اکالوئٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Iqaluit
ᐃᖃᓗᐃᑦ
اکالوئٹ (CanadaGeo)
اکالوئٹ
—  City  —
Aerial view of Iqaluit
متناسقات: 63°44′55″N 068°31′11″W / 63.74861°N 68.51972°W / 63.74861; -68.51972
Country Flag of Canada.svg کینیڈا
Territory Flag of Nunavut.svg نناوت
Region Qikiqtaaluk Region
Electoral districts Iqaluit Centre
Iqaluit East
Iqaluit West
Settled 1942
Village status 1974
Town status 1980
City status 19 April 2001
بانی Nakasuk
حکومت[1][2]
 - قسم Iqaluit Municipal Council
 - Mayor Elisapee Sheutiapik
رقبہ[3]
 - کُل 52.34 کلومیٹر2 (20.2 میل2)
آبادی (2006)[3]
 - کُل 6,184
 کثافتِ آبادی 118.2/کلومیٹر2 (306/میل2)
منطقۂ وقت EST (یو ٹی سی-5)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) EDT (یو ٹی سی-4)
Canadian Postal code X0A 0H0, X0A 1H0
رموز رقبہ 867
Telephone Exchanges 222, 975, 979
NTS Map 025N10
GNBC Code OATRP
ویب سائٹ www.city.iqaluit.nu.ca

اکالوئٹ اکالوئٹ نناوت کا سب سے بڑا شہر اور دارلخلافہ ہے۔ اکالوئٹ بیفن جزیرے کے جنوبی ساحل پر فروبشر بے کے دہانے پر ہے۔ 2006 کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی 6148 افراد تھی جو 2001 کی مردم شماری سے 18 فیصد زیادہ تھی۔ کینیڈا کے کسی بھی دارلخلافے کی یہ کم ترین آبادی ہے۔ یہاں کے باشندے اکالومیوٹ کہلاتے ہیں۔ 1987 سے قبل یہ شہر فروبشر بے کہلاتا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

1942 میں اسے امریکی ائیر بیس کے طور پر آباد کیا گیا۔ اکالوئٹ کا پہلا مستقل باشندہ ناکاسک تھا جو ایک انوئک گائیڈ تھا۔ اس نے امریکی منصوبہ سازوں کو یہ جگہ چننے میں مدد دی تھی۔ اکالوئٹ کا ایک سکول بھی اس کے نام پر ہے۔ کیمپ سائٹ اور مچھلی کے شکار کے لئے مشہور ہونے کی وجہ سے اس کو مقامی لوگوں نے اکالوئٹ یعنی بہت ساری مچھلیاں نام دیا۔ تاہم امریکی اور کینیڈا کے اداروں نے اسے فروبشر بے کا نام دیا۔

1949 میں ہڈسن بے کمپنی نے جنوبی بیفن جزیرے سے اپنا نظم و نسق ہٹا کر یہاں منتقل کیا تاکہ ائیر فیلڈ کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ نئے ریڈار سٹیشن کی تعمیر کے دوران یہاں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ یہاں سینکڑوں مزدور، فوجی اور انتظامی افراد منتقل ہوئے۔ مقامی لوگ بھی نوکریوں اور صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے ادھر منتقل ہونے لگے۔ 1959 کے بعد حکومت نے یہاں مستقل بنیادوں پر بنیادی سہولیات دینا شروع کر دیں جن میں فل ٹائم ڈاکٹر، سکول اور سوشل سروسز بھی شامل تھیں۔ حکومت کی حوصلہ افزائی سے یہاں لوگوں نے تیزی سے منتقل ہونا شروع کر دیا۔

امریکی فوج 1963 میں یہاں سے نکل گئی کیونکہ بین البراعظمی بیلیسٹک میزائلوں کی وجہ سے ریڈار سسٹم کی افادیت اور آرکٹک اڈوں کی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تاہم فروبشر پھر بھی حکومتی سطح پر انتظامی اور لاجیسٹیکل مرکز رہا۔ 1964 میں یہاں پہلے انتخابات ہوئے اور 1979 میں یہاں کا پہلا مئیر چنا گیا۔ ستر کی دہائی میں یہاں گورڈن رابرٹسن ایجوکیشنل سینٹر کے قیام جو کہ اب ہائی سکول ہے سے مقامی لوگوں کا حکومت پر اعتبار قائم ہو گیا۔ بنیاد کے وقت یہ سکول کینیڈا کے کل رقبے کے ساتویں حصے کا واحد سکول تھا۔ یکم جنوری 1987 کو اس میونسپلٹی کا نام سرکاری طور پر فروبشر بے سے بدل کر اکالوئٹ رکھ دیا گیا۔ دسمبر 1995 میں اکالوئٹ کو نُناوُت کا سرکاری طور پر آئیندہ دارلخلافہ قرار دیا گیا۔ 19 اپریل 2001 کو سرکاری طور پر اسے شہر کا درجہ دے دیا گیا۔

جغرافیہ[ترمیم]

اکالوئٹ یوریٹ پہاڑوں پر واقع ہے۔ یہ فروبشر کی خلیج کا دہانہ ہے جو بیفن جزیرے کے جنوب مشرقی حصے میں ہے۔ یہ نُناوُت کے اصل حصے کے مشرق میں ہے اور خلیج ہڈسن سے شمال مشرق میں۔

کمیونٹیز[ترمیم]

اپیکس اکالوئٹ کے مرکز سے پانچ کلومیٹر دور ایک کمیونٹی ہے۔ یہ ایک چھؤٹے سے جزیرہ نما پر واقع ہے۔ جب اکالوئٹ فوجی مرکز تھا تو مقامی افراد کی زیادہ تر تعداد یہاں رہتی تھی۔ اب یہاں خواتین کی پناہ گاہ، ایک چرچ، ایک پرائمری سکول اور جائے قیام و طعام ہے۔

موسم[ترمیم]

آرکٹک سرکل سے باہر ہونے کے باوجود بھی اکالوئٹ کا موسم عام آرکٹک نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہاں کی سردیاں بہت سخت اور گرمیاں بھی اتنی سرد ہوتی ہیں کہ یہاں درخت نہیں اگتے۔ درختوں کی آخری حدود سے باہر کچھ پودے اور جھاڑیاں اگتی ہیں جنہیں مقامی لوگ درخت کہتے ہیں۔ انہیں آرکٹک کا بید مجنوں بھی کہتے ہیں۔ کم بلندی کی وجہ سے انہیں درخت تسلیم کرنا آسان نہیں۔

مستقل جمی ہوئی برف کی وجہ سے جڑیں چھ انچ سے زیادہ گہری نہیں جا سکتیں اس وجہ سے نباتات کی اونچائی محدود رہتی ہے۔ آرکٹک بید مجنوں ہو سکتا ہے کہ 25 فٹ تک افقی انداز میں پھیل جائے لیکن اس کی اونچائی بمشکل ہی چھ انچ یعنی نصف فٹ تک ہوتی ہے۔ اوسطاٗ ماہوار درجہ حرارت سال میں آٹھ ماہ تک صفر سے نیچے رہتے ہیں۔ اکالوئٹ میں سالانہ 400 ملی میٹر یعنی 16 انچ سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ یہاں موسم گرما میں سب سے زیادہ مرطوبیت ہوتی ہے۔

آبادی[ترمیم]

مقامی قبائل تقریباً 57 فیصد اور غیر مقامی 41 فیصد ہیں۔ زبانوں میں انگریزی کو بولنے والے 41.2 جبکہ فرانسیسی کو بولنے والے 5.4 فیصد افراد ہیں۔یہاں پروٹسٹنٹ فرقے کے پیروکاروں کی تعداد 64 فیصد سے زیادہ، رومن کیتھولک 19 فیصد سے زیادہ، دیگر عیسائی 2.5 فیصد، دیگر مذاہب 1.25 فیصد اور 12.5 فیصد افراد کا کوئی مذہب نہیں۔

ذرائع نقل وحمل[ترمیم]

اکالوئٹ کو آبادی کے لحاظ سے کینیڈا کا سب سے چھوٹا دارلخلافہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے کیونکہ یہاں کوئی شاہراہ نہیں آتی۔ یہ شہر ایک جزیرے پر اور کینیڈا کی شاہراوں کے نظام سے دور واقع ہے۔ یہاں تک رسائی کا واحد راست ہوائی جہاز ہیں تاہم موسم کی مناسبت سے کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ اکالوئٹ کا ائیر پورٹ دوسری جنگ عظیم کے دور کے رن وے کے ساتھ تمام جدید سہولیات سے مزین ہے۔ یہاں تقریباً ہر قسم کا جہاز اتر سکتا ہے۔ تاہم اسے ناسا کی خلائی شٹل کی ہنگامی لینڈنگ کا مرکز کہلایا جانا ایک افواہ ہے۔ سرد موسم میں ہوائی جہازوں کی ٹیسٹنگ کا مرکز بھی یہاں ہے مثلاً فروری 2006 میں ائیر بس اے 380 یہاں آئی تھی۔

موسم گرما کے وسط میں چند بحری جہاز مال برداری اور بھاری سامان شہر کو لاتے ہیں۔ کارگو کو چھوٹی کشتیوں میں لاد کر ساحل تک لایا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی بندرگاہ زیادہ گہری نہیں۔ شہر میں گہرے پانی کی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہاں کے تجربہ کار مقامی لوگ برف جمنے کے بعد ہڈسن کی سٹریٹ سے ہوتے ہوئے آر پار سو کلومیٹر کا سفر پیدل، کتا گاڑی یا سنو موبائل سے طے کرتے ہیں۔

اکالوئٹ میں مقامی سڑکوں کا نظام نزدیک موجود اپیکس کی کمیونٹی سے سلویا گرینل ٹیریٹوریل پارک ریزرو تک ہی محدود جو شہر سے ایک کلومیٹر باہر ہے۔ اکالوئٹ میں فی الوقت پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں۔ تاہم شہر میں ٹیکسیاں موجود ہیں۔ موٹر گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اب یہاں کبھی کبھار ٹریفک بھی جام ہو جاتا ہے تاہم یہاں کے انتہائی سرد موسم میں گاڑیوں کو درست حالت میں رکھنا اور منتقلی کے اخراجات وغیرہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں اور سڑکوں کی بری حالت کے باعث لوگ سنو موبائل کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی گاڑیاں جو ہر جگہ چل سکتی ہوں، کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ شہر کے اندر اور آس پاس آنے جانے کے لئے سنو موبائل کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سردیوں میں کتا گاڑیاں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ تاہم اس کا بنیادی مقصد محض تفریح ہوتا ہے۔ سردیوں میں نزدیکی پارکوں تک صرف سنو موبائل، پیدل یا پھر کتا گاڑی سے ہی جایا جا سکتا ہے۔ گرمیوں میں دونوں پارکوں تک بذریعہ کشتی بھی جاتے ہیں۔

شہری اور کاروباری مراکز کو عمارتی نمبروں سے پہچانا جاتا ہے تاہم کبھی کبھار کسی مشہور عمارت کا نام بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ شہری اچھی طرح جانتے ہیں کہ شہر میں کس نمبر کی عمارت کہاں ہے۔ عمارتوں کے نمبر ایک ساتھ ہوتے ہیں مثلاً کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ 2600 نمبروں والی عمارت میں رہتے ہیں۔2003 میں گلیوں کے نام رکھے گئے تاہم ان کو ابھی تک فائنل نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی رائج ہیں۔ اسی طرح سڑکوں کو نمبر بھی نہیں دیئے گئے اور عمارتی نمبر ہی استعمال ہوتے ہیں۔

تعمیرات اور باعث کشش جگہیں[ترمیم]

اکالوئٹ کی زیادہ تر عمارتوں کی تعمیر بامعنی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد تعمیراتی سامان کا کم استعمال اور حرارت کو محفوظ رکھتے ہوئے موسم کو برداشت کرنا ہے۔ 1950 کی دہائی کی ابتدائی تعمیرات ملٹری بیرکیں تھیں۔ تاہم 1970 کی دہائی میں فائبر گلاس کی مدد سے نکاسک کا سکول بنایا گیا ۔ نئی عمارتیں زیادہ خوبصورت اور پائیدار ہیں۔

نُناوُت کی قانون ساز اسمبلی کی عمارت معمول سے ہٹ کر ہے۔ اس کا اندرونی حصہ انوئت آرٹ سے سجایا گیا ہے۔

ایک اور منفرد عمارت سینٹ جوڈ کا اینجلی کن کیتھڈرل ہے جو اگلو کی طرح کی سفید عمارت ہے۔ اس کی تعمیر عبادت کرنے والے افراد نے کی اور وہیل کی مقامی نسل کے دانتوں سے صلیب بنائی گئی تھی۔ تاہم 5 نومبر 2005 کو اس عمارت کو جان بوجھ کر نظر آتش کرنے کے بعد عمارت کے اندرونی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اسے یکم جون 2006 کو گرا دیا گیا۔ نئے کیتھیڈرل کی تعمیر کے لئے چندہ جمع کیا جا رہا ہے۔ ایک بلند پہاڑی پر انوکسک سکول موجود ہے جو چار حصوں کو ملا کربنا ہے۔ اس کی شکل لونگ کے پتے سے ملتی ہے۔

یہاں ایک عجائب گھر بھی موجود ہے جہاں انوئت اور آرکٹک اشیاٗ جمع ہیں۔

اکالوئٹ کے مغرب میں سلویا گرینل ٹیری ٹوریل پارک ریزرو موجود ہے۔ اس پارک کی اہم خاصیت سلویا گرینل دریا ہے۔ آبشار کے دہانے پر موجود ایک سیاحت کا مرکز اس علاقے کے اچھے مناظر دکھاتا ہے۔

میڈیا[ترمیم]

یہاں پانچ ایف ایم ریڈیو اور تین ٹی وی چینل بھی کام کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Council Members
  2. ^ Election Results - 2008 General Election
  3. ^ 3.0 3.1 Canada 2006 census

متناسقات: 63°44′55″N 068°31′11″W / 63.74861°N 68.51972°W / 63.74861; -68.51972 (Iqaluit)