پروپیگنڈا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پروپیگنڈا انگریزی زبان کا لفظ ہے- عام بول چال میں اس لفظ کے معنی دروغ گوئی، ترغیب و تحریص یا غلط افواہ کا پھیلانا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اکثر اوقات سیاسی انجمنیں یا حکومتیں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اپنے فوری اور ذاتی مفاد کے پیش نظر غلط روایات و واقعات کا چرچا کرکے اپنی مطلب برداری کر لیتی ہیں، لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ پروپیگنڈے کی بنا جھوٹ پر ہی ہو۔ پروپیگنڈا سچا بھی ہوتا ہے اور عوام کے فائدے کا باعث بھی ہوتا ہے۔

اشتقاقیات[ترمیم]

ابتداً اس لفظ سے پادریوں کی وہ جماعت مراد تھی، جنھیں تبلیغی ضروریات کے تحت دور دراز ممالک میں جا کر کلیسا کے اصولوں سے لوگوں کو روشناس کرانا ہوتا تھا۔

پروپیگنڈا سے منسلک مشہور اقوال[ترمیم]

  • "جھوٹ کو اتنا اور بار بار پھیلاوء کہ لوگ اسے قبول کر لیں" - سیکولر لابی امریکہ
    "اگر تم اپنے مخالف کو قائل نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے الجھا دو، تا کہ اس کی یکسوئی برقرار نہ رہے!" - حزب الجمہوری امریکہ

اقتباس[ترمیم]

  • جو معاشرے کے اس نادیدہ میکینزم کو کنٹرول کرتے ہیں وہ ایک نظر نہ آنے والی حکومت تشکیل دیتے ہیں جو صحیح معنوں میں ملک کی حکمران ہوتی ہے۔ ہم پر حکومت کی جاتی ہے، ہمارے ذہنوں کو تبدیل کیا جاتا ہے، ہماری پسند ناپسند تشکیل دی جاتی ہے، ہمارے خیالوں کو متاثر کیا جاتا ہے اور یہ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی کچھ نہیں سنا۔۔۔ جمہوریت کو چند بہت ذہین لوگ چلاتے ہیں جو جانتے ہیں کہ عوام کو کس طرف ہانکنا ہے۔
یہ وہ نادیدہ حکمران ہیں جو کروڑوں لوگوں کی قسمت کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر نہیں جانتے کہ ہمارے لیڈر چند پس پردہ مکار لوگوں کے غلام ہیں۔ اور اہم بات یہ ہے کہ حکمران ہماری سوچوں اور خیالات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری مرضی ہے جبکہ ہمارا ذہن ڈکٹیٹر کے قابو میں ہوتا ہے۔ پروپیگینڈا نظر نہ آنے والی حکومت کا ہتھیار ہے۔
Those who manipulate this unseen mechanism of society constitute an invisible government which is the true ruling power of our country. We are governed, our minds molded, our tastes formed, our ideas suggested, largely by men we have never heard of....Democracy is administered by the intelligent minority who know how to regiment and guide the masses.
There are invisible rulers who control the destinies of millions. It is not generally realized to what extent the words and actions of our most influential public men are dictated by shrewd persons operating behind the scenes. Now, what is still more important, the extent to which our thoughts and habits are modified by authorities. In some departments of our daily life, in which we imagine ourselves free agents, we are ruled by dictators exercising great power. Propaganda is the executive arm of the invisible government.[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Propaganda by Edward Bernays-1928.