یار محمد قدیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یار محمد قدیم بدخشی شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کا خلیفہ خاص تھا۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

یار محمد قدیم بدخشی مجدد الف ثانی کے قدیم مریدوں میں تھے اور تعلیم طریقت کی اجازت سے مشرف و ممتاز تھے۔

لقب[ترمیم]

یار محمد بدخشی قدیم کے لقب سے اس لیے یاد کیے جاتے تھے کہ آپ کے بعد آپ کے علاقے سے ایک اور صاحب مجدد الف ثانی کے حلقہ ارادت میں آئے۔ اس کا نام بھی "یار محمد" تھا۔ لہذا وه یارمحمد جدید اور آپ قدیم کہلائے اور اسی سے مشہور ہوئے۔

وجاہت[ترمیم]

یار محمد بدخشی بڑے حسین تھے۔ ایک روز آپ نے محمد ہاشم کشمی سے فرمایا: میں اپنی پیشانی کے حسن اور داڑھی کے بڑا ہونے پر بہت زیادہ شکر گزار ہوں کیونکہ جب میں بازاروں سے گزرتا ہوں تو عوام میں سے جو بھی مجھے دیکھتا ہے، وہ نبی کریم پر درود شریف پڑھنے لگتا ہے۔ مولانا بدرالدین سرہندی آپ کے حالات میں تحریرفرماتے ہیں: آپ بہت حسین تھے اور جو آپ کو دیکھتا تھا سبحان اللہ کہتا تھا۔

زیارت حرمین[ترمیم]

یار محمد قدیم بدخشی 1046ھ بمطابق 1637ء میں فقر و ناداری کامل کے ساتھ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے حجاز مقدس کا سفر اختیار فرمایا اور بیت اللہ شریف کے طواف اور نبی کریم کے روضہ انور کی زیارت کا شرف پایا۔ جب آپ اس مبارک سفر سے واپس تشریف لائے تو محمد ہاشم کشمی کوایک خلوت میں فرمایا: میں نے رکن یمانی کے نزدیک ایک ہووج دیکھا جو آنسرور کے لیے سجایا گیا تھا۔ لوگ آنخضرت کی زیارت کر رہے تھے۔ میں نے زیارت کی تو نبی کریم کو کامل انوار اور زیب و زینت کے ساتھ دیکھا اور اس شان کی لذت و فرحت سے میں مدہوش ہو گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں جھومنے اور اچھلنے لگا۔ حاجیوں کو تعجب ہوا۔ بعض عرب کہتے تھے ، هذا العجم مجنون (یہ عجمی دیوانہ ہے) اور میری زبان سے تمہارا یہ بیت جاری تھا

گر این لیلی از خیمہ بیرون شود بسا کوہ و صحرا کہ مجنون شود

(اگر یہ لیلی خیمہ سے باہر آ جائے تو بہت سے پہاڑ و صحرا مجنون ہو جائے)

مرشد کامل کی نصیحت[ترمیم]

مجدد الف ثانی نے یار محمد قدیم کو ایک مکتوب میں اس طرح نصائح تحریر فرمائی ہیں:

  • جب کوئی طالب تمہارے پاس مرید ہونے کو آئے تو اس کے تعلیم طریقہ میں خوب تامل کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کو اس معاملے میں تمہارا امتحان منظور ہو اور خرابی پیدا ہو۔ خاص کر جب کسی مرید کے آنے سے راحت و مسرت پیدا ہو تو چاہیے کہ اس بارے میں التجا اور تضرع کے ساتھ کئی بار استخارہ کر لو، یہاں تک کہ یقین ہو جائے کہ طریقہ بتانا چاہیے۔ پھر استدراج اور خرابی کا گمان باقی نہیں رہتا، کیونکہ حق سبحانہ کے بندوں میں تصرف کرنا اور ان کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرنا بغیر اللہ تعالی کے اذن کے جائز نہیں ۔ آیت کریمہ لتخرج الناس من الظلمات إلى النور (سورة ابراہیم، یعنی تا کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ۔) اس معاملے کی وضاحت کرتی ہے۔ جب کسی بزرگ کا انتقال ہوا تو خطاب ہوا کہ تو ہی ہے جس نے زرہ پہنی تھی، میرے دین کے لیے میرے بندوں پر؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر ارشاد ہوا کہ تو نے میری مخلوق کو میری طرف کیوں نہ چھوڑا اور اپنے نفس (دل) کو میری طرف کیوں متوجہ نہ کیا؟ (جلد1 مکتوب 211 صفحہ 354)۔

خصائل[ترمیم]

یار محمد قدیم رات کو عبادت کرتے اور دن کو روزہ رکھتے تھے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے بزرگوں کی نسبت کے آثار آپ کی پیشانی سے نمایاں تھے۔ ہمیشہ استغراق، عاجزی، اضمحلال اور استہلاک آپ کے دل کی پسندیدہ خوبیاں تھیں۔ کثیر السکوت و مراقبہ تھے۔ مسکنت وغربت آپ کا خاص وصف تھا۔ فقر و فاقہ اورلقمہ حلال آپ کی خصوصیت تھی۔

وصال[ترمیم]

یار محمد قدیم بدخشی 1046ھ بمطابق 1637ء میں جب حجاز سے واپس تشریف لائے تو اکبر آباد (آگرہ) میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ اکبر آباد آگرہ میں ہی آپ کا وصال ہوا۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ و تذکرہ خانقاہ سرھند شریف مولف محمد نذیر رانجھا صفحہ 574 تا 577