ہینڈ بال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہینڈ بال کھیلتے ہوئے کھلاڑیوں کی ایک نمائشی ویڈیو

ہینڈبال یا ٹیم ہینڈبال, فیلڈ بال, یورپی ہینڈبال یا اولمپک ہینڈبال) ایک ٹیم کھیل ہے ۔ اس میں ہر ایک ٹیم میں سات کھلاڑی ہوتے ہیں۔ چھ کھلاڑی میدان میں کھیلتے ہیں جبکہ ساتواں کھلاڑی گول کیپر ہوتا ہے۔کھلاڑی گیند ہاتھ کے ذریعے ایک دوسرے کو دیتے ہیں اور مخالف گول پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ گیند کو گول کے اندر ڈال سکیں۔کھیل کا مجموعی وقت ایک گھنٹہ ہوتا ہے جو 30 منٹ کے دو ہاف پر مشتمل ہوتا ہے۔ مقررہ وقت میں جو ٹیم زیادہ گول کرتی ہے وہ فاتح قرار پاتی ہے۔

جدید ہینڈ بال کا کورٹ 40 میٹر لمبائی اور 20 میٹر چوڑائی کے حامل مستطیل پر مشتمل ہوتا ہے۔چوڑائی کے اضلاع میں گول آنے سامنے نصب کیے جاتے ہیں۔ گول کے وسط سے چھ میٹر کے ڈی نما حصے میں صرف دفاعی گول کیپر کو رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔حملہ آور یا دفاعی ٹیم کا کوئی کھلاڑی اس دائرے میں نہیں آسکتا۔ عام طور پر یہ کھیل ایک ہال میں کھیلا جاتا ہے لیکن بعض ممالک میں فیلڈ بال یا چیک ہینڈ بال کے نام سے کھلے میدان میں بھی کھیلا جاتا ہے۔ اس کی ایک تبدیل شدہ شکل بیچ ہینڈ بال بھی ہے جو ساحل سمندر پر کھیلی جاتی ہے۔یہ تیز کھیل ہے جس میں عام طور پر 20 سے 35 تک گول ہونے کی توقع ہوتی ہے۔دفاعی کھلاڑی حملہ آور کھلاڑیوں کو جسم کی مدد سے روک سکتے ہیں لیکن ہاتھ کی مدد سے دھکا دینے یا کھینچنے کی اجازت نہیں۔دیگر ٹیم کھیلوں کی طرح اس میں بھی مرد و خواتین کی ٹیمیں الگ الگ ہوتی ہیں۔

کھیل کے اصول و ضوابط انیسویں صدی کے اختتام پر وضع کیے گئے۔ ڈنمارک اس کھیل کی جائے پیدائش سمجھی جاتی ہے۔ جدید اصول 1917 میں جرمنی میں شائع کیے گئے۔ اس کے بعد کئی مرتبہ ان میں تبدیلیاں کی گئیں۔مردوں کا  پہلا بین الاقوامی میچ  1925 اور خواتین کا پہلا بین الاقوامی میچ 1930 میں کھیلا گیا۔مردانہ ہینڈ بال پہلی مرتبہ 1936 کے گرمائی اولمپکس (برلن) میں شامل کیا گیا۔یہ میدان میں کھیلا گیا۔1972 کے گرمائی اولمپکس منعقدہ میونخ (جرمنی) میں اسے ہال میں کھیلا گیا۔خواتین کا ہینڈ پہلی مرتبہ1976 میں گرمائی اولمپکس میں شامل کیا گیال

عالمی ہینڈ بال فیڈریشن 1946 میں قائم کی گئی جبکہ 2016 تک اس کے 197 رکن ممالک تھے[1] ۔ یہ وسطی یورپ کا مقبول کھیل ہے اور 1938 سے لیکر اب تک اس کے  ایک علاوہ تمام مردانہ چیمپئن یورپی ممالک ہی رہے۔خواتین میں بھی یورپی ٹیمیں ہی چھائی ہوئی ہیں تاہم جنوبی کوریا اور برازیل نے بھی ایک ایک مرتبہ خواتین کی چیمپئن شپ جیتی ہے۔یورپ کے علاوہ یہ مشرق بعید، شمالی افریقہ اور جنوبی امریکہ میں بھی مقبول ہے۔

آغاز اور ترقی[ترمیم]

1972 کے اولمپکس کے موقع جاری ہونے والی ڈاک ٹکٹ

اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ رومی خواتین زمانہ قدیم میں ہینڈ بال سے ملتا جلتا کھیل "ایکسپلوزم لیوڈورے" کھیلتی تھیں[2] ۔مختلف علاقوں میں اسے مختلف ناموں سے کھیلا جاتا رہا ہے۔19 ویں صدی میں "ہینڈ بولڈ" کے نام سے یہ ڈنمارک اور جمہوریہ چیک کے علاقے ہیزینا میں، ہینڈ بول کے نام سے یوکرائن اور ٹور بال کے نام سے جرمنی میں کھیلا جاتا رہا ہے۔[3]

19 ویں صدی کے اواخر میں باقاعدہ اصول وضع ہونے کے بعد اسے یورپ خاص طور پر ڈنمارک، جرمنی، ناروےاور سویڈن میں پزیرائی ملی۔ 1906 مین پہلی مرتبہ ڈینش نژاد اولمپک میڈلسٹ لیفٹننٹ ہولگرنیلسن نے اس کے اصولوں کو لکھا۔ وہ کوپن ہیگن کے آرڈرپ گرائمر سکول میں جسمانی تربیت کے استاد تھے۔ جدید اصول 29 اکتوبر 1917 کو شائع ہوئے جنہیں میکس ہیزئر، کارل شیلنز اور ایرک کونائی نے شائع کیے ۔ ان کا تعلق جرمنی سے تھا۔1919 میں انہیں کارل شیلنز نے بہتر کیا۔مردوں کی ٹیم کا پہلا بین الاقوامی میچ  جرمنی اور بیلجیئم کے درمیان 1925 اور خواتین کا میچ 1930 میں جرمنی بمقابلہ آسٹریا کھیلا گیا۔

1926 میں کانگریس آف انٹرنیشنل امچیور ایتھلیٹکس فیڈریشن نے ایک کمیٹی قائم کی جس کا مقصد فیلڈ بال کے لیے فیلڈ بال کے اصول وضع کرنا تھا۔انٹرنیشنل امچیور ہینڈ بال فیڈریشن کا قیام 1928 میں عمل میں آیا جبکہ انٹرنیشنل ہینڈ بال فیڈریشن 1946 میں قائم ہوئی۔

1936 میں پہلی مرتبہ برلن میں منعقد ہونے والے گرمائی اولمپکس میں مردانہ فیلڈ بال کو متعارف کرایا گیا۔اگلے کئی برسوں تک سکنڈے نیویا کے ممالک میں اس کھیل نے ارتقا کے مراحل طے کیے۔ خاص طور یہ ہال کے اندر کھیلے جانے والے کھیل کے طور پر مقبول ہوا۔میونخ میں ہونے والے 1972 کے گرمائی اولمپکس میں دوبارہ شامل کیا گیا جبکہ 1976 میں پہلی مرتبہ خواتین کی ہینڈ بال کو گرمائی اولمپکس (مونٹریال) میں جگہ ملی۔ یہیں سے اس کھیل کو عالمی شہرت ملی اور یہ دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنا شروع ہوا۔

عالمی ہینڈ بال تنظیم نے پہلی مرتبہ 1938 میں مردوں کی چیمپئن شپ منعقد کرائی اور ہر تین یا چار سال بعد 1995 تک یہ منعقد ہوتی رہی۔درمیان میں دوسری جنگ عظیم کے باعث یہ مقابلے نہ ہو سکے۔ 1995 میں یہ مقابلے آئس لینڈ میں ہوئے اور فیصلہ کیا گیا کہ ہر انہیں ہر دوسال بعد کرایا جائے گا۔ خواتین کی چیمپئن شپ 1957 میں شروع ہوئی۔ ائی ایچ ایف مرد و خواتین کے علاوہ جونیئر ٹیموں کی چیمپئن شپ بھی کراتی ہے۔2009 میں آئی ایچ ایف کے پاس 166 رکن ممالک  رجسٹر تھے جن کی سات لاکھ پچانوے ہزار ٹیمیں اور کم و بیش ایک کروڑ نوے لاکھ کھلاڑی یہ کھیل کھیل رہے تھے۔

اصول[ترمیم]

کھیل کے اصول فیڈریشن کی ویب سائٹ سے لیے جاسکتے ہیں تاہم ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔[4]

خلاصہ[ترمیم]

ہر میچ دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا۔ہر ٹیم میں کل ساتھ کھلاڑی ہوں گے جن میں سے چھ میدان میں کھیلیں گے جبکہ ایک گول کیپر ہوگا۔گول کرنے کے لیے ہر ٹیم کو گیند مخالف ٹیم کے گول میں پھینکنا ہوگا۔ کھلاڑیوں کو ان اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔

  • گیند حاصل کرنے کے بعد کھلاڑی گیند کو اپنے رکھ سکتا ہے، دوسرے کھلاڑی کو پاس کرسکتا ہے یا پھینک سکتا ہے۔
  • اگر گیند کھلاڑی کے پاس ہے تو وہ لازمی اسے ہر تین سیکنڈ میں ٹپ دے گا۔ 
  • دفاعی گول کیپر  علاوہ کوئی اور کھلاڑی خواہ اس کا تعلق حملہ آور یا دفاعی ٹیم سے ہو چھ میٹر کے ڈی کے اندر زمین کو نہیں چھو سکتا۔تاہم گیند کو گول میں پھینکنے کے بعد حملہ آور کھلاڑی ایسا کرسکتا ہے لیکن گیند کے گول میں جانے سے پہلے وہ اس علاقے میں داخل ہوا تو گول تسلیم نہیں کیا جائے گا۔گول کیپر اس علاقے سے باہر جاسکتا ہے لیکن اسے  گول ایریا باؤنڈری سے گزرتے ہوئے گیند کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں
  • گیند  گول کیپر کو پاس نہیں کی جاسکتی جب وہ ایک مرتبہ گول ایریا میں داخل ہو جائے۔

کھلاڑی گول ایریا کے اندر ہوا میں گیند کو ہاتھ لگا سکتے ہیں، پاس دے سکتے ہیں اور گول میں بھی پھینک سکتے ہیں

کھیل کا میدان[ترمیم]

ہینڈ بال کے کھیل کے میدان
اگر کھیل کھلے میدان میں کھیلا جارہا ہو

عالمی معیار کے مطابق کھیل کے میدان کی لمبائی 40 جبکہ چوڑائی 20میٹر  ہوتی ہے۔چوڑائی کے رخ پر دو گول آمنے سامنے نصب کیے جاتے ہیں۔ ان گولز کے سامنے انگریزی حرف ڈی کی طرح کا نصف دائرہ لگایا جاتا ہے جس کا رداس چھ میٹر ہوتا ہے۔اس نصف دائرے سے باہر ایک اور نصف دائرہ نو میٹر رداس کا لگایا جاتا ہے اسے فری تھرو لائن کہا جاتا ہے۔ میدان کے وسط میں ایک لکیر میدان کو لمبائی کے رخ آدھا آدھا تقسیم کرتی ہے۔

گول[ترمیم]

گول پوسٹ دو میٹر بلند ہوتے ہیں جبکہ تین میٹر چوڑے رکھے جاتے ہیں۔کھلاریوں کو نمایاں نظر آنے کے لیے انہیں رنگ کیا جاسکتا ہے۔کوشش کی جانی چاہئے کہ دونوں گول پوسٹ پر ایک ہی رنگ کیا جائے۔

یہ بھی اچھی چیز ہے کہ فٹ بال کی طرح گول کے پیچھے کی طرف جال لگایا جائے تاکہ جب گیند گول اندر پھینکی جائے تو معلوم ہو جائے کہ گیند پوسٹ کے اندر سے گزری ہے۔

ڈی علاقہ[ترمیم]

ہاکی کے ڈی کی طرح ہینڈ بال کا بھی نصف دائرے کا ڈی بنایا جاتا ہے۔کھیل میں اس ڈی کی کافی اہمیت ہے کیونکہ دفاعی گول کیپر کے علاوہ کوئی اور کھلاڑی خواہ اس کا تعلق کسی بھی ٹیم سے ہو ڈی میں داخل نہیں ہوسکتا تاہم وہ ڈی کے اندر ہوا میں اچھل کر گیند پھینک سکتا ہے۔

اگر کوئی حملہ آور کھلاڑی ڈی میں داخل ہوتا ہے یا اس کے جسم کا کوئی حصہ ڈی اندر زمین پر لگتا ہے تو اس کی ٹیم کے خلاف فاؤل دیا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی دفاعی کھلاڑی ایسا کرتا ہے تو بھی یہ فاؤل ہوتا ہے۔

انتظامی علاقہ[ترمیم]

40 میٹر والے اضلاع کے باہر دونوں ٹیموں کے متبادل کھلاریوں، کوچ اور دیگر عملہ کے بیٹھنے کی جگہ بنائی جاتی ہے۔وونوں ٹیموں کا عملہ ایک ہی طرف بیٹھے گا لیکن اسی طرف ہی بیٹھے گا جس طرف ان کا گول ہوگا۔ آدھے وقت کے بعد جب دونوں ٹیموں کے گول بدلے جائیں گے تو عملہ کے بیٹھنے کی جگہ بھی بدل جائے گی۔ میچ کے دوران ایک ٹیم کا عملہ دوسری ٹیم کے عملہ کے علاقہ میں نہیں جائے گا

وقت[ترمیم]

ٹیم ٹائم آؤٹ

16 سال سے زائد کھلاڑیوں کا میچ 30 منٹ کے دو ہاف پر مشتمل ہوتا ہے۔دونوں ہاف کے درمیان دس سے پندرہ منٹ کا وقفہ رکھا جاتا ہے۔آدھے وقت کے بعد دونوں ٹیمیں گول کی جگہ بدل جاتی ہیں۔ کم عمر کھلاڑیوں میں ہر ہاف کا وقت کم کرکے 25 یا 20 منٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ہر ملک اور ہر ٹورنامنٹ کے اپنے اپنے اوقات ہو سکتے ہیں

اگر میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے گول برابر ہوں تو میچ برابری پر ختم ہو جائے گا لیکن میچ کا فیصلہ لازمی ہے جیسا کہ ناک آؤٹ راؤنڈ وغیرہ تو پھر 5 منٹ کے دو اضافی وقت دیے جاسکتے ہیں جن کے درمیان 1 منٹ کا وقفہ ہوگا۔اگر تب بھی فاتح کا فیصلہ نہ ہو پائے تو پینلٹی شوٹ آؤٹ دیے جائیں گے جب تک کہ فیصلہ نہ ہو جائے۔

میچ کے دوران ریفری ٹائم آؤٹ دے سکتا ہے  اور اس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے جیسا کہ کسی کھلاڑی کو چوٹ لگ جانا، کسی کھلاڑی کی معطلی یا کورٹ کی صفائی وغیرہ۔ اسی طرح گول کیپر کی تبدیلی کے لیے ٹائم آؤٹ دیا جاتاہے۔

2012 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں ٹیمیں میچ کے دوران ایک منٹ پر مشتمل تین مرتبہ ٹائم آؤٹ لے سکتی ہیں۔ ہر ہاف میں زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ٹائم آؤٹ لیا جاسکتا ہے۔ جب ایک ٹیم ٹائم آؤٹ لے گی تو دوسری ٹیم کو از خود ٹائم آؤٹ ملے گا لیکن اس کا اپنا ٹائم آؤٹ برقرار رہے گا۔اس طرح ہر ٹیم کو چھ مرتبہ ٹائم آؤٹ مل سکتا ہے۔قانون کے مطابق ٹائم آؤٹ کھیل کے دوران کسی بھی وقت لیا جاسکتا ہے تاہم وہی ٹیم ٹائم آؤٹ لے گی جس کے پاس گیند ہوگی۔اس مقصد کے لیے ٹیم کا عملہ سبز رنگ کا ایک کارڈ یا انگریزی حرف ٹی کو ٹائم کیپر کے سامنے لہرائے گا۔ٹائم آؤٹ خواہ ریفری کی طرف سے ہو یا ٹیم کی طرف سے ٹائم کیپر گھڑی کو روک دے گا۔

ریفری[ترمیم]

ایک ہی وقت میں دو ریفری کھیل کے میدان میں موجود ہوتے ہیں دونوں ہاف لائن مخالف طرف رہتے ہوئے کھیل کو چلاتے ہیں۔ بعض جگہوں پر ایک ہی ریفری بھی تعینات کی جاسکتا ہے۔ریفری کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ حالات و واقعات کے مطابق دونوں ریفری مل کر بھی کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ریفری کے فیصلے کے خلاف اسی وقت اپیل کی جاسکتی ہے جب ریفری کوئی فیصلہ قانون کے مطابق نہ دے۔

نیلی قمیض میں ملبوس ریفری دونوں ٹیموں کے درمیان موجود ہے۔

دونوں ریفری اس طرح سے میچ میں کھڑے ہوتے ہیں کہ دونوں ہی پورے میچ کو دیکھ سکیں اور ساتھ ہی گیند کے باہر جانے کا بھی خیال رکھ سکیں۔ ان دونوں ریفریز کے کردار بھی میچ کے دوران مختلف ہو جاتے ہیں۔جس ٹیم کے ہاف میں گیند ہوتی ہے وہاں کا ریفری فیلڈ ریفری کہلاتا ہے جبکہ دوسرے ہالف کا ریفری گول ریفری کہلاتا ہے۔ جونہی گیند ہاف لائن کے دوسری طرف آتی ہے ویسے ہی دونوں ریفریز کے کردار بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔

آئی ایچ ایف نے ریفریز کے لیے اٹھارہ اشارے بھی ترتیب دیے ہیں۔ کھلاڑیوں کو فاؤل پر پیلا اور سرخ کارڈ بھی دکھائے جاسکتے ہیں [5] ۔ اس کے علاوہ اپنی طرف توجہ مبذول کرانے کے لیے سیٹی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

ریفری کے علاوہ سکور کیپر اور ٹائم کیپر بھی موجود ہوتے ہیں۔ سکور کیپر کا کام دونوں ٹیموں کے کیے گولوں کا ریکارڈ رکھنا ہے۔ ایک سکور کیپر اسی وقت کسی ٹیم کا گول اپنے ریکارڈ میں درج کرے گا جب ریفری گول کا اشارہ دے گا۔ اسی طرح ٹائم کیپر وقت کا خیال رکھے گا اور جونہی اسے ریفری کی طرف سے کسی بھی قسم کے ٹائم آؤٹ کا اشارہ ملے گا گھڑی کو روک دے گا۔ کھیل کا آدھا یا مکمل یا اضافی وقت ختم ہونے کا اشارہ یا سیٹی بھی ٹائم کیپر ہی دے گا۔

کھلاڑی، متبادل کھلاڑی اور دیگر عملہ[ترمیم]

ہر ٹیم کے ساتھ کھلاڑی ایک وقت میں میدان میں اتر سکتے ہیں جبکہ ان کے متبادل کھلاڑی میدان سے باہر بنچ پر اپنے حصے میں موجود رہتے ہیں۔گول کیپر ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں سے مختلف رنگ کا لباس پہنے گا۔کھلاڑیوں کی شرٹ پر نمبر موجود ہوتے ہیں اور جب کسی کھلاڑی کو تبدیل کرنا ہو نمبر کے ذریعے کسی بھی وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن یہ کام انتظامی علاقے میں ہوگا اور اس کے لیے ریفری کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ فٹ بال کے برعکس کھلاڑی بار بار تبدیل ہو سکتے ہیں

جرمن ہینڈ بال کے قانون کے مطابق جونیئر ٹیم کھلاڑی اسی وقت تبدیل کیے جاسکتے ہیں جب ٹائم آؤٹ لیا گیا ہو۔ اس کا مقصد ماہر کھلاڑیوں کو جلد ٹیم میں شامل ہونے سے روکنا ہے۔

میدان کے کھلاڑی[ترمیم]

کھلاڑی گھٹنوں سے اوپر جسم کے کسی بھی حصے سے گیند کو چھو سکتے ہیں۔ کوئی بھی کھلاڑی تین سیکنڈ یا تین قدم سے زیادہ گیند کو ہاتھ میں نہیں رکھ سکتا۔ اگر یہ وقت ختم ہو جائے تو ریفری اس کے خلاف فاؤل دے سکتا ہے۔ فاؤل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑی گیند کسی دوسرے کھلاڑی کو پاس کرے، پھینکے یا ٹھپے دیتا رہے۔ ٹھپے دینے کے دوران وہ صرف گیند کے اوپری حصے کو چھو سکتا ہے یعنی اس دوران گیند کو پکڑنا فاؤل ہے۔اگر ٹھپے دینے کے بعد کھلاڑی گیند کو پکڑ لے تو پھر اگلی مرتبہ ٹھپے دینے لے لیے لازمی ہے کہ وہ گیند کو پھینکے یا دوسرے کھلاڑی کو پاس کرے۔ جب گیند دوبارہ آئے گی تبھی وہ دوبارہ ٹھپے دے سکتا ہے۔ڈی میں گیند گول کیپر کے علاوہ گیند کو ہاتھ لگانا فاؤل ہے اور گیند فوری طور پر مخالف ٹیم دی جاسکتی ہے۔

گول کیپر[ترمیم]

صرف گول کیپر کو اجازت ہے کہ وہ ڈی کے احاطے میں حرکت سکتا ہے تاہم گول کیپر ڈی کی حد سے گزرتے ہوئے گیند کو نہ تو ہاتھ میں لے سکتا ہے اور نہ ہی ٹھپے دےسکتا ہے۔گول کیپر اپنے جسم کے کسی بھی حصے بشمول پاؤں سے گیند کو چھو سکتا ہے۔تاہم گھٹنوں سے نیچے چھونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے وہ صرف دفاع کے مقصد کے لیے کررہا ہو ورنہ یہ فاؤل شمار ہوگا۔کھیل کے دوران ہی کسی گول کیپر کو کھلاڑی سے بدلا جاسکتا ہے یعنی گول کیپر کھلاڑی اور کھلاڑی گول کیپر بن سکتا ہے تاہم کھلاڑی کے گول کیپر بننے کی صورت میں اسے اپنی قمیض پر کوئی ایسا واضح نشان لگانا ہوگا جس سے باآسانی معلوم ہو سکے کہ وہ گول کیپر ہے۔گول کیپر کی تبدیلی سے متعلق قوانین نئے ہیں اور انہیں 2015 میں پہلی مرتبہ خواتین کی عالمی چیمپئن شپ میں آزمایا گیا اس کے بعد جنوری 2016 میں ہونے والی مردوں کی عالمی چیمپئن شپ میں بھی انہیں شامل کیا گیا۔2016 کے ریو اولمپکس میں بھی قانون استعمال کیا گیا۔

اگر گول کیپر گیند کو گول لائن کے اوپر سے میدان سے باہر پھینک دے تو گیند دوبارہ اسی ٹیم کو ملے گی (فٹ بال میں ایسا کرنے سے مخالف ٹیم کو کارنر ملتا ہے)۔گول کیپر ڈی کے اندر سے تھرو پھینک سکتا ہے اسے گول کیپر تھرو کہتے ہیں (جیسا کہ فٹ بال میں گول کک ہوتی ہے)۔ 

ڈی کے باہر گول کیپر بھی عام کھلاڑی کی طرح کھیلے گا اور اس پر وہی قوانین لاگو ہوں گے۔اسی طرح گول کیپر گیند ہاتھ میں لے کر یا ٹھپے دیتے ہوئے اپنے ڈی میں واپس نہیں آسکتا

دیگر عملہ[ترمیم]

ہر ٹیم زیادہ سے زیادہ چار افراد کو عملہ میں شامل کرسکتی اور یہ عملہ کسی بھی طرح کھیل میں حصہ نہیں لے گا۔ایک رکن کو نمائندہ قرار دیا جائے گا۔ کوچ، فزیو اور منتظم اس کے علاوہ ہو سکتے ہیں۔نمائندہ ہی وہ شخص ہوگا جو ٹائم آؤٹ لے گا۔یہی شخض ہی سکور کیپر، ٹائم کیپر اور ریفری سے گفتگو کا مجاز ہوگا۔ریفری کی اجازت کے بغیر عملہ کا کوئی فرد کورٹ میں داخل نہیں ہوسکتا

گیند[ترمیم]

گیند درجہ سوم

گیند گول ہوتی ہے جو چمڑے یا اسی قسم کے کسی اور مادے سے بنائی جاتی ہے۔اس میں بھی ہوا بھری جاتی ہے۔تاہم اس کی سطح کھردری اور غیر چمکدار ہونی چاہئے۔ چونکہ کھلاڑی گیند کو ایک ہی ہاتھ سے تھام سکتے ہیں لہٰذا ہر عمر کے لحاظ سے اس کا حجم مختلف ہو سکتا ہے۔

سائز کلاس فریم
(سینٹی میٹر)
فریم
(انچ)
وزن
(گرام)
وزن
(اونس)
سوم خواتین اور مرد (16 سال سے زیادہ) 58–60 23–24 425–475 15.0–16.8
دوم مرد (12 سال سے زیادہ)، خواتین 14 سال سے زیادہ) 54–56 21–22 325–375 11.5–13.2
میں نے 8 سال سے زیادہ 50–52 20–20 290–330 10–12

تھرو[ترمیم]

ریفری کھلاڑیوں کو گیند کو خصوصی طور پر پھینکے کی اجازت دے سکتا ہے ۔ گول ہونے کے بعد، گیند کے میدان سے باہر جانے کے بعد، فاؤل ہونے کی صورت میں اور ٹائم آؤٹ کی صورت میں۔ایسی صورت میں گیند پھینکنے والا کھلاڑی ریفری کی سیٹی کا انتظار کرے گا۔ درج ذیل قسم کی تھرو پھینکی جاتی ہیں۔

تھرو آف

یہ  تھرو کھیل کے آغاز، درمیانی وقفہ کے اختتام یا گول سکور ہونے کے بعد پھینکی جاتی ہے۔اس صورت میں تھرو پھینکنے والا کھلاڑی درمیانی خط کو پر ایک پاؤں رکھے گا۔ دفاعی کھلاڑی درمیانی خط سے کم از کم تین میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہوں گے اور جب تک کھلاڑی تھرو نہیں پھینکے گا یہ کھلاڑی قریب نہیں آئیں گے۔مخالف کھلاڑی اپنے ہاف میں رہیں گے اور تھرو پھینکنے سے قبل نصف خط عبور نہیں کریں گے۔جدید ہینڈ بال میں جلد تھرو پھینکے کا تصور ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ دفاعی کھلاڑیوں کو منطم ہونے سے پہلے پہلے حملہ کی جائے۔

تھرو-ان

اگر کھیل  کے دوران کوئی کھلاڑی گیند سائڈ لائن سے باہر پھینک دے یا گیند چھت کو مار دے تو مخالف ٹیم کو تھرو ان دی جائے گی۔اگر گول کیپر اپنی طرف سے گیند کو گول لائن سے باہر پھینکے یا گول کیپر کے جسم سے چھو کر باہر چلی جائے تو   گیند دوبارہ اسی ٹیم کو ملے گی لیکن اگر کوئی کھلاڑی پھینکے یا اس کے جسم سے چھو کر باہر چلی جائے تو پھر مخالف ٹیم کو تھرو ان دی جاتی ہے۔ تھرو ان کی صورت میں گیند پھینکنے والا کھلاڑی لائن پر ایک پاؤں رکھے گا۔ تمام دفاعی کھلاڑی کم از کم تین میٹر دور ہوں گے

گول کیپر تھرو

اگر گیند حملہ آور ٹیم کے کھلاڑی یا دفاعی گول کیپر کے جسم سے لگ کر باہر چلی جائے تو دفاعی گول کیپر کو گول کیپر تھرو ملے گی۔ اسی طرح اگر حملہ آور ٹیم کا کوئی کھلاڑی ڈی میں داخل ہوتا ہے تو بھی گول کیپر تھرو ملے گی۔یہ تھرو گول کیپر ڈی کے اندر کہیں سے بھی پھینک سکتا ہے لیکن یہ تھرو ڈی کے باہر سے نہیں پھینکی جاسکتی۔

فری تھرو

یہ فٹ بال کی فری کک کی طرح ہے۔ اگر میدان میں کسی ٹیم کا کوئی کھلاڑی فاؤل کرتا ہے تو مخالف ٹیم کو اسی مقام پر فری تھرو دی جائے گی۔
سات میٹر کی تھرو

سات میٹر کی تھرو

یہ ہاکی پینلٹی سٹروک یا فٹ بال کے پینلٹی شوٹ جیسی تھرو ہے۔ جب ریفری یہ محسوس کرے کہ گول ہونے کا واضح امکان تھا اور حملہ آور کھلاڑی کو غلط طریقے سے روکا گیا ہے تو وہ یہ تھرو دے سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے حملہ آور کھلاری گول سے ساتھ میٹر کے فاصلے پر رہے گا جبکہ گول کیپر گول سے تین میٹر آگے ٹھہرے گا۔اس دوران کوئی اور کھلاڑی دخل اندازی نہیں کرے گا۔ تھرو پھینکنے کے لیے کھلاڑی ریفری کے فیصلے کا انتظار کرے گا۔فٹ بال کی طرح ہینڈ بال میں بھی اس تھرو میں ری باؤنڈ ہوتا ہے یعنی جونہی گیند تھرو کرنے والے کے ہاتھ سے نکلے گی کھیل شروع ہو جائے گا۔دیگر کھیلوں کی نسبت ہینڈ بال میں پینلٹی شوٹ یا سات میٹر تھرو ملنے کے کافی امکانات ہوتے ہیں

سزائیں[ترمیم]

ہینڈ بال میچ میں پیلا کارڈ دکھایا جارہا ہے۔

کھیل کے اصول ضوابط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کھلاڑیوں کو سزا دی جاسکتی ہے۔ سزا کی شدت کا انحصار صورت حال پر ہوتا ہے۔ میدان میں سزا سنانے کا اختیار صرف اور صرف ریفری کو ہے۔ ریفری صورت حال کے مطابق کھلاڑی یا ٹیم کے خلاف سزا دے سکتا ہے۔ ان میں فری تھرو یا سات میٹر کی تھرو بھی شامل ہیں۔ دوسرے کھلاڑیوں کو ہاتھ سے روکنا، دھکا دینا، قمیض پکڑنا کھینچنا، ٹانگوں سے ایسی کوئی حرکت کرنا جس سے مخالف کھلاڑی کو چوٹ لگنے کا خدشہ ہو۔ ریفری کی سیٹی کے باوجود کھیل جاری رکھنا یا مخالف کھلاڑی کے ہاتھ سے گیند چھیننا  بھی فاؤل ہے۔

اگر ریفری کو یہ محسوس ہو کہ کھلاڑی نے جان بوجھ کر فاؤل کیا ہے تو وہ پیلا کارڈ  دکھا کر خبر دار کرسکتا ہے۔اگر صورت حال زیادہ خراب محسوس ہو تو کارڈ کے علاوہ دو منٹ کی معطلی کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔اگر کسی کھلاڑی کو دو مرتبہ دو منٹ معطلی کی سزا دی جاچکی ہو اور پھر بھی فاؤل کرے تو اسے سرخ کارڈ دکھایا جاسکتا ہے۔اگر کسی کھلاڑی کو دو منٹ معطلی کی سزا دی گئی ہے تو اس کی جگہ متبادل کھلاڑی میدان میں نہیں جائے گا لیکن اگر کسی کھلاڑی کو سرخ کارڈ دکھایا گیا ہے تو مستقل طور پر میدان چھوڑ دے گا اور یہ میچ کے دوران واپس نہیں آئے گا۔ البتہ دو منٹ کے بعد اس کھلاڑی کی جگہ متبادل کھلاڑی آسکتا ہے۔

جدید قوانین کے مطا بق کسی کھلاڑی کے پیچھے سے حملہ آور ہونا بھی فاؤل ہے۔ کھلاڑیوں کے علاوہ کوچ یا منتظم کو بھی ریڈ کارڈ یا دو منٹ معطلی کی سزا دی جاسکتی ہے۔تاہم عملہ کے جرم پر کسی کھلاڑی کو بھی باہر بلایا جاسکتا ہے۔تاہم یہ کھلاڑی کی سزا میں شمار نہیں ہوگا۔

جب ریفری یہ اشارہ کرے کہ گیند فوری طور پر مخالف ٹیم کو دی جائے تو کھلاڑی کو چاہئے کہ گیند کو فوراََ زمین پر رکھ دے۔ اس کرنے میں تاخیر کی صورت میں دو منٹ معطلی کی سزا ہوسکتی ہے۔ریفری کے ساتھ بحث کرنے یا اس کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے پر بھی یہ سزا دی جاسکتی ہے۔

کھیل[ترمیم]

ترتیب[ترمیم]

دفاعی ترتیب(نیلے رنگ میں) جب کھلاڑی گول کا دفاع کررہے ہوں۔ اسے 5-1 کا دفاع بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ایک دفاعی کھلاڑی آگے ہوتا ہے جبکہ پانچ پیچھے
حملے کی ترتیب (سرخ رنگ میں)۔ جب کھلاری حملہ آورہوں۔اسے 6-0 کی ترتیب کہتے ہیں کیونکہ تمام چھ کھلاڑی (علاوہ گول کیپر) اس میں شامل ہوتے ہیں

فٹ بال کی طرح یہاں بھی کھلاڑیوں کو ان کے مقام کے لحاظ سے کھلایا جاتا ہے۔ یہ مقامات گول کیپر کے لحاظ سے رکھے جاتے ہیں لہٰذا ایک ٹیم کادائیں حصہ دوسری ٹیم کے بائیں حصے کے مقابل ہوتا ہے۔بالکل بائیں حصے میں موجود دفاعی کھلاڑی فار رائٹ (FR) کہلاتا ہے جبکہ اس کے سامنے حملہ آور ٹیم کا لیفٹ ونگر (LW) ہوتا ہے۔اسی طرح بائیں جانب کے فار لیفٹ (FL) کے سامنے رائٹ ونگر (RW) ہوگا۔فار رائٹ کے بائیں جانب ہاف رائٹ (HR) جبکہ اس کے سامنے لیفٹ بیک کورٹ (LB) ہوگا۔ گول کیپر کے سامنے دو بیک سینٹر (BC) ہوں گے جبکہ ان کے درمیان میں حملہ آور ٹیم کا پائیوٹ (P) ہوگا۔ہاف لیفٹ (HL) کے سامنے رائٹ بیک کورٹ (RB) جبکہ حملہ آور ٹیم کا سنٹر بیک کورٹ (CB) درمیان میں ہوگا۔

حملہ[ترمیم]

  • دائیں اور بائیں کے کھلاڑی تیز ، مظبوط اور لمبے رکھے جاتے ہیں کیونکہ ان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ طویل چھلانگیں لگا کر گیند کو دفاعی کھلاڑیوں کے اوپر سے گول میں دال سکیں۔یہاں کھلاڑی کے دائیں اور بائیں ہاتھ کا خیال رکھا جاتا ہے۔
  • لیفٹ اور رائٹ بیک کورٹ کھلاڑی بھی اہم حملہ آور ہوتے ہیں لٰہذا یہاں بھی لمبے کھلاڑیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
  • سینٹر بیک کورٹ کا مقصد انتظامی ہوتا ہے۔ عام طور پر یہاں سے گول ہونا مشکل ہوتا ہے۔لہٰذا جوابی حملے کی صورت میں یہ کھلاڑی جلد از جلد اپنے ہاف میں پہنچ کر دفاعی مقام سنبھالتے ہیں۔
  • پائیوٹ ایسا کھلاڑی ہوتا ہے جو درمیان میں رہتے ہوئے دفاعی کھلاڑیوں کو مصروف رکھتا ہے۔ اگرچہ یہاں سے گول کرنا سب سے آسان ہے لیکن اس مقام کی حفاظت کے دفاعی ٹیم دو کھلاڑی کھڑے کرتی ہے۔ یہاں موجود کھلاڑی گیند کو دائیں سے بائیں اور بائیں دے دائیں پاس کرتا ہے۔

ہر ٹیم میچ کے دوران اپنی حکمت عملی تیار کرتی ہے اور ضرورت کے ایک کی بجائے دو پائیوٹ بھی کھڑے کیے جاسکتے ہیں

دفاع[ترمیم]

دفاع میں عام طور پر تمام سات کھلاڑی موجود ہوتے ہیں اور اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے حملہ آور کھلاڑیوں کو روکتے ہیں۔ بعض اور اوقات زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے لیے حملہ آور ٹیم کے ایک پائیوٹ کے ساتھ دو بیک سینٹرز کھڑے کرنے کی بجائے ایک کو ہی یہ ذمہ داری دی جاتی ہے جبکہ دوسرے بیک سینٹر کو مخالف ٹیم کے سینٹر بیک کورٹ کے ساتھ بطور فرنٹ سینٹر کھڑا کیا جاتا ہے۔اگر اچانک جوابی حملہ ہو جائے تو فرنٹ سینٹر دفاعی کھلاڑیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی گول کرسکتا ہے

جارحانہ کھیل[ترمیم]

حملہ اور دفاع میں تمام کھلاڑی ہی حصہ لیتے ہیں۔ تاہم حملہ کے وقت عام طور پر گول کیپر شامل نہیں ہوتا لیکن کانٹے دار مقابلے کھیل کے آخری لمحات میں گول کیپر بھی حملہ آور کھلاڑیوں کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہے۔عام طور کھلاڑی باڑھ (لہروں) کی شکل میں حملہ آور ہوتے ہیں۔انہیں پہلی دوسری اور تیسری باڑھ کہتے ہیں

خواتین کی ہینڈبال۔ ایک کھلاڑی اچھل کر فاسٹ بریک مکمل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
مردوں کی ہینڈ بال۔یہ کرل لازاروف کی تصویر ہے جنہوں نے ایک ہی چیمپئن شپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کررکھا ہے۔

پہلی باڑھ

یہ کوشش سب سے کامیاب ثابت ہوتی ہے۔ دفاعی کھلاڑی کوشش کرتے ہیں کہ جب مخالف ٹیم کے تمام کھلاڑی حملہ کر رہے ہوں تو کسی طرح ان سے گیند حاصل کرکے جلد از جلد مخالف ٹیم کے گول تک پہنچا جائے۔عام طور پر دائیں بائیں کے کھلاڑی یہ کام زیادہ تیزی سے کرتے ہیں کیونکہ دفاع کی براہ راست ذمہ داری ان پر نہیں ہوتی۔
دوسری باڑھ
اگر پہلی باڑھ ناکام ہو جائے  اور کچھ کھلاڑی اپنے علاقے میں پہنچ کر دفاعی حصار قائم کر لیں تو دوسری باڑھ شروع ہوتی ہے۔اس میں کسی ایک کھلاڑی پر یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انتہائی تیزی کے ساتھ دیگر کھلاڑیوں کو پچھاڑتا ہوا گول کر دے۔
تیسری باڑھ
یہ عام طریقہ ہے۔ جب ایک طرف حملہ ناکام یا کامیاب ہو اور تمام حملہ آور کھلاڑیوں کو واپس اپنے علاقے میں پہنچ کر دفاع حصار قائم کرنے کا موقع مل جائے تو پھر تیسری باڑھ شروع ہوتی ہے۔ اس می دونوں ٹیموں کے تمام کھلاڑی شامل ہوتے ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر حملہ دائیں یا بائیں سے کیا جاتا ہے۔

اگر ریفری یہ محسوس کرے کہ کسی ٹیم کے کھلاڑی جان بوجھ کر سست کھیل رہے ہیں (اکثر کھیل کے آخری لمحات میں جب کوئی ٹیم تھوڑے سے واضح فرق سے جیت رہی ہو تو وہ زیادہ دھیان دفاع پر دیتی ہے) تو معفول کھیل کے متعلق خبردار کرسکتا ہے۔اس صورت میں گیند دوسری ٹیم کو مل جاتا ہے۔زیادہ سنگین حالات میں پیلا کارڈ یا کسی خاص کھلاڑی کی معطلی بھی ہوسکتی ہے۔

دفاعی کھیل[ترمیم]

عام طور پر تمام کھلاڑی دفاع پر آجاتے ہیں۔ اگر یہ چھ میڑ (ڈی) کی حفاظت کر رہے ہوں تو  اسے 1-6 کی ترتیب کہتے ہیں۔جب پانچ  کھلاڑی 6 میڑ کے دائرے میں چلے جائیں اور ایک 9 میٹر کے دائرے میں تو اسے 1-5 کی ترتیب کہتے ہیں۔ایک ترتیب جسے 4-2 کی ترتیب بھی کہا جاتا ہے اس میں دو کھلاڑی 9 میٹر جبکہ چار کھلاڑی 6 میٹر کے دائرے میں ہوتے ہیں۔انتہائی جارحانہ دفاعی کھیل میں 3-3 کی حکمت عملی بھی اپنائی جاتی ہے جس میں تین کھلاڑی ڈی پر جبکہ تین کھلاڑی 9 میٹر کے دائرے پر ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہاں سے گیند چھین لینے کی صورت میں گول کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں  لیکن دفاع بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔

تنظیم[ترمیم]

ہینڈ بال کلبز کی شکل میں کھیلا جاتا ہے۔ کلب مل کر ملکی سطح پر ایک ایسوسی ایشن بناتے ہیں۔عام طور پر ایسوسی ایشن ایک منتخب تنظیم ہوتی ہے جس کے ارکان کلب کے نمائندے بذریعہ ووٹ چنتے ہیں۔

عالم تنطیم[ترمیم]

انٹرنیشنل ہینڈ بال فیڈریشن (آئی ایچ ایف) وہ عالمی تنطیم کو عالمی ہینڈ بال کو منظم کرتی ہے۔تمام ملکی ایسوسی ایشنز اس کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک منتخب شدہ تنظیم ہے جس کے ارکان کو بذریعہ ووٹ چنا جاتا ہے۔

آئی ایچ ایف کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرد و خواتین کے ٹورنامنٹ کرائے اور کھیل کی ترقی کے لیے قوانین وضع کرے[6] ساتھ ہی کھیل کے فروغ کے لیے کوششیں کرنا بھی تنظیم کا ہی کام ہے۔ ہینڈ بال کے تمام عالمی مقابلے اسی تنظیم کے زیر انتظام ہوتے ہیں۔اس وقت ہینڈ بال کا عالمی چیمپئن فرانس ہے جس نے یہ مقام 2017 کی عالمی چیمپئن شپ میں جیتا جبکہ خواتین کا عالمی چیمپئن بھی فرانس ہے [7]

اس وقت ہینڈ بال کی عالمی تنظیم پانچ براعظمی تنظیموں پر مشتمل ہے جس میں ایشئن ہینڈ بال فیڈریشن، افریقن ہینڈ بال کنفیڈریشن، پین امیریکن ٹیم ہینڈ بال فیڈریشن (شمالی اور جنوبی امریکا)، یورپی ہینڈ بال فیڈریشن اور اوشیانک ہینڈ بال فیڈریشن (بحرالکاہل کے ممالک) شامل ہیں[8] ان تنطموں کا اجلاس ہر دوسال بعد منعقد ہوتا ہے ۔[9]  ہینڈ بال کا کھیل اولمپکس، افریقین گیمز، ایشئن گیمز اور پین امریکن گیمز میں شامل ہے اس کے علاوہ یہ گرمائی اولمپکس، بحیرہ روم کے کھیل اور دیگر کئی مقابلوں میں شامل ہے۔ اس دوران ممالک کے مابین بھی اس کی مقابلے ہوتے رہتے ہیں۔ عالمی تنظیم ان تمام کھیلوں پر نظر رکھتی ہے۔[10]

عالمی مقابلے[ترمیم]

  • پین امریکن چیمپئن شپ (مرد وخواتین) 

قومی کھیل[ترمیم]

یورپ[ترمیم]

  • آسٹریا: ہینڈ بال لیگا آسٹریا، مرد و خواتین کی لیگ
  • بیلجئم: بینے لیگ ہینڈ بال۔ یہ مقابلے نیدرلینڈ کے تعاون سے ہوتے ہیں
  • بوسنیا ہرزے گوینا
  • کروشیا: کروشئن فرسٹ لیگ آف ہینڈ بال
  • جمہوریہ چیک: زبر ایکسٹرا لیگا
  • ڈنمارک: دیمے ہینڈبال لیگن، جیک ایند جونز لیگن
  • انگلینڈ: انگلینڈ ہینڈ بال ایسوسی ایشن
  • فرانس: لیگو نیشنل ڈی ہینڈ بال
  • جرمنی: ہینڈ بال بینڈاس لیگا
  • یونان: گریک مین ہینڈ بال چیمپئن شپ
  • ہنگری: مرد و خواتین کی لیگ
  • آئس لینڈ: آلس ڈیلن
  • اسرائیل: لیگٹ ونر
  • مقدونیہ: مقدونیہ ہینڈ بال لیگ
  • مونٹی نیگرو: مرد و خواتین کی درجہ اول اور دوم لیگ
  • نیدرلینڈ : بیلجئم کے ساتھ مشترکہ
  • ناروے: مرد و خواتین
  • پولینڈ: مرد و خواتین کی لیگ
  • پرتگال: مردو خواتین کی لیگ
  • رومانیہ: مرد وخواتین کی لیگ
  • سکاٹ لیند: سکاٹش ہینڈ بال لیگ
  • سربیا: سربین فرسٹ لیگ آف ہینڈ بال
  • سلویکیا: ایکسٹرا لیگا
  • سلوینیا: سلوینین فرسٹ لیگ آف ہینڈ بال، ہینڈ بال کپ آف سلوینیا
  • سپین: لیگا ایسو بال
  • سوئڈن مرد و خواتین کی لیگ

دیگر[ترمیم]

  • انگولا: مرد و خواتین
  • آسٹریلیا: آسٹریلین ہینڈ بال کلب چیمپئن شپ
  • ہیٹی: ہیٹین ہینڈ بال لیگ
  • ترکی: ترک ہینڈ بال لیگ
  • ریاست متحدہ امریکا: یو ایس اے ہیند بال لیگ
  • جاپان: جاپان ہینڈ بال لیگ
  • ارجنٹائن: ارجنٹینا کفیڈریشن ہینڈ بال

شائقین کی حاضری[ترمیم]

جدید دور میں شائقین کی تعداد کا سب سے بڑا ریکارڈ 6 ستمبر 2014 کو اس وقت بنا جب جرمن ہینڈ بال لیگ میں ہیم برگ اور مین ہائم کے میچ کے دوران 44189 افراد  کی حاضری دیکھی گئی۔یہ مقابلہ کومرز بینک ایرینا فرینکفرٹ میں منعقد ہوا۔اس پہلے یہ ریکارڈ کوپن ہیگن میں پارکنسن سٹیڈیم میں ہونے والے مقابلے کے پاس تھا جس میں 36651 تماشائی آئے تھے۔ یہ مقابلہ 2011 کے ڈینش کپ کا تھا۔

یادگاری سکے[ترمیم]

ہینڈ بال کے مقابلوں میں کچھ یاد گاری سکے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ 2003 میں یونان نے ایک یادگاری سکہ جاری کیے جس کی مالیت 10 یورو تھی۔ یہ سکہ 2004 میں ہونے والے اولمپکس کے موقع پر منظر عام پر آیا۔اس سکے پر قدیم جدید ہینڈ بال کے کھیل کو دکھایا گیا تھا۔[11]

2012 کے لندن اولمپکس کے موقع پر بھی پچاس پینس مالیت کا سکہ جاری کی گیا تھا۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Member Federations"۔ International Handball Federation۔ 
  2. John Anthony Cuddon, The Macmillan Dictionary of Sports and Games, p.393, Macmillan, 1980, ISBN 0-333-19163-3
  3. SegaAlex in Serinex.NET۔ "Handball History : HAND-BALL.ORG"۔ www.hand-ball.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 November 2017۔ 
  4. "The official Handball rules (PDF)" (PDF)۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 July 2012۔ 
  5. Official rules, hand signal 13
  6. "Regulations for IHF Competitions"۔ International Handball Federation۔ September 2007۔ صفحہ 10۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 February 2009۔ 
  7. "France make it a double, Norway dethroned"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-12-18۔ 
  8. "Deportes Panamericanos - Balonmano" (Spanish زبان میں)۔ Guadalajara 2011۔ اصل سے جمع شدہ 4 February 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 February 2009۔ 
  9. "Handball at the 2007 All Africa Games in Algiers"۔ International Handball Federation۔ 20 July 2007۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 February 2009۔ 
  10. "Bylaws"۔ International Handball Federation۔ September 2007۔ صفحہ 7۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 February 2009۔ 
  11. "Athens 2004 - Series F coins"۔ Fleur de Coin۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 September 2016۔ 
  12. "London 2012 Olympic and Paralympic Games"۔ RoyalMint.com۔ 2012۔ اصل سے جمع شدہ 31 March 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 September 2016۔ 

شراکت دار: انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا بعنوان "ٹیم ہینڈ بال" تاریخ اشاعت 3 مئی 2017

بیرونی روابط[ترمیم]

میڈیا کا تعلق ویکی میڈیا ہیند بال سے ہے