کشمیر کمیٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

25 جولائی، 1931ء کو جناب نواب ذو الفقار علی کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں علامہ اقبال مرحوم اور قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کا نام ’’آل انڈیا کشمیر کمیٹی‘‘ رکھا گیا اور اس کمیٹی کا چیئرمین مرزائیوں کے سربراہ مرزا بشیر کو بنایا گیا۔ چیئرمین بننے کے بعد مرزا بشیر نے مسلمانوں کے مسائل اجاگر کرنے کی بجائے اس کمیٹی کو قادیانیت کی تبلیغ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اور درپردہ کشمیر کو قادیانی ریاست بنانے کی کوششیں بھی تیز کر دیں۔ جب کہ اس کمیٹی میں علامہ اقبال مرحوم سمیت اکثراراکین مسلمان تھے۔ جس پر ہندوستان اور کشمیر کے مسلمانوں کو سخت تشویش ہوئی۔ مجلس احرار اسلام نے قادیانیوں کے عزائم کو بھانپ لیا اور کشمیر کو قادیانی شکنجے سے بچانے کے لیے "کشمیر چلو" تحریک کا آغاز کیا۔ چنانچہ اس تحریک نے پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کثیر تعداد میں مسلمانوں نے کشمیر کا رخ کیا۔ اور دو مہینوں میں مجلس احراراسلام کے پینتالیس ہزار کارکن گرفتار ہوئے۔ لیکن اس تحریک میں دن بدن شدت آتی چلی گئی۔ بالآخر اس تحریک کے شدید دباؤ کے باعث 7 مئی، 1933ء کو مرزا بشیر الدین محمود نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے استعفاء دے دیا اور علامہ اقبال مرحوم کو نیا صدر منتخب کیا گیا اور جناب ملک برکت علی کو سیکریٹری جنرل بنایا گیا اور پھر ایک دن کشمیر آزاد ہو گیا۔