کچھوا
کچھوا (انگریزی: Turtle) قدیم ترین زندہ جانوروں میں سے ہے جو پانی اور خشکی دونوں میں زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کے اوپر ایک سخت خول ہوتا ہے، جب کوئی اسے چھوتا ہے تو وہ اس خول میں چھپ جاتا ہے۔ سائنسی طور اسے خزندہ (reptile) میں شمار کیا جاتا ہے۔ خزندے گھسٹ کر چلتے ہیں۔ یہ گھاس کے علاوہ ہر قسم کی غذا کھاتا ہے۔
جسمانی خصوصیات اور عمر
[ترمیم]بعض ماہرین نے کچھوے کی اوسط عمر ڈیڑھ سو (150) سال تک بتائی ہے۔ کچھوے کی سننے کی حس کمزور ہوتی ہے، اس لیے وہ دیکھنے اور سونگھنے کی حسوں سے زیادہ کام لیتا ہے۔ [1]
خول
[ترمیم]خول کچھوے کا خاص عضو ہے جو 60 ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے۔ یہ ہڈیاں، کیرٹن سے بنیںٹھوس پلیٹوں سے ڈھکی ہوتی ہیں جو ایک سخت مادہ ہے۔ جب کوئی جانور کچھوے پر حملہ کرے تو وہ اپنے خول میں چھپ جاتا ہے۔ خول گرمیوں میں کچھوے کو ٹھنڈا بھی رکھتی ہے۔ خول کے مختلف رنگ ہوتے ہیں جن میں سیاہ، گندمی ، زرد شامل ہیں۔
انڈے بچے
[ترمیم]کچھوے کی مادہ 30 کے قریب انڈے دیتی ہے جس میں سے دو چار ماہ میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ آبی کچھوے صرف زمین پر انڈے دیتے ہیں۔ رات کو مادہ ساحل پر مٹی میں گڑھا کھود کر انڈے دیتی ہے اور پھر اسے بھر دیتی ہے۔
اقسام اور مسکن
[ترمیم]یہ جانور پاکستان اور دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پایا جاتا ہے۔یہ جھیل، دریا و تالاب وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔[2][3] کچھوے جو خشکی پر رہتے ہیں وہ انگریزی میں ٹورٹائز (tortoise) کہتے ہیں۔ یہ صرف پیاس بجھانے یا نہانے کے لیے پانی میں اترتے ہیں۔ زمینی کچھوؤں کی 66 اقسام ہیں۔ سمندری کچھوے اور دریائی کچھوے بھی ہوتے ہیں۔
بطور غذا اور استعمالات
[ترمیم]صدیوں سے کچھوے کا گوشت انسان کی مرغوب غذا رہا ہے۔ جب سمندری کچھوے ساحل سمندر پر غول در غول انڈے دینے آتے ہیں، تو نہ صرف ان کا شکار کیا جاتا ہے، بلکہ ان کے انڈے بھی حاصل کیے جاتے ہیں۔
کچھوے کے خول کی ہڈیوں سے عینک کے فریم، سگار کے ڈبے، مختلف زیورات، کنگھیاں ، بٹن اور طرح طرح کی فینسی چیز میں بنائی جاتی ہیں۔ جاپان میں تو ان چیزوں کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ وہاں دلہن کے سامان میں ان چیزوں کی موجودگی جوڑے میں ان چیزوں کی موجودگی جوڑے کی محبت، مسرت اور دولت کی پیش خیمہ خیال کی جاتی ہے۔ چنانچہ کچھوے کے خول اور ہڈیوں سے بنی ہوئی ایسی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی جاپان ہے۔
کچھوے کے انڈے ساحلی علاقوں کی مرغوب ترین ڈش ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں کچھوے کے گوشت اور انڈوں کی بکثرت تجارت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کچھوے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں سے رفتہ رفتہ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ ساحلی علاقوں کی حکومتوں نے ان جانوروں کو نا پید ہونے سے بچانے کی خاطر قانون بنائے ہیں، جس میں کچھوے کے شکار پر سخت سزا میں رکھی گئی ہیں۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ آفاقی انسائیکلوپیڈیا، شمارہ 53، اکتوبر 2011
- ↑ https://jang.com.pk/news/710421
- ↑ https://urdu.arynews.tv/amazing-facts-about-turtle/