مرتضی ساحل تسلیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرتضی ساحل تسلیمی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 30 جون 1953(1953-06-30)
وفات اگست 21، 2020(2020-80-21) (عمر  67 سال)
میٹرو اسپتال، دہلی
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ ناشر، مکتبہ الحسنات، جس کے تحت اردو رسالے الحسنات، نور، بتول ، ہلال اور ہندی کا رسالہ ہادی شائع ہوئے۔ مصنف
دور فعالیت 1978-2020
کارہائے نمایاں آخری تعاقب (افسانے)

مرتضی ساحل تسلیمی (1953ء-2020ء) کو مکتبہ الحسنات رامپور کے بانی عبدالحئ ملک صاحب نے عنفوان شباب سن 1978 میں رسالہ نور کا مدیر مقرر کیا اور ان کو بچوں کے لئے لکھنے کی ترغیب دی کچھ دنوں کے بعد مکتبہ الحسنات کے سارے رسالوں الحسنات، نور، بتول ، ھلال اور ہندی کا رسالہ ہادی کی ادارت بھی انکو مل گئ مرتضی ساحل کی ادارت میں رسالہ نور ادب اطفال کا برصغیر ہندوستان پاکستان کا مقبول رسالہ بن گیا نور کا ریڈیو نورستان اور خطوط کا کالم ایک منفرد پہچان کی وجہ سے خاص وعام میں بہت دلچسپی سے مطالع کیا جاتا تھا۔ ان کا تخلیقی سفر بہت کامیاب رہا۔ انھوں نے بچوں کے لئے کہانیاں نظمیں ڈرامے مضامین مزاحیہ نظمیں خواتین کے لئے اصلاحی افسانے نظمیں اسلامی مضامین اور اداریے تحریر کئے۔ ان کی بچوں کے لئے پچاس سے اوپر کتابیں ہیں تقریباً پچیس کتابیں افسانے شاعری ناول اور اسلامی و اصلاحی مضامین پر مشتمل ہیں۔[1]

قلمی سفر کا آغاز[ترمیم]

مرتضی ساحل تسلیمی محمد مرتضی کے طور پر سن 1972ء میں کلرک کی حیثیت سے ادارہ الحسنات سے وابستہ ہوئے۔ اس وقت محمود عالم ماہنامہ نور کے مدیر تھے اور ان سے پہلے مائل خیرآبادی ادارہ الحسنات کے رسالوں کے مدیر ہوا کرتے تھے۔ الحسنات کے مالک و مدیر مسئول مولانا ابو سلیم عبدالحئی کی نگاہوں کو محمد مرتضی کی سرگرمیوں میں ایک ادیب کی شخصیت نظر آئی۔ انہوں نے اس چھپی چنگاری کو شعلہ بنانے کا فیصلہ کرلیا اور محمد مرتضی کو کچھ لکھنے کی تلقین کی ۔ ان کی اس تحریک نے بہت جلد ہی محمد مرتضی کو مرتضی ساحل تسلیمی اور ایک کلرک کو ایک ادیب ( شاعر اور کہانی کار ) بنا دیا۔ [2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]