ویکیپیڈیا:منتخب مضامین/2017/ہفتہ 41

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پوٹوچاری میں ایک اجتماعی قبر، تصویر 2007ء

سریبرینیتسا قتل عام جسے سریبرینیتسا نسل کشی بھی کہا جاتا ہے، جولائی 1995ء میں سرب افواج نے ایک ہی دن میں 8,000 سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا، جن میں بڑی تعداد مردوں اور لڑکوں کی شامل تھی۔ سریبرینیتسا بوسنیا و ہرزیگووینا کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر بوسنیا و ہرزیگووینا کے علاقے سرپسکا میں شامل ہے جو قدرے آزاد ہے۔ سرپسکا سرب اکثریتی علاقہ ہے مگر سریبرینیتسا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔بوسنیا و ہرزیگووینا کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سے ایک وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہلاتا ہے اور دوسرا سرپسکا کہلاتا ہے۔ 24 مارچ 2007ء کو سریبرینیتسا کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سرپسکا سے علیحدگی اور وفاق بوسنیا میں شمولیت منظور کی گئی۔ اس میں سربوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔ سریبرینیتسا میں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں۔ یہاں سونے، چاندی اور دیگر کانیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1995ء کے قتلِ عام سے پہلے یہاں فولاد کی صنعت بھی مستحکم تھی۔ 12، 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کیا اور ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی عدالت (بین الاقوامی فوجداری ٹرائبیونل برائے سابقہ یوگوسلاویہ) نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔

 دیگر منتخب مضامین