ادھم سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ادھم سنگھ پنجاب کاایک غیور اور دلیر انسان تھا ۔ وہ جلیانوالہ باغ کاالمیہ فراموش نہ کرسکا۔ یہ واقعہ اس کے سینے میں کانٹے کی طرح پیوست ہوگیا ۔ اس نے عزم کرلیا کہ وہ جلیانوالہ باغ کے قاتل ڈائر سے بدلہ لے کر ہی دم لے گا اور اس نے جلیانوالہ باغ کے شہیدوں کی قیمت اس وقت چکائی جب سرمایہ دار قومی نیتا آزادی کے نام پر برطانوی سامراج سے سودا بازی کرنے میں مصروف تھے ۔اُدھم سنگھ کو اپنا عزم پورا کرنے کاموقع جلیانوالہ باغ واردات کے بیس سال بعد ملا جبکہ لندن میں ایک شام کیگسٹن ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر (Michael O'Dwyer)، سانحہ امرتسر کا جلاّد، جسے بیس سال پہلے برطانوی سرکار ہندوستانی عوام کے غضبناک احتجاج کے پیش نظر محض دکھاوے کے لئے لندن کی عدالت میں مقدمہ چلاکر بری کرچکی تھی۔ اگلی صف میں بڑے اطمینان اور سکون سے براجمان تھا۔ اس کو معلو م نہیں تھا کہ اُدھم سنگھ کے روپ میں اس ہال میں کچھ فاصلے پر موجود ہے۔

جونہی تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور کچھ وقفہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مائیکل اوڈائر کا نام نشر ہونے پر وہ اسٹیج پر تقریر کرنے کےلئے کھڑا ہوا۔ تقریب کی جگہ پستول کی گولیوں سے گونج اُٹھی اورجلیا نوالہ باغ کا جنرل ڈائڑ اسٹیج پر ڈھیر ہوگیا۔ حاضرین کی صفوں میں اودھم سنگھ پستول ہاتھ میں لئے کھڑا تھا اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک جھلک تھی اسے گرفتار کرلیا گیا ۔ اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہاکہ وہ جلیانوالہ باغ میں مارے گئے نہتوں کا انتقام لینے کےلئے ہندوستان سے آیا تھا اور اس نے جوکچھ کیا ہے اس پر اسے فخر ہے۔ انگریزوں نے اُدھم سنگھ کو لندن کی ایک جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا،اس طرح سرفروشوںکی فہرست میں ایک سرفروش کا اضافہ ہوگیا ۔