بیدو خان
بیدو خان ایران کا چھٹا ایلخانی حکمران تھا۔یہ طراغائی کا بیٹا اور ہلاکوخان کا پوتا تھا۔بیدو خان صفر ۶۹۴ھ/اپریل ۱۲۹۵ء میں ایران کے تخت پر بیٹھا۔ اس کے پیشرو گیخاتو خان کو ۶۹۴ھ/۱۲۹۵ء میں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ اس کے بعد باغیوں نے بیدو خان کو تخت نشینی کی دعوت دی مگر اس کا دوسرا چچیرا بھائی غازان خان جو ارغون خان کا بیٹا اور گیخاتو خان کا بھتیجا تھا، اس سے مقابلے کیلئے خراسان سے لشکر لے کر چچا کا بدلہ لینے کے لیے میدان میں نکل آیا۔ لیکن دونوں میں ایک عارضی سی صلح ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد جب دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو اس کا فیصلہ غازان خان کے حق میں ہوگیا اور غازان نے نوروز کی تحریک (تحریک نوروز ) سے جو غازان کا سپہ سالار تھا اسلام قبول کر لیا اور اس طرح اسے مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ بیدو خان کے طرف داروں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور جب وہ بھاگنے کی فکر میں تھا تو اسے قتل کردیا گیا۔بیدو خان نے کل سات ماہ حکومت کی۔بعض کے نزدیک اس نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔[1]
- ^ مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا,مصنف؛مرحوم قاسم محمود،ص-۴۱۳