نیشنل بک فاؤنڈیشن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

"نیشنل بک فاؤنڈیشن" پاکستان کا تعلیمی رفاعی ادارہ ہے جس کا قیام 1972ء میں عمل میں آیا۔ پاکستان میں کتابوں کی اشاعت اور مطالعہ کتب کے فروع کے لیے سرگرم عمل اس ادارے کا صدر دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ اس ادارہ کے صوبائی صدر دفاتر، علاقائی دفاتر اور کتب سیل پوائنٹس بھی کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ مختلف موضوعات پرکتب شائع کرنے کے علاوہ بچوں کے ادب کے فروغ میں بھی کوشاں ہے۔ علاوہ ازیں یہ ادارہ نابینا افراد کے لیے بھی بریل کتب شائع کرتا ہے۔

سربراہ[ترمیم]

نیشنل بک فاؤنڈیشن کا سربراہ مینجنگ ڈائریکٹر ہوتا ہے۔ اس ادارہ کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہیں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن کی مطبوعات[ترمیم]

نیشنل بک فاؤنڈیشن نے پاکستان میں کتب کے فروغ کے سلسلہ میں مختلف موضوعات پر بہت سی نصابی، علمی، ادبی وتحقیقی اور ترجمہ شدہ کتب شائع کی ہیں۔ اس ادارہ کے زیر اہتمام ایک "کتاب رسالہ" بھی شائع کیا جاتا ہے جس میں مختلف کتب پر تبصرے شائع کیے جاتے ہیں۔

فروغ کتب[ترمیم]

نیشنل بک فاونڈیشن جو اپنے پلیٹ فارم سے ریڈر کلب۔شہر کتاب۔موبائل لائبریری ۔بک میوزیم۔اور کئی منصوبے چلارہاتھایہ ملک کا خود کفیل ادارہ ہے اور منافع کمانے والا ادارہ ہےاس کے تحت ملک بھر میں 24 دفاتر ہیں اور تقریبا جہاں جہاں یہ کام کر رہاہے کچھ جگہ چھوڑ کے باقی تمام جگہ اس کے دفاتر اپنی ذاتی جگہ پر قائم ہیں 2018 ۔2019 میں اس ادارے نے 32 کروڑ روپے کی کتابیں فروخت کیں۔یہ ادارہ ملک میں کتاب دوستیکوفروغ دینے اور شائقین کتب کو 50 فیصد کم ریٹ پر کتابیں فراہم کرتا ہے اورہر سال حکومت اس کو آٹھارہ کروڑ کا بجٹ دیتی ہے اس ادارے نے گزشتہ چھ سالوں میں 600 نئی کتابیں شائع کی لاکھوں کی تعداد میں نصابی اور اسی طرح لاکھوں کی تعداد میں پرانی کتابوں کے نئے ایڈیشن شائع کرائے۔ریڈر کلب ممبر شپ جس کے تحت ملک کے چاروں صوبوںوآزاد کشمیر کے لوگ اس کے مخصوص ایام میں ممبر شپ لیتے ہیں جس کے مطابق ملک کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں اس کی ممبر شپ لی جاتی ہے جس کے مطابق ہر ممبر کو ایک کارڈ ممبر شپ جاری کیاجاتا ہے یہ ممبر شپ عموما15 جولائی تا 15 اگست جاری رہتی تھی جس کی ممبر شپ صرف 200 روپے ہوتی تھی اور یہ ممبر شپ لینے والے اگلے سال14 جولائی تک آدھی قیمت پر آن مخصوص اسٹالز۔شاپس ۔نیشنل بک فاونڈیشن کے صوبائی اور ذیلی دفاتر سے بارہ ہزار روپے تک کی قیمت کی کتابیں صرف چھ ہزار روپے میں خرید سکتے تھے یعنی پچاس فیصد رعایت دی جاتی تھی امسال2020 میں یہ ریڈرز کلب ممبر شپ یکسر ختم کر دی گئی ہے کیونکہ موجودہ حکومت میں اس کے موجودہ ڈائریکٹر وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے نجکاری کی تجویز دی ہے

بیرونی روابط[ترمیم]