نسمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


حیاتیات کی رو سے انسان کے جسم دو ہیں۔ انسان کا ایک جسم ایسا ہے جس کے اندر جگہ جگہ خراشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ہر عضو ٹوٹا ہوا ہے ہر جوڑ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ ایسا جسم ناکارہ، بدصورت اور بدہئیت ہوتا ہے۔ انسانی جسم کی طرح انسان کے اوپر ایک اور جسم ہے جو گوشت پوست کے جسم کے اوپر روشن اور لطیف جسم ہے۔ اس جسم کے بہت سے نام ہیں، بے شمار ناموں میں دو نام زیادہ مشہور ہیں ایک جسم مثالی، دوسرا نسمہ (Aura)۔ انسانی گوشت پوست کے جسم کا دارومدار نسمہ (Aura) کے اوپر ہے۔ نسمہ (Aura) اگر صحت مند ہے تو گوشت پوست کا جسم بھی صحت مند ہے۔ یوں سمجھیے کہ جس طرح گوشت کے جسم میں دو لینس فٹ ہیں جن کے ذریعے مادی دنیا میں موجود تمام چیزوں کا عکس دماغ کی اسکرین پر منتقل ہو کر ڈسپلے ہوتا ہے اسی طرح جسم مثالی کے اندر جو کچھ موجود ہے اس کا تمام تر اثر گوشت پوست کے جسم پر مرتب ہوتا ہے۔ روشنیوں سے بنا ہوا یہ جسم صرف انسان کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ زمین کے اوپر جتنی مخلوق موجود ہے سب ہی اس روشنیوں کے جسم (Aura) (کی ذیلی) تخلیق ہیں۔ اس بات کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ انسانی زندگی میں جتنے تقاضے موجود ہیں یہ تقاضے گوشت کے جسم میں پیدا نہیں ہوتے۔ جسم مثالی میں پیدا ہوتے ہیں اور وہاں سے منتقل ہو کر گوشت پوست کے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی روٹی کھاتا ہے تو بظاہر ہم دیکھتے ہیں کہ گوشت پوست کا آدمی روٹی کھا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ جب تک جسم مثالی کے اندر بھوک کا تقاضا پیدا نہیں ہو گا اور جسم مثالی گوشت پوست کے جسم کو بھوک یا پیاس کا عکس منتقل نہیں کرے گا آدمی روٹی نہیں کھا سکتا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آئے۔ ذرا سے تفکر سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے۔ جسم مثالی کے بہت سے پرت ہیں۔ جب ہم خواب کے حواس میں دنیا بھر کی سیر کرتے ہیں اور تمام وہ اعمال و اشغال ہم سے سرزد ہوتے ہیں جو ہم گوشت پوست کے جسم کے ساتھ کرتے ہیں تو یہ جسم مثالی کی وہ حرکت ہے جو گوشت پوست کے جسم کو میڈیم بنائے بغیر کرتا ہے۔ جسم مثالی کی حرکات و سکنات کے تاثرات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ تمام آسمانی صحائف نے خوابوں کو مستقبل بینی کا ایک روشن ذریعہ بتایا ہے۔ مستقبل بینی سے مراد ٹائم اسپیس سے ماورا اس عالم میں دیکھ لینا ہے جو عالم ہماری مادی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ روشنی کا جسم (Aura) اگر مٹی کے ذرات سے اپنا رشتہ منقطع کر لے تو یہ ذرات فنا ہو جاتے ہیں۔ صاحب مراقبہ جب پہلی سیڑھی سے قدم اٹھا کر دوسری سیڑھی پر رکھتا ہے تو اس کے سامنے جسم مثالی آ جاتا ہے اور اس کے اندر یقین کا وہ پیٹرن کھل جاتا ہے جو جانتا ہے کہ مٹی کے ذرات سے بنے ہوئے گوشت پوست کی حیثیت محض عارضی اور فانی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مرنے والے آدمی کے جسم کے اوپر جو روشنیوں کا جسم ہے اس نے عارضی مادی جسم سے رشتہ منقطع کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔ یعنی مرنے سے مراد یہ ہے کہ مٹی کے ذرات سے بنے ہوئے گوشت پوست کے آدمی کے اوپر روشنیوں کا جسم اس عالم آب و گل سے رشتہ منقطع کر کے اس عالم رنگ و نور میں منتقل ہو گیا ہے۔



اس مضمون کو مزید توجہ کی ضرورت ہے

  • اگر دوسرے وکیپیڈیا پر اس عنوان کا مضمون موجود ہے تو اس صفحے کا ربط دوسری زبان کے وکی سے لگانے کی ضرورت ہے۔
  • اگر بڑے پیراگراف موجود ہیں تو ان کو مناسب سرخیوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے۔
  • اس صفحے میں مناسب زمرہ بندی کی ضرورت ہے۔بہتر ہے کہ اگر اس صفحے کا انگریزی صفحہ موجود ہے تو اس کے زمرہ جات نقل و چسپاں کر دئیے جائیں۔

اس کے بعد اس سانچہ کو ہٹا دیا جائے۔