آگاہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

سادہ سے الفاظ میں تو آگاہی (perception) کو یوں کہ سکتے ہیں کہ یہ دراصل کسی حس کو سمجھنے کا عمل ہوتا ہے جو دماغ میں انجام دیا جاتا ہے، یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ آگاہی دراصل کسی حس سے پیدا ہونے والا عقلی تاثر ہوتا ہے۔ اور طب و حیاتیات کے مطابق آگاہی دراصل وہ ادراک (cognition) یا شعور ہے جو دماغ کے محس (sensorium) میں کسی حس کے وارد ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔

آگاہی کا لفظ اپنے عام استعمالات کے علاوہ نفسیات سے بہت گہرا تعلق بھی رکھتا ہے اور علم ادراک (cognitive science) میں اس سے مراد ادراک سے بعد کا درجہ لی جاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے کوئی منبہ (stimulus) کسی حسی (sensory) عضو مثلا آنکھ یا جلد وغیرہ پر موجود حاصلات (receptors) پر کوئی تحریک پیدا کرتا ہے جو کہ (جانداروں کی صورت میں) برقی نوعیت کی ہوتی ہے اور ایک پیغام کی صورت میں دماغ تک جاتی ہے اس عمل کو حصول (acquiring) کہا جاتا ہے پھر جب یہ پیغام دماغ کے محس میں پہنچ جاتا ہے تو وہاں اسکا دوسرے آنے والے پیغامات اور گذشتہ سے موجود یاداشت یا معلومات کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے جس سے ایک حس کے ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے (یہی دراصل ادراک یا cognition ہے) اور پھر اس حس کا انتخاب کیا جاتا ہے جس سے اسکی ایک انفرادی اور عقلی شکل پیدا ہوتی ہے پھر اسکے بعد اسکو دماغ میں ایک مقام ادا کیا جاتا ہے جہاں سے یہ حس دیگر حسوں اور گذشتہ معلومات یا محفوظ یاداشتوں کے ساتھ ملتی ہے اور اسمیں گہرائی اور وسیع معنی (بعض اوقات آنے والی اصل اور حقیقی حس سے زیادہ) نمودار ہوتے ہیں اور دراصل یہی مرحلہ آگاہی یا آگہی کہلاتا ہے۔




مزید دیکھیۓ[ترمیم]