مصنوعی چاند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مصنوعی چاند[ترمیم]

تعارف[ترمیم]

چین کے جنوب مغربی شہر کی انتظامیہ نے مصنوعی چاند متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو آسمان پر چمکے گا اور ابتدائی اندازوں کے مطابق 10 سے 80 کلومیٹر قطر کے علاقہ تک روشنی بھی بکھیرے گا ۔ یہ چاند ایک سیٹیلائٹ ہو گا جسے چین کے شہر چینگ ڈو کے آسمان پر معلق کیا جا ئے گا اور اس چاند کو 2020 میں سب کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔اسے چینگ دو ایئرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مائیکروالیکٹرانکس سسٹم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے اور اُن کے مطابق یہ چاند اصل چاند سے آٹھ گنا زیادہ روشن اور اس کی چاندنی شام کی ملگجی روشنی کی طرح ہو گی۔فرانسیسی مصور کے زمین کے اوپر دائرے میں شیشے لٹکانے کا تصور مصنوعی چاند کے منصوبے کی بنیاد بنا۔چینی ذرائع نے بتایا کہ دمکنے والا سیٹلائٹ کئی برس قبل تیار ہوا تھا اور اب وہ آزمائشی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ چینی سائنسدانوں نے سولر پینل جیسے آئینوں پر خاص قسم کی کوٹنگ کی ہے جو سورج کی روشنی کو انتہائی درجے تک منعکس کرکے چینگ دو شہر کی جانب بھیجے گی۔ یہ سیٹلائٹ چین کے قریب رہتے ہوئے مدار میں گردش کرے گا اور خود چین کی سرزمین سے بھی آسمان پر دمکتا دکھائی دے گا۔ لیکن اس کے راکٹ اور خلائی منصوبے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم سیٹلائٹ کے آئینوں پر کام کرنے والے ادارے کے سربراہ کینگ وائماں نے کہا ہے کہ یہ روشنی بہت مدھم ہوگی اور رات کو دن میں نہیں بدلے گی۔البتہ ماہرین نے یہ ضرور کہا ہے کہ روشنی چودھویں کے چاند سے کئی گنا زائد ہوسکتی ہے۔ سورج کی روشنی کو دنیا میں منعکس کرنے کے لیے اس مصنوعی چاند بنانے کے لیے زمین سے 500 کلومیٹر کی اونچائی پہ دیوہیکل آئینے بھیجے جائیں گے جو سیٹلائٹ سے منسلک ہوں گے،جن کی مدد سے یہ سیٹلائٹ 24 گھنٹے مسلسل روشنی فراہم کریں گے۔ ان آئینوں پہ کی کوٹنگ جائے گی تاکہ سورج کی زیادہ سے زیادہ روشنی کو منعکس کرسکیں، زمین سے انہیں کنٹرول بھی کیا جاسکے گا تاکہ مخصوص علاقوں پہ روشنی ڈالی جاسکے۔ یہ مصنوعی چاند پورے چین میں دکھائی دے گا لیکن روشنی صرف 80 کلومیٹر کے علاقے کو ہی فراہم کرسکے گااور اس نوعیت کے کُل 3 مصنوعی چاند سال 2022 تک خلاء میں بھیجنے کا ہدف قائم کیا گیا ہے۔شہر کے سسٹم سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ وُو چُن فِنگ نے موضوع سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مدار میں سیٹنگ، کھُلنے اور روشنی منعکس کرنے جیسے پروگراموں کے کنٹرول کے بعد سال 2020 میں مصنوعی چاند مکمل ہو جائے گا۔ ۔یہ سیٹلائٹ سورج سے لے کر جو روشنی دنیا میں منعکس کریں گے وہ 3 ہزار 600 سے لے کر 6 ہزار 400 مربع کلو میٹر تک کے علاقے کو روشن کریں گے۔اس مصنوعی چاند میں روشنی کی مقدار کو سیٹ کیا جا سکے گا اور زمین پر انسان اسے صرف ایک ستارے کی شکل میں دیکھیں گے۔

فائدے[ترمیم]

یہ مصنوعی چاند گلیوں میں روشنی کے لیے لگائی گئی لائٹوں کا متبال ثابت ہو گا۔اس کے بعد سڑکوں کی روشنیوں کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ چاند خاص طور پر سول مقامات کو روشن کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے اور ان کی مدد سے 1.2 بلین ین مالیت کی بجلی کی بچت ہو گی۔ اس پراجیکٹ کا اعلان بجلی کی بچت کے لیے کیا گیا ہے تاکہ رات کو اسٹریٹ لائٹس پہ صرف ہونے والی بجلی بچائی جاسکے، اندازہ ہے کہ شینگ دو شہر اس منصوبے سے 23 ارب روپے سالانہ بچت کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی ایک خاص تعداد بھی اپنی جانب کھینچے گا۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا پروجیکٹ ہوگا جو بجلی بجائے گا اور آلودگی کا خاتمہ کرے گا۔ہر علاقے میں روشنی کو مرضی کے مطابق کم یا زیادہ بھی کیا جا سکے گا. 50 مربع کلومیٹر کے علاقہ کو مصنوعی چاند سے روشن کرنے سے سالانہ پونے دو کروڑ ڈالر کی بجلی کی بچت ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ یہ چاند کسی تباہی،مچلاَ۔ زلزلے۔کے بعد بجلی کی فراہمی سے محروم علاقوں کو بھی روشن کر سکے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ منسوبہ واقعی طویل مدت کے لیے سستا پڑے گا۔ باربن انسٹی ٹیوٹ اف ٹیکنالوجی کے ڈائرکٹر کانگ وائیفن نے کہا کہ یہ چاند صبح کی روشنی کی مانند مدھم ہو گا اور اس سے جانوروں کی عادات پر فرق نہیں پڑے گا۔

تنقید[ترمیم]

چینگ ڈو کے مصنوعی چاند کے منظرِ عام پر آنے سے پہلے ہی اس پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔نظامِ شمسی کے ماہرین ،ڈاکٹروں اور مقامی لوگوں کے مطابق اس سے ماحولیات اور جانوروں پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔رات کے وقت سیٹلائٹ سے مسلسل روشنی شہریوں کی قدرتی جسمانی گھڑی اور معمولات کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس طرح ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں. جبکہ اس شہر کے باشندے ستارے اور دیگر مظاہر فلکیات دیکھنے سے بھی محروم ہوجائیں گے۔کیا چینیوں نے سوچا ہے کہ اس چاند کا چکور پر کیا اثر پڑے گا؟ سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف گلاسگو میں سپیس سسٹمز انجینیئرنگ کے لیکچرر ڈاکٹر میٹیو سیریوٹی کہتے ہیں کہ سائنسی نقطۂ نظر سے یہ بالکل ممکن ہے۔tاہم کسی مخصوص علاقے کو روشن کرنے کے لیے اس چاند کو جیو سٹیشنری مدار میں رہنا پڑے گا جو زمین سے 37 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ڈاکٹر سیریوٹی کے مطابق اتنے فاصلے سے چاند کو چلانے میں دو مسائل آڑے آئیں گے۔ ایک تو یہ کہ اس چاند کا حجم بےحد بڑا ہونا چاہیے، دوسرے یہ کہ اس کا رخ بالکل درست ہونا چاہیے ورنہ یہ کسی اور علاقے پر روشنی ڈالنے لگے گا۔ تاہم چینی سوشل میڈیا کے صارفین نے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ بعض لوگوں نے لکھا کہ اس سے جانوروں کی رات دن کی عادات متاثر ہوں گی کیوں کہ انھیں پتہ نہیں چلے گا کہ رات ہے یا دن۔

ماضی کی کوششیں[ترمیم]

خیال رہے کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو رہا کہ انسان نے ایسی کوشش کی ہو لیکن ایسی کی گئی ہر کوشش کا اختتام ناکامی پر ہوا۔اس سے قبل چین نے بھی خلائی اسٹیشن میر پر 25 میٹر قطر کا خلائی آئینہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سائبیریا کے تاریک اور سرد علاقوں کو منور کیا جاسکے لیکن بعض تکنیکی وجوہ کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ اس سے قبل فرانسیسی ماہر نے بھی زمین کے اوپر آئینوں سے بھرپور ایک ہار کا خیال پیش کیا تھا جس سے پیرس کو پورے سال تک روشنی دینے کی بات کی گئی تھی۔ہ 20 سال قبل روس نے بھی خلا میں 25 میٹر قطر کا خلائی آئینہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سائبریا کے تاریک اور سرد علاقوں کو منور کیا جاسکے لیکن اس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اوریہ خلائی آئینہ جل کر راکھ ہو گیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

https://urdu.geo.tv/latest/191742-

https://www.express.pk/story/1384894/509/

http://www.trt.net.tr/urdu/sht-sy-ns-w-ttykhnlwjy/2018/10/18/chyn-khl-myn-msnw-y-chnd-bhyj-rh-hy-1071288

https://urdu.arynews.tv/china-plans-to-launch-artificial-moon-bright-enough-to-replace-citys-streetlights-by-2020/

http://www.technologyreview.pk/a-chinese-city-plans-to-replace-street-lights-with-its-own-moon/?lang=ur

https://www.bbc.com/urdu/science-45901326

http://urdu.abbtakk.tv/%DA%86%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B5%D9%86%D9%88%D8%B9%DB%8C-%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%AE%D9%84%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AC%D9%86%DB%92/