مچھر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف

مچھر

ایک مادہ مچھر
ایک مادہ مچھر

اسمیاتی درجہ خاندان[1]  ویکی ڈیٹا پر صنف بندی درجہ (P105) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بندی
مملکت: Animalia
جماعت: حشراتa
طبقہ: Diptera
ذیلی طبقہ: Nematocera
الرتبة الفرعية: Culicomorpha
اعلی خاندان: Culicoidea
خاندان: Culicidae
Meigen, 1818 [2]
سائنسی نام
Culicidae[1]   ویکی ڈیٹا پر صنف بندی نام (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Johann Wilhelm Meigen ، 1818  ویکی ڈیٹا پر صنف بندی نام (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Subfamilies
Anophelinae
Culicinae
Toxorhynchitinae
التنوع
41 genera
See: List of mosquito genera
[[file:|16x16px|link=|alt=]]  ویکی ڈیٹا پر کومنز نگارخانہ (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مچھر (انگریزی: Mosquito) مکھی کی ایک قسم ہے۔

اقسام اور ارتقائی مراحل[ترمیم]

دنیا بھر میں ان کی 3،500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ مچھر کی زندگی چار ارتقائی مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ "انڈہ" "لاروا" "پیوپا" اور مکمل مچھر۔ ان کی افزائش عموما جوہڑوں، تالابوں، نالیوں یا پانی کی کسی بھی ذخیرے اور پودوں کے پتوں پر ہوتی ہے۔ ان کی زندگی کے پہلے تین مرحلے ایک سے دو ہفتے میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ مادہ مچھر ایک ماہ تک زندہ رہ سکتی ہے مگر عام طور پر اس کی زندگی ایک سے دو ہفتے تک ہوتی۔ ان کی افزائش اور زندگی میں ماحول کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔

خوراک[ترمیم]

مچھروں کی اصل خوراک پھلوں پھولوں کا رس ہے۔ خون کی ضرورت صرف مادہ مچھر کو ہوتی ہے۔ انڈے دینے کے لیے مادہ مچھر کو فولاد اور پروٹین کی ضرورت ہوتی جو یہ خون سے حاصل کرتی ہے۔ خون حاصل کرنے کے بعد مادہ مچھر آرام کرتی ہے جب تک کہ یہ خون ہضم نہ ہو جائے اور انڈے تیار نہ ہو جائیں۔ مچھروں کی بعض اقسام مسلسل چار گھنٹے تک اڑ سکتی ہیں اور رات بھر میں یہ بارہ کلیومیٹر تک کا سفر طے کر لیتے ہیں۔ ان کی زیادہ اقسام گرم مرطوب علاقوں میں پائی جاتی ہیں جہاں یہ سارا سال اپنی زندگی کا پہیا چلاتے رہتے ہیں۔ سرد موسم یہ اگرچہ غیر فعال ہو جاتے ہیں مگر مکمل ختم نہیں ہوتے ۔

مؤجب امراض[ترمیم]

مچھر دنیا میں انسانوں کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ سالانہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال 20 لاکھ لوگ اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں ڈینگی بخار "پیلا بخار" اور ملیریا سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں زیادہ تعداد افریقی اور ایشائی لوگوں کی ہوتی ہے۔ تاہم مچھر کا خون پینے کا عمل ایڈز جیسی مہلک بیماری کا سبب نہیں بنتا ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ وصلة : ITIS TSN  — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اکتوبر 2013 — عنوان : Integrated Taxonomic Information System
  2. Ralph Harbach۔ "Family Culicidae Meigen, 1818"۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)

بیرونی روابط[ترمیم]