اسٹیفن ہارپر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سٹیفن جوزف ہارپر

2007، G8 سربراہی

برقرار
برسر منصب 
6 فروری 2006ء
بادشاہ الزبتھ دوم
گورنر جنرل مخائل جان
پیشرو پال مارٹن

برقرار
برسر منصب 
28 جون 2002ء
پیشرو پریسٹن ماننگ

در منصب
1993 – 1997

پیدائش 30 اپریل 1959 (1959-04-30) ‏(54)
ٹورانٹو, انٹاریو, کینیڈا
سیاسی جماعت قدامت پسند
(2003–present)
ازواج لارین
بچے بنحمن اور ریچل
سکونت 24 سسکس ڈرائیو, اوٹاوا, انٹاریو
مادر علمی جامع کیلگری
پیشہ ماہر اقتصادیات
مذہب اناجیلی (عیسائی)
دستخط
موقع جال کینیڈا کا وزیر اعظم

سٹیفن ہارپر (stephen harper) کینیڈا کا بائیسواں وزیراعظم ہے، اور قدامت پسند جماعت کا راہنما ہے۔ 2006ء کے مرکزی انتخابات میں اس کی جماعت کی کامیابی کے بعد وہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا۔ دو قدامت پسند جماعتوں، ترقی پسند قدامت پسند اور کینیڈائی اتحاد، کے مغلوبہ کے بعد بننے والی قدامت پسند جماعت سے تعلق رکھنے والا وہ پہلا وزیراعظم ہے۔

ہارپر اپنے قدامت نظریات کے لیے مشہور ہے۔[1]

پارلیمان بند کرو[ترمیم]

دسمبر 2008ء میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سبوتاژ کرنے کی خاطر ہارپر نے گورنر جنرل میخائل یان سے کہہ کر پارلیمان 26 جنوری 2009ء تک بند کرا دی۔[2] پھر اگلے سال دسمبر 2009ء میں جب پارلیمانی شورٰی افغان شہریوں پر تشدد کی تحقیقات کر رہی تھی، ہارپر نے 3 مارچ 2010ء تک پارلیمان پر تالا ڈلوا دیا۔[3] اس کے علاوہ 2009ء میں تین پہرے دار اداروں کا منہ بھی بند کر دیا۔[4] اپنا فرض ادا کرنے پر 2008ء میں جوہری پہرے دار کو بھی ملازمت سے برخواست کر دیا۔[5]

توہین پارلیمان[ترمیم]

25 مارچ 2011ء کو ہارپر حکومت کو توہین پارلیمان کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قرارداد کے زریعہ ہارپر حکومت گرا دی گئی۔[6]

انتخابات 2011[ترمیم]

انتخابی مہم میں طعبیت کی تظبیط پسندی واضح رہی۔[7] کینڈائی قوم نے 2011 انتخابات میں ہارپر کی جماعت کو واضح اکثریت عطا کی۔

حوالہ جات[ترمیم]