کرچ پولی ٹیکنیک کالج حملہ (2018ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کرچ پولی ٹیکنیک کالج پر حملہ
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 485 سطر پر: Unable to find the specified location map definition: "Module:Location map/data/Crimea" does not exist۔
مقام کرچ، کریمیا
تاریخ 17 اکتوبر 2018 (2018-10-17) (UTC+3:00)
ہلاکتیں 21[1] (حملہ آور کے سمیت)
زخمی 74[2]
ملزم ولادیسلاؤ روسلیاکوو

17 اکتوبر 2018ء کو روسی/یوکرینی ریاست کریمیا کے شہر کرچ میں واقع کرچ پولی ٹیکنیک کالج کی کینٹین میں بم حملہ اور فائرنگ ہوئی۔[4] 21 افراد ہلاک (بندوقچی کے سمیت) اور 74 زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویشناک تھی۔[5][6][7][8] 2004ء کے بیسلان اسکول یرغمال کے بعد اس حملے میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔

حملہ[ترمیم]

8 ستمبر 2018ء کو ولادیسلاؤ روسلیاکوو نے بندوق خریدی اور 13 اکتوبر کو قانونی طور پر 150 گریپ شاٹ (انگوری چھرے) خریدے۔[9][10] وہ 17 اکتوبر کو دوپہر کے وقت اسکول میں داخل ہوا اور کچھ ہی دیر بعد اس نے فائرنگ شروع کر دی۔[11]

کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ بندوقچی کرچ پولی ٹیکنیک کالج میں اوپر چڑھا اور نیچے ہالوں میں موجود طلبہ اور اساتذہ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور اس وقت تک فائرنگ کرتا رہا جب تک کہ گولیاں نہ ختم ہوگئیں۔ پھر بم بھٹ گیا، مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیمپس میں موجود اس سے بھی زیادہ انفجاری مواد کو ناکامیاب بنا دیا تھا۔[12] ایک زندہ بچ جانے والے نے روسی نیوز ایجنسی آر آئی اے نوووستی کو بتایا کہ فائرنگ 15 منٹ سے زیادہ ہوتی رہی۔[13]

ٹاؤن کی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکا پہلی منزل پر ہوا جبکہ فائرنگ دوسری منزل پر ہوئی تھی۔ عینی شاہد طلبہ نے بتایا کہ جب دھماکا ہوا تو کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور جس مقام سے فائرنگ ہو رہی تھی لوگ اس جگہ سے جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔ ٹی وی چینل رشیا-24 کی خبر کے مطابق حملے کی جگہ پر 200 فوجی بھیجے گئے تھے۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Аксенов: 18 человек погибли в результате взрыва в колледже в Керчи"۔ ТАСС۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  2. "Teenage girl becomes 20th Crimea victim"۔ بی بی سی نیوز۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "Ружье "для самообороны" и картечь на волка – стало известно, какое оружие использовал "Керченский стрелок""۔ dialog.ua۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اکتوبر 2018۔
  4. "'We want to live': Terrifying VIDEOS of students fleeing Kerch college massacre"۔ RT International (امریکی انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  5. "Теракт в Крыму"۔ لینٹا۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  6. "Nineteen People Dead, Up to 50 Injured Due to Incident in Kerch, Russia (VIDEO)"۔ اسپوٹنک (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  7. "Росгвардия назвала терактом взрыв в колледже в Керчи"۔ ویدوموستی۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  8. "Студент застрелил 18 человек в керченском колледже۔ СК больше не считает это нападение терактом"۔ میدوزا (روسی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  9. "Законно ли у Влада Рослякова было оружие? Законно۔ (Was Vladimir Roslyakov's weapon legal? Yes, it was.۔.)"۔ VKontakte (Mash)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Валерий Береснев، Елена Колебакина-Усманова، Александр Гавриленко۔ "«У кого-то ногу разорвало، у кого-то – голову»: откуда взялся «керченский стрелок – Химик»"۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. روئٹرز۔ "Crimean College Shooting: What We Know So Far"۔ ماسکو ٹائمز (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-18۔
  12. اینڈریو روتھ۔ "Crimea college attack: student carries out mass shooting in Kerch"۔ دی گارڈین (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  13. "At least 17 killed in attack on college in Russian-annexed Crimea"۔ سی بی ایس نیوز (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔
  14. ناتھن ہوج، ایما بروز، داریا تاراسوا اور بیانکا برٹون، سی این این۔ "Teens among 18 killed in attack at Crimea college, Russia says"۔ سی این این۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اکتوبر 2018۔