یونکس کی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یونکس
Unix history-simple.svg
Evolution of Unix and Unix-like systems
ترقی دہندہ ترقی دہندہ کین تھامسن, ڈینس رچی, Brian Kernighan, Douglas McIlroy, اور Joe Ossanna at Bell Labs
پروگرام شدہ در C اور اسمبلی زبان
آپریٹنگ سسٹم خاندان یونکس
حالت کار موجودہ
سورس ماڈل Historically ملکیتی سافٹ ویئر, موجودہ کئی یونکس منصوبے (بی ایس ڈی خاندان اور Illumos) are open source
ابتدائی اشاعت 1973؛ 46 برس قبل (1973)
دستیاب زبانیں انگریزی
کرنل طرز Monolithic
متعین صارف انٹرفیس Command-line interface اور گراف صارفی سطح البین (X Window System)
اجازت نامہ ملکیتی سافٹ ویئر
سرکاری ویب سائٹ unix.org

ٰیونکس کی تاریخ ہمیں واپس 1960ء کی دہائی کے وسط میں لے جاتی ہے جب میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، AT&T بیل لیبز اور جنرل الیکٹرک مشترکہ طور پر ایک تجرباتی اور اشتراک زمانی ( time sharing) آپریٹنگ سسٹم جسے ملٹیکس (Multics) کہا جاتا ہے، GE-645 فریم کے لیے تیار کر رہے تھے۔[1] ملٹکس نے کئی اختراعات متعارف کروائیں، لیکن ان میں بہت سے مسائل تھے۔

بیل لیبز، ملٹکس کے  سائز اور پیچیدگیوں سے مایوس ہو چکے تھے، وہ آہستہ آہستہ اس منصوبے سے الگ ہو گئے۔ ملٹکس کو چھوڑنے والے ان کے آخری محققین کین تھامسن، ڈینس رچی، ڈوگ McIlroy اور  Joe Ossanna  نے دوسروں کے ساتھ[2] ایک بہت چھوٹے پیمانے پر دوبارہ کام کرنے کا ارادہ کیا۔[3] 1979 میں ڈینس رچی نے یونیکس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر پیش کیا:[3]

1969[ترمیم]

1969 کے آخر میں، بیل لیبز ایم ائی ٹی اور جنرل الیکٹرک  کے ساتھ  وقت کا اشتراک کرنے کا  نظام تیارکرنے کے منصوبے پر کام کر رہا تھا، جسے ملٹی پلیکسڈ انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ سروس (Multics) کہا جاتاہے،   جو ایک سے زیادہ صارفین کو ایک ہی وقت میں مین فریم تک رسائی کی اجازت دیتا ۔ منصوبے کی ترقی سے غیر مطمئن ہوکر، بیل لیبز کی انتظامیہ  بالآخر منصوبے سے الگ ہو گئی۔

کین تھامسن، ایک پروگرامر نے لیبز' کمپیوٹنگ تحقیق کے شعبہ میں لٹکس پر کام کیا تھا۔ انہوں نے اپنا آپریٹنگ سسٹم لکھنے کا فیصلہ کیا۔  جبکہ اسے اب بھی ملٹکس  تک رسائی حاصل کی تھی، انہوں نے  نئے فائل اور پیجنگ  کے نظام کے لیے مجازی لکھا[وضاحت کی ضرورت ہے]۔ انہوں نے خلائی سفر نامی ایک کھیل کو پروگرام کیا،  لیکن اس کو چلانے کے لیے زیادہ موثر اور کم مہنگی مشین کی ضرورت تھی اور آخر میں انہیں  ایک چھوٹا سا  پی ڈی پی-7  بیل لیبزمیں ملا۔[4][5]  پی ڈی پی-7 پر، 1969 میں،  بیل لیبز کے محققین کی ایک جماعت  نے جس کی  قیادت تھامسن اور رچی سمیت رُڈ کینیڈے(Rudd Canaday) کر رہے تھے،  نظام مراتب کے مطابق  فائل سسٹم  ( hierarchical file system) ،  کمپیوٹر کے عمل( computer processes) اور آلہ کی فائلوں ( device files)  کے تصورات، ایک کمانڈ لائن کے ترجمان ( command-line interpreter) اور کچھ چھوٹے مفید پروگراموں کو تیار کیا۔[3] اس کے نتیجے میں، یونیکس  نظام بن گیا تھا، جو ملٹکس کے تصور کیے گئے نظام سے بہت چھوٹا تھا۔   ایک ماہ کے وقت کے بعد، تھامسن نے، ایک خودکار ہوسٹنگ آپریٹنگ سسٹم (self-hosting operating system) کو ایک اسمبلر، ایڈیٹر اور شیل،  GECOS مشین کا استعمال کرتے ہوئے bootstrapping کے لیے لاگو کیا۔[6]

1970ء[ترمیم]

کین تھامسن (بیٹھے) اور ڈینس رچی مل کر پی ڈی پی-11 پر  کام کر رہے ہیں۔
کین تھامسن اور ڈینس رچی
ورژن 7 یونیکس   پی ڈی پی-11کے لیے,  SIMH میںچل رہا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Brian L. Stuart۔ Principles of operating systems: design & applications۔ Boston, Massachusetts: Thompson Learning۔ صفحہ 23۔ آئی ایس بی این 1-4188-3769-5۔
  2. "In the Beginning: Unix at Bell Labs"۔
  3. ^ ا ب پ Ritchie، Dennis M. (1984). "The Evolution of the Unix Time-sharing System". AT&T Bell Laboratories Technical Journal 63 (6 Part ء2): 1577–93. http://cm.bell-labs.com/cm/cs/who/dmr/hist.html.  نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "Evolution" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "Evolution" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  4. "The Creation of the UNIX* Operating System: The famous PDP-7 comes to the rescue"۔ Bell-labs.com۔ مورخہ 2014-04-02 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-20۔
  5. "The History of Unix"۔ BYTE۔ صفحہ 188۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 جنوری 2015۔
  6. Peter H. Salus۔ The Daemon, the Gnu and the Penguin۔ Groklaw۔