میراں حسین زنجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید میراں حسین زنجانی ان قدیم اکابراولیاءمیں شمار ہوتا ہے جنہوں نے لاہور میں اسلام کا نور پھیلایا۔ آپ نے کئی سال مرشد کی خدمت میں گزارے اور اسرار باطنی حاصل کرنے کے لیے بہت سے مجاہدے اور عبادت الہی کی۔ آپ نے مرشد کی نگرانی میں کی چلے بھی کاٹے ، آپ کے مرشد کا نام خواجہ ابوالفضل محمد بن الحسن کنلی رح تھا۔ آپ جس مقصد کو سر انجام دینے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر سفر کی صوبتیں برداشت کر کے لاہور آے تھے، اس کو پورا کرنے کے لیے تبلیغ اسلام کا ٓآغاز فرمایا۔ ان دنو لاہور کی اکثریت ہندو دھرم کی پہروکار تھی۔ یہ لوگ سورج دیوتا کے مندر میں اپنی مزہبی رسومات ادا کیا کرتے تھے۔ تبلیغ سے پہلے آپنے ہندی زبان سیکھی تاکہ لوگوں کو ان کی زبان میں دین اسلام کو سمجھایا جا سکے۔ پھر آپ نے تبلیغ کا آغاز فرمایا اور عرصہ دراز تک روزانہ شہر کی گلی گلی کوچے میں جاتے اور اسلام کی دعوت دیتے۔ آپ جہا موقع پاتے چند لوگوں کو جمع کر کے اسلام کی تعلیمات دیتے۔مذہب اسلام کی خوبیاں بیان کرتے اور لوگو ں کو دین حق قبول کرنے کی تلقین فرماتے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

میراں حسین زنجانی بن سید علی محمود بن ابو جعفر برقعی بن ابراہیم عسکری بن موسی ثانی بن ابراہیم بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن زین العابدین بن امام حسین بن علی

آبائی وطن[ترمیم]

آبائی وطن ایران کے مشہور تاریخی شہر زنجان ہے جو ایران کے شمال میں کوہ البرز کے دامن میں واقع ہے کسی زمانے میں یہ قصبہ تھا اب شہر کی صورت اختیار کر گیا۔

خاندان[ترمیم]

آپ کا خاندان امام حسین کی نسل سے سادات ہے تیسری صدی میں ایک بزرگ جو امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے بغداد سے زنجان میں آکر آباد ہو گئے ان کا نام ابو جعفر برقعی تھا جو آپ کے دادا تھے۔

ولادت[ترمیم]

ولادت: حضرت سید میران حسین زنجانی 26 شعبان 347 ھ میں زنجان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید علی محمود تھا، جو اپنے زمانے کے جید عالم دین تھے۔ اور کھیتی بارڑی کا پیشہ کرتے تھے۔ آپ اس زمانے کے پیر طریقت حضرت موسی کے مرید تھے اور انہی سے باطنی فیض حاصل کیا۔ آپ نے جوانی کے عالم میں حضرت مریم صغری تھا جن کا تعلق بھی خاندان سادات ہی سے تھا۔ سید میراں حسین زنجانی کل 8 بهن بھای تھے۔ جن کے نام ترتیب کے ساتھ کچھ یو ہے سید میران حسین زنجانی، کلثوم، زینب ، اسحاق ، یعقوب ، موسی ، علی ، فاظمہ۔

والد گرامی[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی کے والد گرامی کا نام حضرت سید علی محمود تھا۔ آپ سید جعفر برقی کے بیٹے تھے۔ آپ زنجان میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر زنجان ہی میں حاصل کی پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ آپ اپنے چچا کے ہاں ”قم“ شریف لے گئے۔ آپ نے ”قم“ میں حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی جو اس وقت کے پیر طریقت تھے۔ اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ موسوی تحریر ہوا ہے۔ انہی کی صحبت سے آپ کو ظاہری و باطنی علوم کا فیض حاصل ہوا۔ آپ کی وفات زنجان میں ہوئی اور وہاں ہی دفن ہوئے۔ آپ نے سیدہ مریم صغریٰ سے شادی کی اور انہی سے آپ کی اولاد ہوئی۔[1]

لاہور میں قیام[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی نے چوالیس سال تک لاہور میں قیام فرمایا۔ اس عرصہ میں آپ کے شب و روز ذکر الٰہی اور تبلیغ اسلام میں گزرے۔ یہاں تک کہ آپ بیمار ہو گئے اور بستر علالت پردراز ہو گئے۔ مریدین اور عقیدت مندوں نے تیمار داری شروع کردی۔

رام چند کے ہاں قیام[ترمیم]

آخر ایک دن سید میراں حسین زنجانی کے سب سے بڑے عقیدت مند عبد اللہ جس کا قبول اسلام سے قبل نام رام چند تھا۔ اس نے عرض کی کہ شیخ میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں عبد اللہ نے درخواست اس لیے کی تھی تاکہ آپ کی گھر میں اچھی طرح تیمارداری کرسکے۔ اور یہ اعزاز دیں کہ ہم نے کچھ دن اللہ کے دوست کی خدمت کی۔

وفات[ترمیم]

آپ نے کل 44 سال لاہور میں قیام فرمایا۔ آخری ایام میں آپ بیمار ہو گے جب بیماری کی وجہ سے آپ کی حالت زیادہ خراب ہو گی تو آپ کے سب سے زیادہ عقیدت مند رام چندر نے عرض کیا کہ حضرت آپ میرے مکان میں تشریف لے چلے تاکہ آپ کی تیماداری کی سہولتین آسانی سے میسر آ سکے، آپ نے فرمایا اب میرا وقت آخر ہے شہر میں جانے کا کیا فائدہ، لیکن رام چندر کے اسرار پر اس کے مکان چلے گے جو کے ان دنو یکی دراوزے کے اندروں آبادی میں تھا۔ آپ نے بیماری کے چند دن رام چندر کے گھر میں قیام پزیر فرمایا اور بیماری کی حالت میں 19 شعبان 431 عصر کے وقت اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپکا مزار علاقہ چاہ میراں سے جان جنوب آبادی میں گھرا ہوااور سطھ زمیں سے کسی اونچی جگہ پر ایک خوبصورت سبز گنبد نظر آتا ہے یہ سبز گنبد والا مزار اس پاک ہستی کا ہے جو تارٰک میں حضرت میراں حسین زنجانی کے نام سے مشہور ہے

علی ہجویریؒ کا جنازہ پڑھانا[ترمیم]

غسل اور کفن دینے کے بعد جب 20 شعبان صبح کے وقت آپ کا جنازہ شہر سے باہر لایا جا رہا تھا تو عین اس وقت سید علی ہجویری لاہور میں داخل ہو رہے تھے اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے۔ فوائد الفواد میں ہے۔ سید علی ہجویری بھی ابوالفضل ختلی کے مرید تھے۔ پھر جب سید علی ہجویریؒ کی روحانی تربیت مکمل ہو گئی تو ایک دن شیخ نے آپؒ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا سید علی اب وقت آگیا ہے کہ تم بھی سفر ہجرت اختیار کرو اور لاہور پہنچ کر بت خانہ ہند میں اذان دو۔ حکم شیخ کے بعد سید علی ہجویریؒ نے حیرت سے اظہار کرتے ہوئے عرض کی سیدی ! وہاں تو میرے بھائی میراں حسین زنجانی ؒ موجود ہیں۔ شیخ ابوالفضل ختلی نے فرمایا تمہیں عذر کی بجائے تعمیل سے غرض رکھنی چاہیے۔ جب سید علی ہجویریؒ لاہور میں داخل ہوئے تو سید میراں حسین زنجانی کا جنازہ ” باغ زنجان“ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ یہ وہی باغ تھا جہاں سید میراں حسین زنجانی اکثر ذکرالٰہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔ سید علی ہجویریؒ نے لوگوں سے پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے لوگوں نے جواب دیا کہ یہ سید میراں حسین زنجانی ہیں۔ اس بات پر سید علی ہجویری حیران ہو گئے اب آپ کو اندازہ ہوا کہ حکم شیخ میں مصلحت پوشیدہ تھی۔ سید علی ہجویری نے کفن کھول کر آپ کے نورانی چہرے کی زیارت کی۔ سید علی ہجویری نے سید میراں حسین زنجانی کے جنازے کو کندھا دیا۔ آپ کا جنازہ سید علی ہجویری نے پڑھایا اور اپنے ہاتھ سے لحد میں اُتارا۔ آپ کو اُسی جگہ دفن کیا گیا جہاں آپؒ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس جگہ کا نام ”باغ زنجان“ ہے۔ جہاں آج کل آپ کا مزار مبارک ہے۔ یہ واقعہ 431ھ کا ہے۔

روضہ مبارک[ترمیم]

سید میراں حسین زنجانی کا روضہ مبارک چاہ میراں لاہور میں ہے۔ شمالی لاہور میں آپ کا روضہ مبارک بہت زیادہ مشہور اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کی بنا پر لوگ دور و نزدیک سے آپ کے مزار پر اکثر حاضری دیتے رہتے ہیں۔ آپ کی قبر مبارک پر گنبد بنا ہوا ہے۔ مزار کے احاطہ کے باہر ایک کشادہ صحن ہے۔ غرض کہ یہ آپؒ کا مزار تدفین سے لے کر آج تک قائم و دائم ہے۔ بہت عرصہ تک باغ زنجان میں رہا بعد میں ایک چار دیواری بنا دی گئی [2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آفتاب زنجان
  2. بزرگانِ لاہور صفحہ185۔ تحقیقات چشتی صفحہ188,189
  3. تذکرہ اولیاء پاکستان جلد اول ،صفحہ 43 تا62،عالم فقری،شبیر برادرز لاہور

[1]

  1. تحقیقی مقالہ نسب و حیات سید میراں حسین زنجانی، محقق نسابہ السید مبشر علی  کاظمی المشہدی فیروزپوری