معاشریات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

معاشریات (انگریزی: Sociology)، انسانی سماج اور اجتماعات (معاشروں) کا مطالعہ ہے۔ لوگ اکثر معاشریات اور معاشرتی علوم کو ایک ہی مان بیٹھتے ہیں لیکن معاشریات درحقیقت معاشرتی علوم کی ایک شاخ ہے۔ اس میں کئ آخباخت تحقیقات، تجزیات اور زاوؤں کا استعمال ہوتا ہے جن سے انسانی معاشرے، سماجی ڈھانچے اور متعلقہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اکثر معاشرتی سائنسدانوں کے سامنے معاشریات کا مقصد سماجی بہبود کے عمل میں ایسے علم کو لاگو کرنا ہوتا ہے جس سے انسانی معاشرے کے خردی اور کبیری اجزاء میں ترقی ہو۔

معاشریات ہر اعتبار سے ایک وسیع موضوع ہے۔ روایتی طور پر اس کی کا محور سماجی اور اجتماعائ طبقہ جات ، تعلقات، روابط، مذہب، ثقافت اور چلن پر ہوتا رہا ہے۔ اس کے نقطہ نظر میں معیاری اور مقداری تحقیقات، دونوں شامل ہیں۔ چونکہ، زیادہ تر انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، وہ معاشریات کے ذریعہ سمجھایا جا سکتا ہے اس لۓ معاشریات نے اپنا دھیان دھیرے دھیرے دیگر سماجی موضوعات پر مرکوز کر دیا ہے مثلا طب، فوج، سزا و جرمانہ، جالبین اور سائنسی علوم کی تعمیر و نو میں بھی اسکا ایک کردار ہے۔

معاشرتی علوم کے سائنسی طریقہ کار میں بھی قابل ذکر توسیع ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کی وسط کی لسانی اور ثقافتی تبدیلیوں میں ساماج کے مطالعے کیلئے تشریحاتی اور فلسفاتی نقطہ نظر کو تیزی سے فروغ ملا۔ اس کے برعکس، حالیہ دہائی میں اس مطالعے کے لۓ نئے تجزیاتی، ریاضیاتی اور آلاتیاتی طریقہ کار کے استعمال کا اندراج دیکھا گیا ہے مثلا معاشرتی جالکاری تجزیہ.

تاریخ[ترمیم]

مرکزی مضمون: تاریخ معاشریات

ماخذ[ترمیم]

معاشریات کے فیام سے قبل معاشرتی سوچ کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ معاشرتی تجزیہ، مغربی علم اور فلسفے کے مشترکہ اسٹاک میں سے نکلا ہے، اور افلاطون کے وقت میںن بھی اسکا استعمال ملتا ہے۔ سروے، یعنی افراد کے نمونہ جات سے معلومات حاصل کرنے کا طریقہ، 1086ء کی ڈومزڈے کتاب میں ملتا ہے، جبکہ کنفیوشس جیسے قدیم فلسفیوں نے بھی سماجی کرداروں کی اہمیت پر لکھا ہے۔ قرون وسطی اسلام میں بھی ابتدائی معاشریات کا ثبوت ہے۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ چودہویں صدی کے شمالی افریقی مسلم عرب سکالر، ابن خلدون پہلیے ماہر معاشریات تھے۔ انکی کتاب مقّدمہ پر انکا کام سماجی ہم آہنگی اور تنازعات پر پہلہ معاشرتی و سائنسی تجزیہ تھا۔

انگریزی کا لفظ "سوشیولوجی" لاطینی زبان سے حاصل ہوتا ہے جس کہ دو حصے "ساتھی" اور "مطالعہ" کے معنی رکھتے ہیں۔ اس لفظ کو سب سے پہلے ایک فرانسیسی مضمون نویس، عمانویل-جوزف سیایئس (1748ء تا 1836ء) نے 1780ء میں استعمال کیا۔ معاشریات کی وضاحت بعد میں فرانس کے سائنسی فلسفی، اگستی کومتے (1798ء تا 1857ء) نے 1838 میں آزادانہ طور پر کی۔ کومتےنے پہلے ہی "سماجی طبیعیات" کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن بعد میں اس اصطلاح کو دوسروں نے استعمال کرنا شروع کیا جن میں سب سے اہم بلجئیم کے احصاءگیر اڈولفی قیٹلے تھے۔ کومتے نے معاشرتی دائرے کی سائنسی تفہیم کے ذریعے تاریخ، نفسیات ، اور معیشت کو متحد کرنے کی کوشش ہے۔