کلیم الدین احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو زبان ادب کے مشہور نقاد۔ پیدائش 15ستمبر سنہ 1909ء کو عظیم آباد میں ایک ممتاز خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد ڈاکٹر عظیم الدین احمد جہاں پٹنہ یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے وہیں اردو اور فارسی کے شاعر بھی تھے۔ ان کا تخلص عظیم تھا۔ کلیم الدین احمد نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور حافظ عبد الکریم سے گھر پر حاصل کی تھی۔ سنہ 1924ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اورسنہ 1926ء میں پٹنہ یونیورسٹی سے آئی اے کرنے کے بعد سنہ 1928ء میں بی اے آنرس کا امتحان پاس کیا۔1930میں ایم اے انگریزی کرنے کے لیے انگلستان چلے گئے۔ کیمبرج سے فارغ التحصل ہونے کے بعد واپس آئے اور پٹنہ یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔

شہرت[ترمیم]

کلیم الدین کی شہرت کا بڑا دارومدار ان کی متنازع تنقیدی کتاب ’اردو شاعری پر ایک نظر‘ جو 1940ء میں شائع ہوئی تھی۔ جس میں انہوں نے اردو غزل کے بارے میں یہ جملہ لکھا جو اختصار اور برجستگی میں غزل کے کسی عمدہ شعر کی یاد دلاتا ہے: ’غزل نیم وحشی صنف سخن ہے‘۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد ادبی حلقوں میں اس پر کافی شور مچا۔ لیکن کلیم الدین نے اس سے بے نیاز ہو کر اس کے بعد 1942ء میں ”اردو تنقید پر ایک نظر“ شائع ہوئی۔ کتاب اس سے بھی زیادہ ہنگامہ خیز ثابت ہوئی کیونکہ اس کے آغاز میں ہی انہوں نے لکھا ہے ”اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے۔ یہ اقلیدس کا خیالی نکتہ ہے یا معشوق کی موہوم کمر۔ صنم سنتے ہیں تیرے بھی کمر ہے۔۔۔ کہاں ہے کس طرف کو ہے کدھر ہے؟اور پھر اس موہوم کمر کی تلاش میں انہوں نے تذکروں سے لے کر تنقیدی کتابوں اور تبصروں تک کو کھنگال ڈالا اور پھر یہ حکم صادر کر دیا کہ اردو میں تنقید کا وجود محض فرضی ہے۔

متنازع نقاد[ترمیم]

بلا شبہ کلیم الدین احمد ایک متنازع تنقید نگار رہے ہیں۔ ان کے بارے میں ہمارے ناقدین کا یہی خیال رہا ہے کہ وہ اردو کی ہرچیز کو انگریزی چشمے سے دیکھتے ہیں اسی لیے انہیں اردو ادب میں کوئی چیز کام کی نظر نہیں آتی۔ غرض کلیم الدین احمد اپنے خیالات اور نظریات کی وجہ سے متنازع شخصیت بن گئے۔ لیکن سنہ 1944میں جب ان کی کتاب ’ اردو زبان اور فن داستان گوئی‘ شائع ہوئی تو اردو والوں کو کچھ اطمینان ہوا کیونکہ انہوں نے داستان گوئی کی ستائش کی تھی۔ سنہ 1955ء میں ان کی کتاب ’سخن ہائے گفتنی‘ شائع ہوئی۔ پھر سنہ 1959ء میں دو تذکرے اور سنہ 1959ء میں دیوان جہاں کی اشاعت ہوئی۔ سنہ 1963ء میں عملی تنقید کی اشاعت ہوئی جو اردو تنقید میں ایک نئی چیز تھی۔

شاعری[ترمیم]

کلیم الدین احمد شاعر بھی تھے، اگرچہ اپنی نظمیں انہوں نے رسائل میں شائع نہیں کروائی تھی لیکن سنہ 1965ء میں ان کا شعری مجموعہ ’بیالس نظمیں‘ شائع ہوا اور سنہ 1966ء میں ’25 نظمیں‘۔ لیکن ان مجموعوں کی پزیرائی نہیں ہوئی، کیونکہ اس میں صرف آزاد نظمیں تھیں اور کلیم الدین احمد اردو شاعری کو اس قدر ہدف بنا چکے تھے کہ کوئی بھی ان کی ستائش کے لیے تیار نہیں تھا۔

تاریخ اور لغت نویسی[ترمیم]

سنہ 1973ء میں کلیم الدین احمد نے ”تاریخ نور“ کی تدوین کی جس میں واجد علی شاہ کے نام ان کی بیگمات کے خطوط ہیں۔ انہوں نے ایک جامع انگریزی اردو لغت بھی تیار کی جسے حکومت ہند کے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے تین جلدوں میں شائع کیا ہے۔

سوانح[ترمیم]

کلیم الدین احمد نے اپنی سوانح عمری” اپنی تلاش “ میں عنوان سے لکھی تھی جو دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ انہوں نے کلیات شاد، دیوان جوشش عظیم آبادی او رمقالات قاضی عبد الودود کی بھی تدوین کی۔

اقبال[ترمیم]

سنہ 1979ء میں علامہ اقبال صدی کے موقع پر انہوں نے ایک اور ہنگامہ خیز کتاب لکھی۔”اقبال ایک مطالعہ“ اور اس کتاب میں انہوں نے علامہ اقبال کی نظمیہ شاعری کو تو سراہا ہے لیکن انہیں عالمی شعرا کی فہرست میں شامل نہیں کرتے۔ ان کی اس کتاب کے جواب میں پروفیسر عبد المغنی نے دو ضخیم کتابیں لکھیں اور کلیم الدین احمد کے نظریات کا مسکت جواب دیتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال عالمی شعرا کی فہرست میں بہت اہم نام ہیں۔ جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہت سے ٹھوس دلائل دیے۔

انتقال[ترمیم]

کلیم الدین احمد کا انتقال 21 دسمبر سنہ 1983ء کو ہوا۔ ان کی خدمات کے لیے انہیں بھارت سرکار نے سنہ 1981ء میں پدم شری کے اعزاز سے نوازا تھا۔

کلیم الدین احمد کی خودنوشت-دو حصوں میں[ترمیم]

http://www.scribd.com/doc/192861216/Apni-Talash-Main-Part-1-Autobiography-Kaleem-Uddin-Ahmed-Cult-Academy-Gaya-Bihar-1975 اپنی تلاش میں-خودنوشت-حصہ دوم-کلیم الدین احمد-بہار اردو اکادمی، پٹنہ-1987

http://www.scribd.com/doc/192873345/Apni-Talash-Main-Part-2-Autobiography-Kaleem-Uddin-Ahmed-Bihar-Urdu-Academy-Patna-1987 اپنی تلاش میں-خودنوشت-حصہ اول-کلیم الدین احمد-کلچرل اکیڈمی گیا، بہار- جنوری 1975

کلیم الدین احمد کی تصویر-بشکریہ نقوش 1964

http://www.flickr.com/photos/rashid_ashraf/11973706023/