جنگ عین شمس 640ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

جنگ عين شمس 640ء
عرب ۔ بازنطینی رومی جنگیں
Obelisk-SesostrisI-Heliopolis.JPG
تاریخی فرعونی مسلۃ (منار) عین شمس میں پایا جاتا ہے
تاریخ 6 جولائی 640ء
مقام عین شمس، مصر
نتیجہ خلافت راشدہ کی فیصلہ کن فتح
متحارب
بازنطینی روم خلافت راشدہ
قائدین
ثیوڈور
مقوقس
دومنتیانوس
اریشن
حضرت عمرو ابن العاص ؓ
الزبير بن العوام بن خويلد ؓ
مقداد بن عمرو البهرائی ؓ
خارجہ بن حذيفہ ؓ
عبيدہ بن الصامت‎ ؓ
قوت
20،000 15،000
نقصانات
بھاری درمیانی

جنگ عین شمس عرب مسلم فوج اور بازنطینی افواج کے درمیان مصر پر قابو پانے کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ یہ جنگ 6 جولائی 640ء میں صدیوں پرانے، فرعونی شہر عین شمس میں لڑی گئی۔

پس منظر[ترمیم]

جب نئے خلیفہ،حضرت عمر ابن الخطاب الفاروق (رضی اللہ عنہ) نے 634ء میں اپنے اقتدار کا آغاز کیا تو مشرق وسطی میں بین الاقوامی صورت حال ایک نئی اور جرات مندانہ طاقت کے اقتدار کے لئے موزوں تھی: خطے کے دو روایتی اہم طاقتوں، بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں میں ایک دوسرے کو فتح کرنے کی جو 20 سال سے زیادہ جنگ جاری تھی نے انہیں کمزور کر دیا تھا۔ ساسانی سلطنت خانہ جنگی میں ڈوب گئی، جبکہ بازنطینی روم، عمر دراز شہنشاہ ہرقل اور کم وسائل کے ساتھ اپنی افرادی قوت اور اپنے پرانے دشمنوں کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھی۔ دونوں ریاستیں کافی اندرونی بحران کی وجہ سے، مسلم توسیع کو روکنے کے قابل نہیں رہیں۔

فتح شام کے بعد 634 اور 638 کے درمیان، عربوں نے مصر کی جانب رخ کیا۔ افریقہ پر حملے نے بازنطینیوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ ہرقل نے اپنے امیروں پر بھروسہ کیا اور ان کے کہنے پر کہ؛

"مسلمانوں کو فارس ہضم کرنے کے لئے ایک اور نسل کی ضرورت ہو گی، اس لئے ایک اور تھوک حملہ شروع کرنے کی ساخت ان میں نہیں ہے"۔

ہرقل اپنے امیروں پر انحصار کرنے پر مجبور تھا اور اس کا نتیجہ مکمل تباہی ثابت ہوا۔

حملہء مصر[ترمیم]

حضرت عمر ابن الخطاب الفاروق (رضی اللہ عنہ) نے 639ء میں حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) کو فتح مصر کے لئے روانہ کیا۔حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) نے صرف چار ہزار جان بازوں کے ساتھ مصر کی سرحد عبور کی۔ العریش اور الفَرَما پر قبضہ کرکے بلبيس پہنچے جہاں ایک ماہ تک اس کو قبضہ کرنے میں لگ گیا۔ لیکن اس کے فورا بعد حصن بابليون کا محاصرہ کیا، جس سے مذاکرات میں ایک چھوٹی سی کوشش کے بعد، طوفانی یلغار سے 6 اپریل 640 میں، جو قبظی عیسائی کی گوڈ فرائیڈے یعنی اچھا جمعہ تھا، فتح کر لیا۔ یہاں سے وہ سیدھا دریائے نیل پر کسی مقام جسے ام ضنين کہا جاتا ہے پہنچے اور اس علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ یہاں پر انہیں بے شمار تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ محاصرے کے جنگی آلات کا بھاری تعداد میں فقدان ہونے کے ساتھ ساتھ دفاعی فوج کی تعداد بھی زیادہ تھی۔ لیکن ام ضنين بھی آخرکار فتج کر لیا گیا۔

اس دوران حضرت عمر ابن الخطاب الفاروق (رضی اللہ عنہ) نے جون 640ء میں ایک دوسری فوج کو مصر روانہ کیا جس کا مقصد تھا کہ حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) کی فوج کے ساتھ مل کر انکی زیر قیادت میں اسکندریہ کو فتح کریں۔ یہ فوج ام ضنين کے محاصرے کے دوران عین شمس پہنچی اور اس شہر کے محاصرے میں محو تھی جب حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) ام ضنين سے فارغ ہو کر، الفيوم سے ہوتے ہوئے،‎ ان کے ساتھ جا ملے۔ وہ اسکندریہ کی طرف نقل و حرکت کے لئے تیاریاں کرنے لگے، لیکن مُخبَروں نے بازنطینی فوج کی عین شمس کی جانب آمد کی خبر دی، جس کے نتیجے میں حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) نے وہیں پر قدم جما کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔

جن‍گ[ترمیم]

بازنطینی فوج نے، اس سے پہلے جب مسلمان مصر پر حملہ آور ہوئے، کیوں اپنے رد عمل میں تاخیر کا مظاہرہ کیا۔ شاید اس کی کل وجوہات مکمل جانچ کے باوجود پر بھی نہ معلوم ہو سکیں گی۔ اگرچہ مورخین مصر کے تیزی سے زوال کے لئے قبظی عیسائی کی خیانت اور بازنطینی امیروں کی نالائقی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی حضرت عمرو ابن العاص ؓ کے جنگی حربوں اور طلسماتی قیادت کو فتح مصر کی اصل وجہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

جب بازنطینی فوج قریب آئی تو حضرت عمرو ابن العاص ؓ نے تین الگ الگ حصوں میں فوج تقسیم کی۔ ایک قابل اعتماد امیر، خارجہ بن حذيفہ ؓ کے حکم کے تحت ایک فوجی دستے کو قریب پہاڑیوں میں مشرق کی جانب بھیجا جہاں وہ مؤثر طریقے سے چھپا بھی رہا۔ اس کا مقصد بازنطینی فوج پر اچانک پیچھے سے یا کسی دوسری سمت سے حملہ آور ہونا تھا۔ امیر خارجہ بن حذيفہ ؓ نے وہاں تب تک رہنا تھا جب تک رومیوں نے جنگ شروع نہ کی۔ دوسرا فوجی دستہ جنوب کی جانب بھیجا، جس سمت رومیوں نے جنگ سے فرار ہونے کی میں گزرنا تھا۔ تیسرے دستے کی خود انہوں نے قیادت کی جس کے ساتھ وہ بازنطینی فوج کے رو برو ہوئے۔

جیسے ہی بازنطینی فوج نے مسلم فوج کے ساتھ رابطے کا آغاز کیا اور جنگ شروع ہوئی، امیر خارجہ بن حذيفہ ؓ کے فوجی دستے نے بازنطینی عقب پر حملہ کیا، یہ رومیوں کے لیے مکمل طور پر غیر متوقع تھا۔ ثیوڈور نے شاید جاسوس نہیں رکھے تھے، یا اگر وہ تھے،تو وہ قریب عرب سواروں کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے یا پھر ثیوڈور نے انکی خبروں کو نظر انداز کر دیا ۔ پیچھے سے اس حملے میں بازنطینی صفوں میں سراسر انتشار پیدا ہوگیا۔ ثیوڈور نے جنوب فرار کرنے کی کوشش کی، جہاں وہ تیسرا دستہ تعینات تھا، جو صرف اس مقصد کے لئے وہاں رکھ دیا گیا تھا۔ وہ بھی حملہ آور ہوئے۔ بازنطینی فوج ٹوٹ کر بکھر گئی اور مختلف سمتوں میں بھاگی۔ اس طرح مسلمان فتحیاب رہے۔

عواقب و نتائج[ترمیم]

ثیوڈور لیکن بچ گیا، جبکہ باقی فوجی ہلاک یا گرفتار کر لیے گیے تھے۔ جنگ کے بعد جنوبی اور وسطی مصر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ جنگ عین شمس میں بازنطینی فوج کی شکست اہم تھی، کیونکہ یہ اسلامی حملہ آوروں اور مصر کے فتح کے راستے میں آخری اہم رکاوٹ تھی۔ اس کے نتیجے میں وہ باشندے، جن میں سے بیشتر مونوفیزیہ عیسائی تھے اور بازنطینی کے ظلم و ستم کا شکار تھے، بازنطینیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اگرچہ بازنطینی سلطنت، رومن سلطنت کے خاندان کے وارث یقینی طور پر تھا، اس کی روایات، زبان، اور حکمران اشرافیہ، اس وقت تک، یونانی تھے، جبکہ مصری ان سے مختلف تہذیب تھی۔ قبطی عیسائیوں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا اور اس طرح کئی شہروں سے بازنطینیوں کا انخلا ہوا۔

اگرچہ اس جنگ کے بعد کئی اہم جھڑپیں ہوئیں، لیکن اس جنگ سے خلافت راشدہ نے مؤثر طریقے سے مصر میں بازنطینی حکومت کی قسمت کا فیصلہ کیا، اور افریقہ کے بازنطینی قلمرو کو مسلمانوں کے فتح کے لئے کا دروازہ کھولا۔ حضرت عمرو ابن العاص (رضی اللہ عنہ) نے فسطاط کا شہر بسایا جو بعد میں اسلامی مصر کا دارالحکومت قرار پایا۔ اس فتح کا سب سے اہم معرکہ اسکندریہ کی فتح ہے جس سے مصر کی تسخیر مکمل ہو گئی۔