نجم الدین فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نجم الدین فاروقی
ذاتی
پیدائش(3 رمضان 1234ھ بمطابق 1818ء)
وفاتً (13 رمضان 1287 بمطابق 1870ء) (52 سال)
فتح پور
مذہباسلام
والدین
  • شیخ احمد بخش حمیدی (والد)
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامفتح پور
دورانیسویں صدی
پیشروخواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی
جانشینمحمد نصیر الدین فاروقی

نجم الدین فاروقی شاہ محمد سلیمان تونسوی کے خلیفہ خاص ہیں۔ آپ نے تونسہ شریف میں جا کر خلافت حاصل کی تھی۔ شیخا واٹی میں آپ کی خانقاہ علوم و فضل اور سلوک و معرفت کا منبع ہے جہاں ہزاروں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ آپ کا مزار فتح پور میں واقع ہے۔

ولادت[ترمیم]

شیخ نجم الدین فاروقی کی ولادت 3 رمضان 1234ھ بمطابق 1818ء میں جھنجھنوں میں ہوئی ۔ والد ماجد کا نام شیخ احمد بخش حمیدی تھا جو بڑے متقی تھے ان کا زہد و تقو ی دور دور تک مشہور تھا۔ حضرت شاہ ارادت نقشبندی کے مرید تھے اور خواجہ حمید الدین ناگوری کی اولاد سے تھے جن کا سلسلہ نسب حضرت عمر فاروق سے جا ملتا ہے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

شیخ نجم الدین نے سات سال کی عمر میں مولانا محمد رمضان قادری فہمی سے بسم اللہ پڑھی جوخود بھی ایک بڑے بزرگ تھے اور حافظ محمد علی خیرآبادی کے شاگرد تھے۔ شیخ نجم الدین نے قرآن بھی مولانا فہمی سے پڑھا ۔ اس کے بعد علوم ظاہری کی طرف متوجہ ہوئے لیکن طبیعت شروع سے ہی تصوف کی طرف مائل رہتی تھی۔ علوم ظاہری کی تحصیل نے اس شوق کو اور ابھار دیا۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

شیخ نجم الدین صاحب ایک دن شخ حبيب الله قادری کی کتاب انیس العارفین‘ کا مطالعہ کر رہے تھے جب اس جملہ پر نظر پڑی کہ مرشد کامل کے بغیر منزل نہیں ملے گی۔ اسی شوق میں دہلی جانے کا ارادہ کیا لیکن والدین نے منع کر دیا جب زیادہ ہی امنگ پیدا ہوئی تو بنا بتائے چپ چاپ روانہ ہو گئے لیکن چند کوس کے بعد ہی ان کے بھائی شہاب الدین جو ان کا تعاقب کر رہے تھے سمجھا کر واپس لے آئے۔ اس وقت آپ کی عمر صرف 18 سال تھی۔ پھر ایسا ہوا کہ خواجہ غریب نواز کے عرس کے دوران ان کو موقع مل گیا ۔ اجمیر میں آپ نے خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی کی بہت تعریف سنی اور نام و شہرت سنی تو وہیں سے تونسہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ 12 شعبان 1253ھ بمطابق 1837ء کو حضرت خواجہ تونسوی کے در دولت پر حاضر ہوئے۔ خواجہ صاحب اس وقت حجرے میں یاد الہی میں مشغول تھے۔ نجم الدین سے شوق ملاقات میں ضبط نہ ہو سکا اور سیدھے حجرے میں چلے گئے۔ خادم ہائیں ہائیں کرتا رہ گیا۔ جیسے ہی شیخ کی نظر خواجہ تونسوی پر پڑی ایک بے خودی سی طاری ہو گئی اور بیساختہ زبان پر یہ دوہا آیا۔

مکھ دیکھت ہی من موہن کو میری نین میں چھپ جائے گی جب دور کیا مکھ کا انچر جب جوت میں جوت سمائے گی

خواجہ سلیمان تونسوی نے آنکھیں کھول کر فرمایا : اے مرد ہندی ، تو تو ہندوستانی ہے پھر خواجہ نے یہ شعر پڑھا

ہندو ہے بت پرست ، مسلمان خدا پرست ہم بندے ہیں اس کے جو ہے آشنا پرست

اس کے بعد خواجہ نے ان کو اپنے حلقہ مریدین میں شامل کر لیا۔ نجم الدین صاحب چھ مہینے کے لگ بھگ خواجہ کی خدمت میں رہے۔ اس عرصے میں علوم باطنی کے علاوہ اپنے رشحات ، لمعات ، نصوص الحکم ، فتوحات مکیہ جیسی اعلی کتابوں کا بھی درس لیا۔ اس کے بعد خواجہ تونسوی نجم الدین کو اپنے ساتھ پاک پتن لے گئے۔ 6 محرم 1836ء میں خواجہ سلیمان تونسوی نے ایک بڑے مجمع میں جس میں اکابرین مشائخ موجود تھے نجم الدین فاروقی کو خلافت عطا فرمائی اور شیخا واٹی کا علاقہ آپ کے سپرد کیا۔ خواجہ تونسوی کے بہت سے ایسے مرید جو برسوں سے آپ کی خدمت میں رہ رہے تھے لیکن ابھی تک خلافت سے محروم تھے وہ دنگ رہ گئے کہ اس قدر جلدی اس نو وارد نوجوان کو خلافت مل گئی۔ جب خواجہ نے یہ سنا تو فرمایا کہ ہم نے کیا دیدیا ، نجم الدین خود اپنی روشنی کا سامان ساتھ لائے تھے۔ ان کے چراغ میں صفائی تیل اور بتی سب کچھ موجود تھا ہمیں تو بس آگ لگانی تھی سو لگا دی ، پھر یہ شعر پڑھا

گوہر پا ک بباید کہ شود قابل فیض ورنہ ہر سنگ و كلوخ در و مرجان نشود

شیخ نجم الدین فاروقی نے خلافت حاصل کرنے کے بعد کشکول اور لوائح کا درس بھی شیخ سے حاصل کیا۔ اس کے بعد مختلف اوقات میں دیوان حافظ وغیرہ بھی پڑھتے رہے۔

واپسی[ترمیم]

چھ ماہ کا عرصہ خواجہ سلیمان تونسوی کے ہاں گزارنے کے بعد اجازت و رخصت لے کر شیخا واٹی تشریف لائے جس جگہ کو شیخ نے اپنا مسکن بنایا وہ بالکل غیر آباد اور ویران تھی لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں عقیدت مندوں کا ہجوم ہو گیا ۔ پھر شیخ نے وہاں ایک مسجد تعمیر کی اور سلسلہ کو فروغ دینے کا کام شروع کیا۔ لوگوں کو فیض بھی پہنچاتے اور رشد و ہدایت بھی کرتے۔ جب یہ خبر خواجہ سلیمان تونسوی تک پہنچی کے نجم الدین اس قدر جانفشانی سے کام کر رہے ہیں تو خواجہ نے فرمایا کہ ہندوستان سے بہت لوگ ہمارے مرید ہوئے اور آگے بھی ہوں گے لیکن جو نفع اور درجہ نجم الدین اور سید محمد علی خیرآبادی نے حاصل کیا وہ ان کا ہی حصہ تھا۔

شریعت کی پیروی[ترمیم]

نجم الدین فاروقی شریعت کے معاملے میں نہایت سخت تھے۔ خود تو پابند تھے ہی مریدین کو بھی سخت ہدایت کرتے اور فرماتے کہ مسلمان کی کامیابی کا راز صرف اتباع شریعت اور سنت نبوی میں ہے۔ اپنے ملفوظات میں لکھتے ہیں کہ

شریعت پر مضبوط ہو دوجے جو درویش عشق خدا سے رات دن رکھتا ہے دلریش
عالم عامل وہ ہوئے جو تابع بنی ضرور کوئی سنت مستحب اندر نہ ہو قصور

نجم الدین فاروقی اظہار کرامت کی کھل کر مذمت کیا کرتے تھے فرماتے تھے کہ

پران لگا کر جو اوڑھے مردود ہیہ جلائے شريعت بیچ قصور ہو وہ گمراہ کہلائے

شیخ نجم الدین عشق خدا میں غرق رہا کرتے تھے۔ پہروں خلوت میں جا کر اللہ کی حضوری میں رہتے اور وہاں جو کچھ محسوس کرتے ان کو اپنی نظموں میں قلم بند کر لیتے ۔ جیسے ایک نظم خواب کے نام سے لکھی ہے جس کے دو مصرعے یہ ہیں

سکھی ایک خواب مجھ کو آج آیا گویا دونوں جہاں کا راج آیا

اپنی شاعری میں وحدت کا ذکر ضرور کرتے تھے ۔ جیسے یہ شعر

قربان ہوں میں اے نجم الدین میرے خواجہ شاہ سلیمان پر مجھے جن پہ بھید بتایا ہے یہ تو میں نہیں ہوں یہ تو ہی ہے

وصال[ترمیم]

ہمیشہ کی طرح نجم الدین فاروقی 1287ھ بمطابق 1870ء میں خواجہ غریب نواز کے عرس میں تشریف لے گئے وہاں اچانک طبیعت خراب ہوئی اس بیماری کی حالت میں آپ جھن جھنوں آئے اور 13 رمضان 1287ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کے جنازے کو فتح پور لایا گیا اور سپرد خاک کر دیا گیا۔

اولاد[ترمیم]

شیخ نجم الدین نے دو شادیاں کی تھیں ایک حضرت مولانا ضیاء الدین شاه جے پور کے خلیفہ جناب لطیف خان کی صاحبزادی سے اور دوسری شیخ عبد الکریم صاحب کی صاحبزادی سے پہلی اہلیہ سے تین لڑکے اور دولڑ کیاں ہوئیں۔

  1. مولانا نصیر الدین شاه
  2. عبد اللطيف شاه
  3. نور احمد شاہ
  4. فضيلت النساء
  5. لطيف النساء

وفات کے بعد بڑے صاحبزادے مولانا نصیر الدین فاروقی اپنے والد کے سجادہ نشین ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

نجم الدین فاروقی نے بے شمار تصانیف کی ہیں جو اردو میں بھی اور فارسی میں بھی ، مذہبی اور اردو فارسی ادب کے لحاظ سے یہ کتابیں بہت بڑا خزانہ ہیں۔ مولانا غلام سرور صاحب خزینۃ الاصفیا میں فرماتے ہیں کہ یہ تصانیف اس ملک کے کم علم اشخاص کے لیے اکسیر کا حکم رکھتی ہیں ۔ بیش بہا جواہر جو عربی اور فارسی کے سمندروں کی تہ میں پنہاں تھے وہ آپ نے ریگستان کے جنگلوں میں بکھیر دئے۔ حابی نجم الدین فاروقی کی چند اردو تصانیف یہ ہیں

  1. گلزار وحدت
  2. ماحی الغیر یت
  3. پیر ملانی غیر بھولانی
  4. با ره دہابیہ نجم
  5. افضل الطاعت
  6. پریم گنج
  7. حیات العاشقین
  8. فضيلة النكاح
  9. سماع السامعين في رد منکر ین
  10. دیوان نجم
  11. تذکرة واصلین دو حصے

نجم الدین کی ہر تصنیف میں تصوف اور اخلاق کی تعلیم ملتی ہے فارسی کی تصانیف یہ ہیں

  1. شجرة العارفین
  2. شجرة المسلمين
  3. شجرة الابرار
  4. مناقب الحبيب
  5. مناقب التارکین
  6. مناقب المحوبین
  7. تذکرة السلاطین
  8. مقصود العارفین وغیرہ۔

ان کے علاوہ بھی نجم الدین صاحب کی بہت سی تصانیف ہیں۔

خلفاء[ترمیم]

شیخ نجم الدین کے خلفاء کی فہرست بہت طویل ہے۔ حاجی نجم الدین نے راجپوتانہ کے ہر حصے میں خلفاء کو بھیج کر خانقاہیں قائم کروائیں۔ چند کے نام درج ذیل ہیں۔ حکیم سید محمد حسن امروہہ ، مولانا قمرالدین ، مولوی صدرالدین ، مولانا یار محمد صاحب (جودھپور ) ، مولانا امام الدین پنجاب ، قاضی امام الدین سرسہ ، حکیم سید اشرف علی کشن گڑھ ، مولانا نور محمد پانی پتی۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے راجستان مرتب شاہد احمد جمالی جلد اول صفحہ 44 تا 49