ورائے طبعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ورائے طبعی کا مطلب ایسا واقعہ یا کسی چیز کا ظہور جو فطری قوتوں سے بالاتر قوتوں کا نتیجہ ہو اور علت و معلول کے قانون سے آزاد ہو۔

دیگر استعمالات و معنی[ترمیم]

خرق عادات یا معجزہ، کرشمہ، غیر معمولی بات، فوق العادات اور معمول سے ہٹ کر

ورائے طبعی ان عجیب و غریب واقعات کو بھی کہا جاتا ہے جو عام طور پر انسانی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔

مذہب کے ارتقاء کے بارے میں جدید سائنسی نظریہ[ترمیم]

اس نظریئے کے مطا بق ڈوپامین کی مقدار دماغ میں بڑھ جانے کی وجہ سے بھی انسان میں مذہب کی ابتدا ہوئی۔ یہ بھی عصبی ناقل ہے جو جسم میں ہونا ضروری ہے۔ اس عصبی ناقل کی وجہ سے ہی کوئی بھی مذہبی تجربہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہوونے والا خیال مذہب پر اعتقاد اور ایمان کا باعث بنتا ہے۔ سب سے پہلا مذہبی تجربہ جو غار شمن میں ہوا۔ وہاں غار میں مافوق الفطرت تصوراتی تصاویر تھیں جو ڈوپامین کی موجودگی کی وجہ سے ہوا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]