نفیس فونٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نفیس فونٹ (خط)

Crulp logo.gif

شائع کردہ

مرکزِ تحقیقاتِ اردو

ویب سائٹ

www.crulp.org

خط (فونٹ)

لاسنس

نفیس نستعلیق

صارف وقف اجازہ

نفیس نسخ

صارف وقف اجازہ

نفیس پاکستانی نسخ

صارف وقف اجازہ

نفیس ویب نسخ

آزاد مصدر، صارف وقف اجازہ

نفیس ویب نسخ

آزاد مصدر، جنرل پبلک لاسنس
اعلان GNU/GPL

نفیس رقعہ

صارف وقف اجازہ

نفیس خط (فونٹ)[ترمیم]

نفیس فونٹ اردو کے فونٹ ہیں جو "مرکزِ تحقیقاتِ اردو" نے شائع کیے ہیں۔ نفیس خاندان میں "نفیس نستعلیق" اور تین نسخ فونٹ شامل ہیں۔ نسخ فونٹ میں ذیل کے فونٹ ہیں:
نفیس نسخ (Nafees Naskh)
نفیس پاکستانی نسخ (Nafees Pakistani Naskh)
نفیس ویب نسخ (Nafees Web Naskh)
یہ فونٹ محمد جمیل حسن،[1] جو سید انور حسین نفیس رقم[2] کے شاگرد ہیں، کی خطاطی پر بنائے گئے ہیں۔ "مرکز تحقیقات اردو" لاہور میں واقع جامعہ کمپوٹنگ و اُبھرتی سائنس سے منسلک ہے۔ مرکز کے سربراہ اور روح و رواں ڈاکڑ سرمد حسین ہیں۔ یہ فونٹ ان کے زیرِ نگرانی بہت سے لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ فونٹ یکضابتہ (یونیکوڈ) پر بنائے گئے ہیں۔

نفیس نستعلیق[ترمیم]

یہ غالباً اردو کا پہلا نستعلیق فونٹ ہے جو یکضابطہ (یونیکوڈ) پر بنایا گیا ہے۔

نفیس نسخ[ترمیم]

یہ OTF فونٹ 500 گلیف glyphs اور 10 لیگیچر ligatures پر مشتمل ہے۔ اعراب اس میں لکھے جا سکتے ہیں۔ اس میں نستعلیق کی خوبیاں ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجہ سے اس میں عمودی جانب حرکت زیادہ ہے۔

نفیس پاکستانی نسخ[ترمیم]

اس فونٹ کا مقصد اردو کے علاوہ پاکستان کی علاقائی زبانوں (سندھی، بلوچی، پشتو، وغیرہ) کو سہارا دینا ہے۔ اس میں 750 گلف ہیں بشمول 10 لیگیچر کے ۔

نفیس ویب نسخ[ترمیم]

یہ سبک رفتار OTF فونٹ ویب پر استعمال کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس لیے غالباً نفیس خاندان کا سب سے اہم فونٹ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس خط میں عمودی حرکت نسبتاً کم ہے۔ اس میں 330 گلِف ہیں، بشمول 10 لگیچر کے۔ اعراب کو مکمل سہارا دیتا ہے۔ مختلف آپریٹنگ نظام پر کامیابی سے استعمال ہو چکا ہے۔ یہ فونٹ آزاد مصدر ہے۔ اس کا لاسنس اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ اس میں ردّوبدل کر کے مختلف نام سے شائع کر سکتے ہو۔ علاوہ ازیں یہ فونٹ جنرل پبلک لاسنس (GPL) کے تحت بھی اجرا کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ GNU/GPL سافٹوئیر کے ساتھ تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

"نفیس ویب نسخ" فونٹ، 8 سے 24 سائیز

لینکس qt3.3.3/KDE 3.3

م‌س ونڈوز XP (ر)

Nwn font.png

Nwn font xp.png

چونکہ "نفیس ویب نسخ" فونٹ میں لاطینی حروف اتنی اچھی شکل کے نہیں، اس لیے "Liberation sans" اور "نفیس ویب نسخ" کو ملا کر ایک فونٹ تیار کیا گیا ہے جس میں دونوں کی بہترین خوبیاں موجود ہیں۔ اس کا نام فی الحال "اردو آزاد نسخ" رکھا گیا ہے۔[3]

نفیس رقعہ[ترمیم]

ستمبر 2007ء میں جاری ہونے والا یہ فونٹ، ہاتھ کی لکھائی کا انداز دکھاتا ہے، اس لیے خاص مواقع پر قابلِ استعمال ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام مقبول عملیاتی نظام پر کام کرتا ہے، مگر لینکس پر KDE میں کچھ مسائل دیکھنے میں آئے ہیں۔

تنقید[ترمیم]

  • بدقسمتی سے اس وقت تک موجود تمام تر خط جو اس خاندان میں شامل ہیں ان میں کوئی بھی اردو کی خوشخطی اور نفیس روح کا ترجمان نہیں۔ ان کو صرف اسی محاورے کے اصول پر استعمال کیا جاسکتا ہے کہ "کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے"۔ اس بدخطی کے علاوہ بھی ان میں بے شمار خامیاں ہیں جنکی ایک فہرست تیاری کے عمل میں ہے، مگر فی الحال چند ایک کا ذکر ذیل میں درج کیا جا رہا ہے
  • کچھ ماہرین کی نظر میں ان فونٹ کی hinting نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے یہ چھوٹے سائیز میں اچھا دکھائی نہیں دیتے۔
  • اعتراض کیا جاتا ہے کہ نفیس فونٹ میں عربی کے کچھ حروف شامل نہیں، جس کی وجہ سے اگر لکھتے ہوئے عربی کا اقتباس دینا ہو تو دشواری ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اردو کے فونٹ ہیں۔ عربی کے حروف شامل ہونے سے نوآموز اردو میں عربی کے یکرمز (unicode) حروف ڈالنا شروع کر دیں گے اور غلطی کا احساس بھی نہیں ہو گا۔
    • لیکن صرف اس وجہ سے عربی اعراب کی اور کھڑا زبر، دو نقطہ ہ اور دو نقطہ ی وغیرہ جیسے بنیادی عربی ابجد کی سہولت نا شامل کرنا بڑا غیر منطقی عمل ہے جس کی کسی بھی طرح قبولیت نہیں کی جاسکتی۔
  • اردو عبارت میں عربی الفاظ کے استعمال کی صورت میں درمیانِ عبارت آنے والے اعراب کی وجہ سے حروف کی حالت (ابتدائی و درمیانی وغیرہ) بگڑنے کی وجہ سے الفاظ ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ پریشانی اتنے اچھے خط کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے کہ اردو میں موجود اسلامی مواد کو اس خط میں ڈھالنا ممکن نہیں رہتا۔
  • سب سے بڑی تنقید تو یہ ہے کہ اس فونٹ میں کسی بھی قسم کی شمارندی (کمپیوٹر سے متعلق) اور خوش نویسی خصوصیات نہیں ہیں۔ چینی اور جاپانی جیسے مشکل فونٹ کسی طرح بھی انگریزی سے کم نہیں، انکو جسقدر بھی چھوٹا لکھ دیا جائے کوئی بھی نظری عیب پیدا نہیں ہوتا۔ جبکہ اردو اتنی سادہ زبان ہونے کے باوجود اپنے کوئی ایسے معیاری فونٹ نہیں رکھتی کہ جس کا جاپانی یا انگریزی سے موازنہ کیا جاسکے ۔
  • ایک اور خامی جو صرف اسی فونٹ میں نہیں بلکہ اردو کے موجودہ تمام فونٹس میں ہے وہ یہ کہ جب ایک ہی سطر میں انگریزی کے ساتھ لکھا جاتا ہے تو اردو فونٹ کی وجہ سے سطر کی اونچائی بلاوجہ بڑھ جاتی ہے، یعنی اس کی وجہ سے سطر کے اوپر اور نیچے غیر ضروری اسپیس آجاتا ہے۔ بادی النظر افراد کے لیے شاید یہ کوئی خامی یا مسئلہ نہ ہو مگر دقیق النظر افراد کے لیے یہ ایک نہایت مضطرب کرنے والا منظر ہوتا ہے۔
  • اردو کے واحد فونٹ جو ہر طرح کے شمارندی (کمپیوٹر سے متعلق) عیوب سے پاک ہیں وہ صرف وہی ہیں جو مائکروسوفٹ نے ونڈوز کے ساتھ مہیا کیے ہیں (ایریئل، ٹائمزنیورومن اور تاہوما وغیرہ)۔ مگر مسئلہ انکی خوش نویسی کا ہے۔ مائکروسوفت کے تمام فونٹ گو کہ بدخطی کی انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں انتہائی بھدے ہونے کے باوجود ان میں شمارندی یا کمپیوٹریت کے لحاظ سے کوئی خامی نہیں ہے اور ان تمام فونٹ کو بیک وقت اردو کے ساتھ، عربی، فارسی ہی نہیں دنیا کی پیچیدہ ترین جاپانی اور چینی زبانوں سمیت ہر زبان لکھنے کے لیے بلا کسی فنی دشواری کے پریقین طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

  1. [ جمیل حسنhttp://calligraphyislamic.com/Profiles/jamilhasan.htm]
  2. [ نفیس رقمhttp://calligraphyislamic.com/Profiles/Nafees.html]
  3. "اردو آزاد نسخ" فونٹ