میر احمد نوید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میر احمد نوید
معلومات شخصیت
پیدائش 14 اکتوبر 1958 (61 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  وپاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل غزل،  ونظم،  وحمد،  ونعت،  وسلام،  وقصیدہ،  ومرثیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

میراحمد نوید پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے منفرد اسلوب کے حامل شاعر ہیں۔ ددھیال کی طرف سے ان کا نسب چھٹی پشت میں میر انیس اور ننھیال کی طرف سے انتیسویں پشت میں حضرت لعل شہباز قلندر سے جا ملتا ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

میراحمد نوید 14 اکتوبر 1958 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کا نام سید احمد حسنین جعفری ہے اور قلمی نام میر احمد ہے ۔ میر احمد نوید ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔سلسلہِ نسب ددھیال کی طرف سے چھٹی پشت میں جا کر میر انیس سے ملتا ہے اور ننھیال کی طرف سے وہ میں لعل شہباز قلندر کی 29ویں پشت سے ہیں۔ گویا شاعری اور تصوف کو اجداد سے ورثہ میں پایا ۔[1] خود انہیں بھی شعر وشاعری کا شغف بچپن سے ہی تھا ۔ اور کالج کے مشاعروں میں بھی ہمیشہ حصہ لیتے اور انعام حاصل کرتے تھے۔میر احمد نوید کی شاعرانہ ، فلسفیانہ اور قلندارنہ طبیعت کے نمو پانے میں ان کے والد بزرگوار سید غلام الثقلین جعفری صاحب کا بہت اہم کردار رہا ہے ۔ جو عربی، فارسی اور انگریزی بہت اچھی جانتے تھے، انہوں نے احمد نوید کو بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہومر کی اوڈیسی سے لے کر ٹی ایس ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ تک اور عربی میں حسان، ہمیری فرذوق، کمیت اور دعبل تک اور فارسی میں فردوسی، حافظ، عرفی، بیدل، رومی تک اور اردو شاعری میں میر، غالب، اقبال اور انیس نہ صرف پڑھا دیے تھے بلکہ رٹا دیے تھے ۔ میر احمد نوید نے ایم اے (فلسفہ) تک تعلیم حاصل کی تاہم متلون مزاج طبیعت کے باعث کسی بھی سلسلہِ روزگار کو یکسوئی سے کبھی نہ قائم رکھ پائے۔1991 میں میر احمد نوید کی شادی عفت نوید سے ہوئی جو ایک کالم نگار ہیں۔میر احمد نوید کی اولاد میں تین بیٹے رشک نوید، رامش نوید اور الہام نوید شامل ہیں۔

بحیثیت شاعر میر احمد نوید کی فکر انگیز فلسفیانہ شاعری ہی ان کی خاص پہچان بنی اور خصوصا ان کے لکھے ہوئے نوحوں اور نعت و منقبت نے انہیں نہ صرف ملک گیر بلکہ بین الاقوامی شہرت دلائی۔انہوں نے پاکستان کے علاوہ بھارت ، کویت، شارجہ، یو اے ای کے مشاعروں میں بھی شرکت فرمائی ہے ۔ میراحمد نوید نے اب تک غزل ، نظم ، آزاد نظم ، حمد ، نعت ، قصیدہ ، سلام ، منقبت ، مرثیہ سب ہی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی اور بہترین کلام کہا ہے ۔ ان کے اب تک شائع شدہ مجموعوں کی تعداد آٹھ ہے ۔[2] میر احمد نوید نے پہلا مرثیہ " وحدت الوجود " 1990 میں کہا۔ علامہ جمیل مظہری کی پیروی میں انہوں نے بھی مرثیئے کے تیسرے بند میں تیسرے مصرع کو قافیہ کی پابندی سے آزاد رکھنے کی روش کو اپنایا۔یہ پہلا مرثیہ 72 بند پر مشتمل تھا اور یہ پورا مرثیہ "میں " پر ہے۔[3]

تصنیف شدہ مجموعہ کلام[ترمیم]

  1. ھُوَ ( جلد اول )
  2. ھُوَ ( جلد دوم )
  3. ھُوَ ( جلد سوم )
  4. از ازل گفتم
  5. الست
  6. جاری ہے کربلا
  7. وجود
  8. الکتاب[4]

منتخب کلام[ترمیم]

مرثیہ کا بند

"میں" سے آغاز ہوئی خلوتِ بزمِ امکاں "میں" کے اس آئینہ خانے کا ہے "میں" ہی یزداں
"میں" نے ظاہر کیا خود کو تو بنے ارض و سما "میں" ہی آدم کی شروعات ہے میں ہی شیطاں
"میں" نہ ہوتی تو نہ ہوتا کہیں اشیا کو ورود
"میں" کا آئین ہی ہے شرحِ عدم ، شرحِ وجود


غزل کے اشعار

پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوںرہتا ہوں اپنے ساتھ میں چاہے جہاں رہوں
کیسا جہاں کہاں کا مکاں کون لا مکاںیعنی اگر کہیں نہ رہوں تو کہاں رہوں
کیا ڈھونڈھتا رہوں میں یوں ہی دہر میں ثبات کیا مرگ ناگہاں کے لیے ناگہاں رہوں

حوالہ جات[ترمیم]