میراں حسین زنجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید میراں حسین زنجانی ان قدیم اکابراولیاءمیں شمار ہوتا ہے جنہوں نے لاہور میں اسلام کا نور پھیلایا۔

شجرہ نسب[ترمیم]

میراں حسین زنجانی بن سید علی محمود بن ابو جعفر برقعی بن ابراہیم عسکری بن موسی ثانی بن ابراہیم بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن زین العابدین بن امام حسین بن علی

آبائی وطن[ترمیم]

آبائی وطن ایران کے مشہور تاریخی شہر زنجان ہے جو ایران کے شمال میں کوہ البرز کے دامن میں واقع ہے کسی زمانے میں یہ قصبہ تھا اب شہر کی صورت اختیار کر گیا۔

خاندان[ترمیم]

آپ کا خاندان امام حسین کی نسل سے سادات ہے تیسری صدی میں ایک بزرگ جو امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے بغداد سے زنجان میں آکر آباد ہو گئے ان کا نام ابو جعفر برقعی تھا جو آپ کے دادا تھے۔

ولادت[ترمیم]

ولادت 26 شعبان 347ھ زنجان میں ہوئی

والد گرامی[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی کے والد گرامی کا نام حضرت سید علی محمود تھا۔ آپ سید جعفر برقی کے بیٹے تھے۔ آپ زنجان میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر زنجان ہی میں حاصل کی پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ آپ اپنے چچا کے ہاں ”قم“ شریف لے گئے۔ آپ نے ”قم“ میں حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی جو اس وقت کے پیر طریقت تھے۔ اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ موسوی تحریر ہوا ہے۔ انہی کی صحبت سے آپ کو ظاہری و باطنی علوم کا فیض حاصل ہوا۔ آپ کی وفات زنجان میں ہوئی اور وہاں ہی دفن ہوئے۔ آپ نے سیدہ مریم صغریٰ سے شادی کی اور انہی سے آپ کی اولاد ہوئی۔[1]

لاہور میں قیام[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی نے چوالیس سال تک لاہور میں قیام فرمایا۔ اس عرصہ میں آپ کے شب و روز ذکر الٰہی اور تبلیغ اسلام میں گزرے۔ یہاں تک کہ آپ بیمار ہو گئے اور بستر علالت پردراز ہو گئے۔ مریدین اور عقیدت مندوں نے تیمار داری شروع کردی۔

رام چند کے ہاں قیام[ترمیم]

آخر ایک دن سید میراں حسین زنجانی کے سب سے بڑے عقیدت مند عبد اللہ جس کا قبول اسلام سے قبل نام رام چند تھا۔ اس نے عرض کی کہ شیخ میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں عبد اللہ نے درخواست اس لیے کی تھی تاکہ آپ کی گھر میں اچھی طرح تیمارداری کرسکے۔ اور یہ اعزاز دیں کہ ہم نے کچھ دن اللہ کے دوست کی خدمت کی۔

وفات[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی عبد اللہ کے جوش عقیدت اور شدت جذبات سے مجبور ہوکر اس کے گھر تشریف لے گئے۔ جہاں عبد اللہ کے بیوی بچوں نے دن رات آپ کی خدمت کی اور چند روز اس کے گھر پر قیام کرنے کے بعد آپ19 شعبان 431ھ میں آپ کی روح عالم خاکی سے عالم بالا کی طرف پرواز کرگئی۔

علی ہجویریؒ کا جنازہ پڑھانا[ترمیم]

غسل اور کفن دینے کے بعد جب 20 شعبان صبح کے وقت آپ کا جنازہ شہر سے باہر لایا جا رہا تھا تو عین اس وقت سید علی ہجویری لاہور میں داخل ہو رہے تھے اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے۔ فوائد الفواد میں ہے۔ سید علی ہجویری بھی ابوالفضل ختلی کے مرید تھے۔ پھر جب سید علی ہجویریؒ کی روحانی تربیت مکمل ہو گئی تو ایک دن شیخ نے آپؒ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا سید علی اب وقت آگیا ہے کہ تم بھی سفر ہجرت اختیار کرو اور لاہور پہنچ کر بت خانہ ہند میں اذان دو۔ حکم شیخ کے بعد سید علی ہجویریؒ نے حیرت سے اظہار کرتے ہوئے عرض کی سیدی ! وہاں تو میرے بھائی میراں حسین زنجانی ؒ موجود ہیں۔ شیخ ابوالفضل ختلی نے فرمایا تمہیں عذر کی بجائے تعمیل سے غرض رکھنی چاہیے۔ جب سید علی ہجویریؒ لاہور میں داخل ہوئے تو سید میراں حسین زنجانی کا جنازہ ” باغ زنجان“ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ یہ وہی باغ تھا جہاں سید میراں حسین زنجانی اکثر ذکرالٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔ سید علی ہجویریؒ نے لوگوں سے پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ سید میراں حسین زنجانی ہیں۔ اس بات پر سید علی ہجویری حیران ہو گئے اب آپ کو اندازہ ہوا کہ حکم شیخ میں مصلحت پوشیدہ تھی۔ سید علی ہجویری نے کفن کھول کر آپ کے نورانی چہرے کی زیارت کی۔ سید علی ہجویری نے سید میراں حسین زنجانی کے جنازے کو کندھا دیا۔ آپ کا جنازہ سید علی ہجویری نے پڑھایا اور اپنے ہاتھ سے لحد میں اُتارا۔ آپ کو اُسی جگہ دفن کیا گیا جہاں آپؒ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس جگہ کا نام ”باغ زنجان“ ہے۔ جہاں آج کل آپ کا مزار مبارک ہے۔ یہ واقعہ 431ھ کا ہے۔

روضہ مبارک[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی کا روضہ مبارک چاہ میراں لاہور میں ہے۔ شمالی لاہور میں آپ کا روضہ مبارک بہت زیادہ مشہور اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی بنا پر لوگ دور و نزدیک سے آپ کے مزار پر اکثر حاضری دیتے رہتے ہیں۔ آپ کی قبر مبارک پر گنبد بنا ہوا ہے۔ مزار کے احاطہ کے باہر ایک کشادہ صحن ہے۔ غرض کہ یہ آپؒ کا مزار تدفین سے لے کر آج تک قائم و دائم ہے۔ بہت عرصہ تک باغ زنجان میں رہا بعد میں ایک چار دیواری بنا دی گئی [2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آفتاب زنجان
  2. بزرگانِ لاہور صفحہ185۔ تحقیقات چشتی صفحہ188,189
  3. تذکرہ اولیاء پاکستان جلد اول ،صفحہ 43 تا62،عالم فقری،شبیر برادرز لاہور