مندرجات کا رخ کریں

مرزا عیسیٰ خان ترخان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عيسي خان ترخان اول
حاکم سندھ
عہد1575ء (961ھ) تا 1587ء (973ھ)
پیشروشاہ حسن بيگ ارغون
جانشینمرزا باقی خان ترخان
وفات974ھ
ٹھٹہ
نسلمرزا محمد صالح ترخان، مرزا جان بابا ترخان، مرزا باقی خان ترخان
نام
مرزا عيسيٰ ترخان بن مرزا عبدالعلي ترخان بن ميرزا عبد الخالق ترخان بن ارغون خان
گھرانہآل ترخان
والدمرزا عبد العلی ترخان
مذہباسلام

مرزا عیسیٰ خان ترخان مرزا شاہ حسن ارغون کے بعد ٹھٹہ کی حکومت اور سلطنت پر متمکن ہوا۔[1] ترخان خاندان کے نسب کو امیر اخوتمر کی اولاد سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مرزا عیسیٰ ترخان کے والد مرزا عبد العلی، سلطان محمود (899ھ) بن مرزا ابو سعید (قتل 873ھ) کے عہد میں بخارا کے صوبیدار تھے۔ وہ شیبان خان کے خلاف جنگ میں اپنے بیٹوں سمیت قتل ہوئے۔ اس وقت مرزا عیسیٰ ترخان کم سن تھا، جس کی پرورش میر ذو النون ارغون نے کی۔ جب تک میر ذوالنون زندہ رہے، وہ انھی کی سرپرستی میں رہا۔

ابتدائی ایام

[ترمیم]

تاریخ طاہری میں مذکور ہے کہ مرزا عیسیٰ بیگ ترخان کے تخت نشین ہونے کے بعد وہ ارغون امرا، جو مرزا شاہ حسن کے دست راست تھے اور جنھوں نے عیسیٰ بیگ کو حکومت کے لیے منتخب کیا تھا، اس کی مخالفت میں سرگرم ہو گئے۔ کیبک خان، فرخ تیمور اور دیگر امرا نشے کی حالت میں مرزا عیسیٰ کی حویلی کے دروازے پر آتے، قالینوں کو گھوڑوں کے کھروں سے روندتے اور دروازے پر تیر و نیزے مارتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مرزا شاہ حسن کا خزانہ تمھارے پاس ہے، اسے ہمارے ساتھ تقسیم کرو۔ تاہم مرزا عیسیٰ بیگ نہایت حلم اور بردباری سے انھیں سمجھاتا اور جواب دیتا کہ اس کا مال و دولت سے کوئی تعلق نہیں۔

مرزا صالح ترخان کی جانشینی

[ترمیم]

مرزا عیسیٰ نے اپنے بیٹوں میں سے بڑے بیٹے مرزا صالح ترخان کو ولی عہد مقرر کیا اور مشکل مسائل کے حل اور ملکی امور کی انجام دہی، الغرض حکومت کی تمام باگ ڈور اسی کے سپرد کر دی۔ خود اپنے پاس رسمی بادشاہت کے سوا کچھ نہ رکھا۔[1] 14 شوال 961ھ کو اس نے سیوستان کا قلعہ محمود خان بکھری کے آدمیوں سے خالی کرا کے اپنے قبضے میں لے لیا۔ جب یہ خبر سلطان محمود خان کو پہنچی تو وہ لشکر جمع کر کے بکھر سے روانہ ہوا تاکہ مرزا صالح ترخان کو سبق سکھائے۔ دوسری جانب جب یہ اطلاع مرزا عیسیٰ ترخان کو ملی تو وہ بھی ٹھٹہ سے ایک بڑے لشکر کے ساتھ بکھر کی جانب روانہ ہوا تاکہ اسے فتح کرے۔ محرم الحرام 962ھ کے آغاز میں وہ بکھر کے نواح میں پہنچ گیا۔ سلطان محمود بھی ایک بڑا لشکر ساتھ لے کر مقابلے کے لیے آ گیا۔ دونوں فریقوں میں جنگ ہوئی اور دو تین مرتبہ جھڑپیں ہوئیں، جن میں کئی سپاہی مارے گئے۔ جب سلطان محمود میں مزید مقابلے کی طاقت نہ رہی تو وہ بکھر کے قلعے میں محصور ہو گیا۔ ادھر مرزا عیسیٰ ترخان نے قلعے کا سخت محاصرہ کر کے اسے تنگ کرنا شروع کیا، جس سے قلعے کے اندر لوگوں کے کاروبار اور روزمرہ زندگی میں شدید خلل پڑا۔ بالآخر سلطان محمود خان بکھری نے میر معصوم بکھری کے دادا سید میر کلاں کو مرزا عیسیٰ ترخان کے پاس بھیجا۔ انھوں نے حقوق آشنائی، دوستی اور اخلاص کا حوالہ دے کر درخواست کی کہ بکھر سلطان محمود کے پاس رہنے دیا جائے کیونکہ وہ ہندوستان کی سرحد پر واقع ہے اور درحقیقت اسی کا حق ہے، جبکہ سیوستان اپنے ما تحت ملازمین اور رشتہ داروں سمیت مرزا عیسیٰ ترخان کے قبضے میں رہے۔ اسی دوران خبر ملی کہ فرنگی لاہری بندر سے مرزا عیسیٰ ترخان کی فوج کی مدد کے لیے آئے تھے مگر انھوں نے ٹھٹہ شہر کو خالی پا کر لوٹ مار کی، بہت سے لوگوں کو قید کیا اور شہر کو آگ لگا دی۔ اس صورت حال کے پیش نظر مرزا عیسیٰ ترخان نے سلطان محمود بکھری کی درخواست قبول کرتے ہوئے نیا معاہدہ کر لیا۔ اس طرح جھگڑا ختم ہوا اور وہ مرحلہ وار ٹھٹہ واپس پہنچا، جہاں اس نے ملک کی عمارتوں کی مرمت اور آبادی کی بحالی کی کوشش کی اور اطمینان کے ساتھ حکومت کرتا رہا۔ پرتگیزیوں کی جانب سے ٹھٹہ کی لوٹ مار کا واقعہ 963 (1556ء/1557ء) میں پیش آیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا عیسیٰ ترخان اول نے بکھر کے حاکم سلطان محمود کوکلتاش پر حملہ کرنے کے لیے پرتگیزیوں سے مدد طلب کی تھی۔ پرتگیزیوں کا اکیس کشتیوں پر مشتمل تقریباً سات سو جنگی سپاہیوں کا لشکر پیڈرو بیریٹو کی قیادت میں لاہری بندر سے دریائے سندھ کے راستے ٹھٹہ پہنچا۔ لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی سلطان محمود کوکلتاش اور مرزا عیسیٰ ترخان اول کے درمیان صلح ہو چکی تھی۔ یہ خبر سن کر پرتگیزی کمان دار پیڈرو بیریٹو مشتعل ہو گیا اور اس نے ٹھٹہ شہر میں داخل ہو کر لوٹ مار اور قتل عام شروع کر دیا۔ اس حملے میں آٹھ ہزار افراد مارے گئے اور تقریباً دو ملین پاؤنڈ (بیس لاکھ پاؤنڈ) مالیت کا مال لوٹ لیا گیا جبکہ پورا شہر جلا کر خاک کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایشیا میں اس درجے کی لوٹ مار اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی اور پیڈرو بیریٹو کے لشکر کا ایک بھی آدمی ہلاک نہیں ہوا۔[2]

مرزا باقی کی سرکشی

[ترمیم]

967ھ کے آغاز میں مرزا محمد باقی اپنے والد کے خلاف باغی ہو گیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ والد کا بڑا بیٹا اور ولی عہد ہے۔ اصولاً مرزا صالح ولی عہد ہونا چاہیے تھا تاہم حالات جنگ تک پہنچ گئے۔ مرزا محمد باقی لڑائی میں شکست کھا کر سوڈھوں کی رہائش گاہ وَنگی کی طرف چلا گیا۔ وہاں اس کے ساتھ جو ارغون وابستہ تھے، وہ بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئے اور عمرکوٹ اور جیسلمیر کے راستے بکھر پہنچے۔ یہاں میرزا باقی کو سلطان محمود بکھری سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ سلطان محمود نے اسے مہربانی کے جذبات کے ساتھ قبول کیا، نوازشیں کیں اور اس کے احترام میں تواضع کی۔ میرزا عیسیٰ ترخان نے صرف میرزا محمد صالح ترخان کی حمایت کے لیے محمد باقی کے بیٹے کو بھی ٹھٹہ سے بکھر بھیج دیا۔ اگرچہ میرزا محمد باقی نے ہندوستان جانے کی بھرپور کوشش کی لیکن سلطان محمود خان نے اس خیال سے روکا کہ کہیں ہندوستان سے کوئی لشکر یہاں نہ آ جائے اور وہ لشکر بکھر سے گذر کر ملک کے نظام میں خلل نہ ڈال دے۔[1]

مرزا محمد صالح کا قتل

[ترمیم]

970ھ میں مرزا محمد صالح ترخان کو مرید نامی ایک بلوچ نے قتل کر دیا۔ قتل کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ مرزا صالح نے اس بلوچ کے قبیلے کو ڈکیتی کے الزام میں سخت سزا دی تھی۔ مرید بلوچ نے داد خواہی کے بہانے راستے میں عرضی پیش کرنے کے لیے مرزا کے قریب آ کر اچانک خنجر گھونپ دیا، جس سے مرزا صالح جانبر نہ ہو سکا۔[1]

مرزا باقی کی معافی

[ترمیم]

مرزا صالح کے قتل کے بعد مرزا عیسیٰ ترخان نے اپنے بیٹے مرزا جان بابا کو ولی عہد مقرر کیا۔ کچھ دن بعد سلطان محمود بکھری نے مرزا باقی کے جرائم معاف کرنے کی درخواست کی جو قبول نہ ہوئی۔ کچھ امرا جو میرزا محمد باقی کے حامی تھے، نے مرزا عیسیٰ سے کہا کہ گفتگو کے آداب کے مطابق یہ مناسب نہیں کہ آپ کا فرزند سلطان محمود کا ملازم ہو۔ مرزا عیسیٰ نے غیرت کے تحت سر جھکا کر شیخ عبد الوهاب پورانی اور میر یار محمد (جو مرزا عیسیٰ ترخان کا بھانجا تھا) کو مرزا محمد باقی کو لے آنے کے لیے بھیجا۔ یہ دونوں مرزا محمد باقی کو لے آئے اور مرزا عیسیٰ کی خدمت میں پیش ہوئے۔ مرزا عیسیٰ نے اسے سيوستان میں اس کی جاگیر میں مقرر کر کے رخصت کیا۔[1]

ارغونوں کی سرکشی

[ترمیم]

مرزا عیسیٰ بیگ نہایت صابر اور بردبار تھا مگر ارغونوں نے اس کے ساتھ بے وفائی اور سرکشی کی، مخالفت اور جنگ کے میدان میں قدم رکھا۔ آخرکار جب صلح کے بعد ارغون دریا پار کر رہے تھے، تو مرزا عیسیٰ کے لوگوں نے اچانک آتش بازی کی جس کے نتیجے میں ان کے کئی افراد ہلاک ہو گئے اور باقی بچ جانے والے شکست کھا کر پریشان حال بکھر آ گئے اور سلطان محمود سے مدد کی درخواست کی۔ سلطان محمود نے ہر ایک کو گھوڑا اور خلعت سے نوازا اور اپنے قریبی نوکروں کے ساتھ انھیں سيوستان روانہ کیا۔ سلطان محمود کے لوگوں نے ارغونوں کے ساتھ مل کر سيوستان کے قلعے کا محاصرہ کیا۔ ایک دو بار قلعہ پر چڑھائی بھی کی مگر کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد مرزا عیسیٰ ترخان بھی ایک بڑے لشکر کے ساتھ ٹھٹہ سے روانہ ہوا۔ اس نے پہلے ایک فوج بھیجی تاکہ دشمن کی فوج کو قلعے سے دور نکالیں اور پھر ان کے پیچھے چلیں۔ گوٹھ رفیان میں دونوں لشکروں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی اور سلطان محمود کے کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ مرزا عیسیٰ ترخان پیچھے ہٹ گیا اور گوٹھ دربیلی کے نزدیک قیام کیا جہاں اس نے قلعہ تعمیر کر کے جنگ کی۔ آخرکار ماہ بیگم اور شیخ عبدالوهاب پورانی کی وساطت سے صلح ہوئی۔ اس کے بعد مرزا عیسیٰ ترخان واپس ٹھٹہ چلا گیا۔

وفات

[ترمیم]

974ھ میں مرزا عیسیٰ ترخان وفات پا گیا۔ وفات سے کچھ وقت قبل اس کی خواہش تھی کہ ارغون، ترخان اور ملک کے امرا و حکام کو بلا کر یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ مرزا جان بابا کی ولی عہدی کی تعمیل کریں مگر ماہ بیگم نے یہ اجازت نہ دی اور مرزا باقی کو پیغام بھیج کر اسے گھر بلا لیا۔ مرزا عیسیٰ ترخان نے چودہ سال حکومت کی۔[1] مکلی میں ان کے مقبرے کے کتبے پر وفات کی تاریخ 973ھ درج ہے۔ وہ کوہ مکلی کے کنارے عبد اللہ اصحابی کے مزار کے مشرق میں واقع ایک احاطے کے اندر دفن ہیں۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 سيد مير محمد بن جلال ٺٽوي۔ سيد حسام الدين راشدي (مدیر)۔ ترخان نامو (بزبان سندھی)۔ ترجمہ از ميرزا عباس علي بيگ (پہلا 1994، دوسرا 2005 ایڈیشن)۔ ڄام شورو: سنڌي ادبي بورڊ
  2. محمد عبد الغفور (2004)۔ ٺٽي جا ڪاتب (بزبان سندھی) (پہلا ایڈیشن)۔ سنڌي ادبي بورڊ۔ ص 12–13
  3. "Isa Khan Tarkhan I, Thatta". Endowment Fund Trust for Preservation of the Heritage of Sindh (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-02-27.