بھوجا ائیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بھوجا ائیر
IATA
B4
ICAO
BHO
Callsign
BHOJA
تاسیس 1993
حجم بیڑا 3
مقامات منزل 5
ابائی مرافقہ بھوجا گروپ
صدر دفاتر کراچی, پاکستان
کلیدی لوگ محمد فاروق عمر بھوجا (چیئرمین)

محمد ارشد جلیلl (مینیجنگ ڈائریکٹر)

موقع حبالہ http://www.bhojaair.com.pk/

بھوجا ائیر پاکستان کی اس پہلی نجی ایئر لائن تھی جس نے سنہ 1993ء میں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے دورِ حکومت میں اپنے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت کراچی لاہور اور کوئٹہ کے درمیان پروازیں شروع کی گئی تھیں۔ کمپنی کے پاس اس آپریشن کے لیے بوئنگ 747 طیارے موجود تھے۔ 1998ء میں بھوجا ایئر لائن نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی پرواز یعنی کراچی سے دبئی پروازوں کاآغاز کیا۔ اس کے بعد یہ پروازیں ملک کے تمام اہم شہروں سے شروع کی گئیں مگر مالی بحران کی وجہ سے یہ آپریشن 2001 میں معطل کر دیا گیا۔ تقریباً ایک دہائی کے بعد مارچ 2012 میں بھوجا ایئر لائن نے اپنا دوسرا جنم لیا اور چند پروازیں بحال کیں۔ اس موقع پر بھوجا ایئر لائن کی انتظامیہ نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ یورپ اور امریکہ پروازوں کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

حادثے[ترمیم]

20 اپریل 2012 کو بھوجا ایئر کی کراچی کے جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈے کیلئے پہلی پرواز تھی جو اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گئی۔ بھوجا ایئر لائن کا مسافر طیارہ اسلام آباد ہوائی اڈے کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں عملے کے پانچ ارکان، اور پانچ شیر خواروں سمیت ایک سو ستائیس افراد جاں بحق ہوگئے۔

بھوجا ائرلائن کی پرواز نمبربی فور 213 جمعہ کی شام 5بج کر10منٹ پرکراچی سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئی۔ طیارہ اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوا تو لینڈنگ کیلئے چھ بج کر چالیس منٹ پر طیارے کو لینڈنگ کیلئے کلیئر کر دیا گیا۔ شدید بارش اور خراب موسم میں طیارے نے لینڈنگ کیلئے پوزیشن لی تو طیارہ 2ہزار فٹ کي بلندي پر تھا جب اس کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ جس کے بعد بوئنگ سیون تھری سیون طیارہ اسلام آباد کے بے نظیر انٹر نیشنل ایئرپورٹ سے صرف پانچ کلو میٹر دور راولپنڈی اسلام آباد کی سرحد پر واقع حسین آباد کے علاقے میں کورال چوک میں گھروں پر گر کر تباہ ہو گیا اور انسانی اعضا اور جہاز کے ٹکڑے کئی سو میٹر کے علاقے میں پھیل گئے۔ بدقسمت روسی ساختہ طیارے کو کیپٹن نور اللہ آفریدی اور کو پائلٹ مشتاق اڑارہے تھے۔ طيارے کے پائلٹ نے کسي خرابي کي نشاندہي نہيں کي تھی اور طيارے کاحادثہ تين ساڑھے تين منٹ ميں پيش آيا. ْمحکمہ موسميات پاکستان کے مطابق سول ايوی ايشن کو دو مرتبہ انتہائي خراب موسم کي وارننگ دی گئی تھی۔ انتہائی خراب موسم کي وارننگ کے بعد جو طيارہ حادثہ کا شکار ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

فہرست پاکستانی خطوط ہوائی

بیرونی روابط[ترمیم]