہ علامہ مشرقی اسکول پشاور گئے اور کچھ عرصے بعد وہاں ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ اسکول میں طالب علمی کے زمانے سے ہی اردو اشعار لکھا کرتے تھے۔ اردو شاعری میں محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاح میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کے صورت حال کی مضحک تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایا کرتے جن میں طنزیہ عنصر گہرا پایا جاتا ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

محمود سرحدی کی زیادہ تر شاعر ارد گرد کے ماحول کو درپیش مسائل پر مبنی تھی، وہ ان مسائل کو طنزیہ انداز میں بھی بیان کرتے تھے اور مزاحیہ میں بھی۔ ان کے چند اشعار یہ ہیں:

کبھی تو ان کی حسینوں سے شکل ملتی ہے
کبھی پناه گزینوں سے شکل ملتی ہے
خدا کی شان ہے، وه ہیں مرے وطن کے جواں
کہ جن کی پرده نشینوں سے شکل ملتی ہے

کالے چشمے بھی ایک نعمت ہے
دھوپ میں خوب کام دیتے ہیں
جو نگاہیں ملا نہیں سکتے
رات دن ان سے کام لیتے ہیں

محتسب سے کہوں تو کیا جا کر
میری مانند وه بھی روتا ہے
پہلے ہوتا تھا دودھ میں پانی
آج پانی میں دودھ ہوتا ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]