نسوانی کنڈوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نسوانی کنڈوم
Préservatif féminin.jpg
پالی یوریتھین نسوانی کنڈوم
پسِ منظر
قسم اسقاط حمل رکاوٹ
پہلی بار استعمال 1980ء کا دہا
ناکامی کی شرحیں rates (سال اول)
بہترین استعمال 5%
عام استعمال 21%
استعمال
انعکاسیت فوری
User reminders ?
فوائد و نقصانات
STD تحفظ ہاں
وزن میں اضافہ نہیں
فوائد کوئی خارجی ڈرگ یا مطبی دورے کی ضرورت نہیں ہے۔

نسوانی کنڈوم (جسے فیمی ڈوم یا اندرونی کنڈوم کہا جاتا ہے) ایک ذریعہ ہے جسے ہم بستری کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انسدادی ضبط حمل کا کام کرتا ہے تاکہ جنسی طور پر منتقل معتدی امراض (جیسے کہ آتشک اور ایچ آئی وی) سے بچا جا سکے۔ حالاں کہ اس طرح کے کنڈوم سے بچاؤ مردانہ کنڈوم کے مقابلے کافی کم ہے۔ [1]

ہیئت[ترمیم]

نسوانی کنڈوم پتلی، نرم، فٹنگ کے اعتبار سے ڈھیلی اور اس کے دونوں سِروں پر لچیلی رِنگیں ہوتی ہیں۔ یہ کئی سائزوں میں دست یاب ہے۔ زیادہ تر فرجوں کے لیے معتدل سائز کا کنڈوم کافی ہے؛ ایسی عورتیں جنہوں نے حالیہ عرصے میں کسی بچے کو جنما ہے، پہلے بڑے سائز کو استعمال کرنا چاہیے۔ کونڈوم کے کونے کی اندرونی رِنگ کو نسوانی فرج کے اندر کونڈوم نصب کرنے کے لیے کام میں لایا جاتا ہے اور یہ دوران ہم بستری اپنی جگہ میں لگے رہنے کا کام دیتی ہے۔ رول کی گئی اوپری رِنگ کو اوپر کے کھلے سرے میں ہوتی ہے، فرج کے باہر رہتی ہے اور شرم گاہ کے باہری حصے کو ڈھانکنے کا کام دیتی ہے۔

ایجاد[ترمیم]

نسوانی کونڈوم کو بیسویں صدی میں بنایا گیا تھا جب کہ مردانہ کونڈوم صدیوں سے مستعمل ہوتے آئے ہیں۔ حد تو یہ بھی ہے کہ یہ اس قدر عوام الناس میں زبان زد عام ہو چکے ہیں کہ کونڈوم لفظ سے مراد مردانہ کونڈوم ہی لیے جاتیں اور نسوانی کونڈوموں کے لیے الگ سے کھل کر بیان کرنا پڑتا ہے۔ اس پر بھی لوگ کئی بار سمجھ نہیں پاتے کیوں کہ نسوانی کونڈوم نہ تو مردانہ کونڈوم جتنے مشہور ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کا استعمال کچھ اتنا بڑھا ہے۔ کئی لوگ تو ان سے بالکل ہی بے خبر ہیں۔ اس کے استعمال کا طریقہ بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اس کی تخلیق کا بنیادی محرک یہ تھا کہ کئی دستاویزی شواہد موجود تھے جن سے یہ بات اظہر من الشمس بن کر نکلی ہے کہ کچھ مرد حضرات کونڈوم کے استعمال سے انکار کر رہے تھے کیوں کہ ان کی شکایت تھی اس سے ان کے جسم کی شہوانی حساسیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور اسی کے نتیجے میں خیزش پر بھی اثر پڑا ہے۔ انہیں یہ بھی ناگوار گزرا کہ مردوں کے متعلق یہ تصور رائج ہے کہ وہ جنسی امراض پھیلاتے ہیں۔[2][3]

لفظیات[ترمیم]

چونکہ عرف عام میں انگریزی نام فی میل کنڈوم ہے، اس لیے اس کے متبادل اردو اصطلاحات نسائی کنڈوم، زنانہ کنڈوم، عورتوں کا کنڈوم، خواتین کا کنڈوم، تانیثی کنڈوم اور صنف نازک کا کنڈوم ہو سکتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. MedlinePlus Encyclopedia Female condoms
  2. National Health Service (United Kingdom), "What if my partner won't use condoms?", July 16, 2014, http://www.nhs.uk/Conditions/contraception-guide/Pages/partner-wont-use-condoms.aspx, retrieved February 8, 2017.
  3. Angelica Geter and Richard Crosby, "Condom Refusal and Young Black Men: the Influence of Pleasure, Sexual Partners, and Friends", Journal of Urban Health, vol. 91, 2014, pp. 541–546, https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC4074317/, retrieved 8 فروری 2017.