کرد بلوچ قبیلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تاریخ قبیلہ کرد: ایرانی کرد ایرانی تبار ی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایران میں صوبہ کردستان اور دیگر علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ قبیلہ ایران کے علاوہ ایلام، آذربائیجان غربی، بلوچستان، کردستان، کرمانشاہ، ھمدان، لرستان، خراسان شمالی، خراسان رضوی، گیلان، ماژندران اور قم، قزوین، کرمان، میں مقیم ہیں۔ دیگر کرد علاقے 893ہجری میں جنگ چالدران کے بعد جداہوئے۔ جن میں کردستان ترکیہ، کرداستان عراق، کرد استان سورئیہ شامل ہیں۔ بیشتر کرد قوم مسلمان ہیں مگر ان میں یزیدی، یارسان(اہل حق)، مسیحی اور یہودی شامل ہیں، کرد نوروز، قربان، فطراور دیگر ایران میں منائے جانے والے جشنوں کو عقیدت سے مناتے ہیں۔

کردوں کے نامور شخصیات:

  • سلطان صلاح الدین ایوبی : سلیبی جنگوں کے فاتح اور مصرکے فر مانروا تھے۔
  • نامدار کرد شعراءمیں مستورہ اردلان اور مولوی کرد شامل ہیں ۔
  • امیر نظام گروسی کرد: نامور خوشنویس تھے اور ناصر الدین قاچار کے زمانے میں تھے۔
  • مسعود برزانی
alt text

اول کرد استان کی تمام سر زمین ایران کا حصہ تھا جنگ چالدران میں 1514ءایران کے شکست کے بعد جداہوا۔ ایرانی کردستان سے جدا شدہ علاقے سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گئے۔ اور سالوں تک عثمانیوں نے اس سر زمین پر حکومت کی تا آنکہ جنگ عظیم اول کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو یہ علاقے سرزمین کردستان، سرزمین عرب، ایشیاءکوچک اور بلکان کے علاقے دوسرے ملکوں کاحصہ بنے۔ سرزمین کرد استان ایران سے الگ ہونے کے بعد آج کے جغرافیائی نقشے میں یہ تین ممالک ترکیہ، عراق اور سوریہ میں تقسیم ہوا۔

مذہب:

کرمان شاہ اور ایلام میں مقیم کردوں کا تعلق شیعہ اسلامی فقہ اورکچھ حصہ سنی اسلامی فقہ سے ہے۔ ایران میں لر کے مقام پر صرف شیعہ کرد مقیم ہیں۔ کردستان کے کچھ حصوں اور آزرذربایجان غربی اہل سنت سے ہیں۔ کرد قبیلہ کے اندر پچاس ہزار خاندان کا تعلق یزیدی مذہب سے ہے۔ ان کے علاوہ کردوں میں ایک اور جمیعت بنام فرقہ یارسان یا اہل حق کے نام سے مشہور ہیں جو علاقہ دلاھو اور کرمانشاہ میں مقیم ہیں۔ ان کے علاوہ کردوں میں مسیحی اور یہودی مضحب کے افراد بھی ہیں۔[1]

قبیلہ کرد بلوچستان پاکستان میں

یہ قبیلہ دوسرے بلوچوں کے ساتھ بلوچستان میں اس وقت داخل ہوا جب پندر ہویں صدی کے شروع میں میر جلال ہان اور میر شیہک نے چوالیس قبیلوں کے ساتھ اس سر زمین میں قدم رکھا۔ کہا جاتا ہے کی شروع میں صرف تین قبائل کرد بدرو، ٹوکالی، اورچانڈو ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ ان تینوں میں سے صرف کرد بدرو نے بلو چستان میں رہائش اختیار کی۔ ٹوکالی پہلے بگٹی کے علاقے میں رہائش پزیر ہوئے لیکن بعد میں ڈیرہ غازی خان چلے گئے۔ جہاں اب وہ مزاری قبیلہ کا ایک حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ تیسرا گروہ چانڈو بلوچستان میں کچھ عرصہ عارضی قیام کے بعد واپس سیستان چلا گیا۔ اور اب وہ وہاں بلوچ قبائل بامانی اور ڈامانی کے ساتھ رہتے ہیں۔ جب یہ رند قبیلہ کے ساتھ رہتے تھے تو رندوں میں شمار ہو تے تھے۔ لیکن رندوں کے کچھی کی طرف چلے جانے کے بعد یہ لوگ بروہی قبیلوں کے ساتھ مل جل گئے۔ یہ دو زبانیں بولتے ہیں کوئٹہ، مستونگ، پنگو اور درہ بولان کے آس پاس رہتے ہیں۔ ضلع کچھی میں بھی ان کی کچھ زمینیں ہیں۔ 1800ء سے قبل ان کی جنگی صلا حیت رکھنے والے افراد کی تعداد آٹھ سو تھی۔ جن میں سے اپنے قبیلے طرف سے جنگ کے زمانے میں تین سو آدمی قلات لشکر کے ساتھ اس کا حصہ بن جا تے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کرد شمالی ایران اور عراق کے کردوں کے بڑے قبیلہ کا ایک حصہ ہیں۔ کرمان میں بلوچوں کے ہمسائے ہونے کی وجہ سے تیر ہویں صدی میں ہجرت اور سیاسی وجوہ کی بنا پر وہ بلوچوں کے ساتھ مل جل گئے۔ اور بعد میں بلوچستان آ گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی کردی زبان چھوڑ کر بلوچی اور بروہی زبانیں اپنالیں۔ یہ قبیلہ عراقی کردوں اور بلوچوں سے زیادہ مشابہ ہے۔

بلوچستان پاکستان میں کرد شخصیت:

مير محمد عاصم كرد گيلو 1958ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ وہ وزیر خزانہ حکومت بلوچستان کے عہدہ پر فائز ہیں۔ انہوں نے 1995ء میں بلوچستان یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی۔ وہ زمینداری کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ 1990 اور 1997ء میں رکن اسمبلی رہ چکے ہیں، 2002ء کے عام انتخابات میں نیشنل الائنس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد بلوچستان کابینہ میں وزیر ریونیو رہے۔ 2008ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر چوتھی مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ عاصم کرد گیلو کا تعلق ماضی میں مسلم لیگ ن سے بھی رہا۔

اسکول کا زمانہ: میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول کوئٹہ سے کیا ـ اسکول کے زمانے میں بہت تیزوترار اور شوخ شخصیت کے مالک تھےـ لیکن پڑھائی میں کچھ خاص نہیں تھےـ ان کے دینیات استاد شریف صاحب عرف (چچاشریف) کو ان سے بہت لگاو تھا جس کی یہ بہت خد مت بھی کرتے تھے ممکن ہے انکی دُعاوں سے انکو عروج ملاہوـ امير محمد عاصم كر د گيلو ولدحاجی خان محمد كرد کوئٹہ ميں پيد ا ہو ئے- انہوں نے يورپ، مشرق وسطعی اور موريشس كے دورے كئے- زبان براہوی، اردو مذہب اسلام ہے۔

alt text

شجرہ قبیلہ کرد بلوچ

  • کرد یا کرد بدرو
    • مرے زئی
    • کرمون زئی
    • سردا زئی
    • شودنزئی
    • ماسودنی
    • گور کیزئی
    • شادے زئی
    • محمد زئی
    • پھلان زئی
    • سفر زئی
    • ساتک زئی [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مردم کرد
  2. بلوچستان تاریخ کے آئینے میں
  • نسب نامہ جہریج (قبائل سندھ) 1936ء
  • تاریخ دودائی
  • تاریخ کرد
  • تاریخ طبرایٰ
  • بلوچستان تاریخ کے آئینے میں

بلوچ قبائل کی فہرست