عیسو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کتاب پیدائش میں ہے کہ، عیسو نے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق کھانے کے عوض اپنے بھائی کو بیچ دیا(کتاب پیدائش: 25، ورس 29 تا 34)

نبی حضرت اسحاق کے جڑواں بیٹوں میں سے ایک، دوسرے بیٹے کا نام حضرت یعقوب تھا جو ایک مشہور نبی ہیں۔ اس کی ماں کا نام ربقہ تھا۔ جو حضرت اسحاق کی بیوی تھیں، عہد نامہ قدیم کے بیان کے مطابق اس شادی کے 20 سال تک کوئی اولاد نہ ہوئی، تب حضرت اسحاق نے دعا کی، جو قبول ہوئی اور جڑواں بیٹے ہوئے۔[1] عیسو نبی نہیں تھا بلکہ عہد نامہ قدیم کی کتاب ملاکی میں ہے، خدا نے اس سے عداوت رکھی اور عہد نامہ جدید کی عبرانیوں کے مطابق وہ لادین تھا۔[2] [3] اسلام میں بھی عیسو نام کے کسی نبی کا ذکر نہیں لیکن مسلمان عہد نامہ قدیم میں عیسو اور یعقوب نبی کی دشمنی کے واقعات اور جانشینی کے اس واقعہ کو قبول نہیں کرتے۔

پیدائش[ترمیم]

حضرت اسحاق کی عمر 40 برس تھی ، جب ان کی شادی ، ربقہ سے ہوئی، جو بیتو ایل کی بیٹی اور لابن کی بہن تھی۔ شادی کے پہلے 20 برس تک ان کی اولاد نہ ہوئی تب حضرت اسحاق نے دعا کی۔ عیسو اور یعقوب دو بیٹے پیدا ہوئے۔ کتاب پیدائش کا بیان ہے کہ یہ دونوں پیٹ میں ہی ایک دوسرے کے دشمن تھے، جب پیدا ہوئے تب بھی ایک کا پاؤں دوسرے کے ہاتھ میں تھا۔ تب ہی خدا کی طرف سے بتا دیا گيا کہ یہ دونوں دو قوموں کے سردار ہوں گئے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پہلوٹھا ہونے سے دستبردار[ترمیم]

عاد نامہ قدیم کے مطابق کیونکہ پہلوٹھے کو کچھ حقوق زاہد حاصل ہوتے تھے، اس لئے عیسو کو یعقوب سے زیادہ حق ملنا تھا، یعنی وہ اپنے باپ حضرت اسحاق کے جانشین ہوتے، لیکن عہد نامہ میں ایک واقعہ اس زمن میں آیا ہے کہ ایک دن عیسو جنگل سے تھکا ہارا ، بھوکا گھر آیا، تب بھائی یعنی حضرت یعقوب نے دال پکائی ہوئی تھی اس نے مانگی ، تو یعقوب نے شرط رکھی کہ تم اپنے پہلوٹھا ہونے کا حق مجھے سونپ دو، عیسو بھوک کی شدّت کی وجہ سے پہلوٹھے ہونے سے دستبردار ہو گيا۔[4]

جانشینی کا واقعہ[ترمیم]

مسیحی عقیدے کے مطابق پہلوٹھا یعنی سب سے پہلا پایدا ہونے والا لڑکا ہی اپنے باپ کی وراثت کا زیادہ حق دار ہوتا تھا، اس کو ہی باپ کے بعد، سرداری یا اگر باپ نبی ہے تو نبوت ملتی تھی۔[5] عہد نامہ قدیم کی روایت کے مطابق ایک بار عیسو نے بھوک کی شدّت سے مجبور ہو کر کھانے کے لئے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق، چھوٹے بھائی کو بیچ دیا تھا۔[6] اس لئے اب وہ ہی باپ کا جانشین ہو سکتا تھا، خود اسحاق نبی بھی عیسو کو چاہتے تھے، مگران کی بیوی ربقہ چھوٹے بیٹے یعقوب کو، مسیحی روایات کے مطابق جب نبی اسحاق بوڑھے اور نابینا ہو گئے تو انھوں نے عیسو کو کہا کہ جا کر شکار کر لا ، اور مجھے کھلا تا کہتجھے دعا دوں۔ ربقہ سمجھ گئی کہ یہ اب عیسو کو جانشین بنانے لگے ہیں، ان نے یعقوب کو کہا کہ بکری زبح کر کے باپ کو کھلا، اور بکری کی کھال یعقوب کے جسم پر لپیٹ دی، کیوں کہ عیسو کے جسم پر بال تھے۔ عیسو سے پہلے ہی یعقوب کھانا لے کر باپ کے پاس پہنچ گيا، وہ نابینا تھے اس لئے چھو کو دیکھا تو جسم پر بال محسوس ہوئے، کھانا کھا کر رواج کے مطابق جانشینی کی دعا دی، اس کے بعد عیسو آیا اور تب اسحاق و عیسو کو پتہ چلا کہ، یعقوب دھوکے سے جانشین بن چکا ہے۔ اس پر عیسو نے باپ کے بعد یعقوب کو مار ڈالنے کی دھمکی دی۔[7]

قوم ادوم کا باپ[ترمیم]

عیسو کی اولاد[ترمیم]

عہد نام قدیم کے باب 36 میں عیسو کی بیویوں ، بیٹوں اور ان کی نسل کی یہ تفصیل دی گئی ہے۔

(1)اور عیسو یعنی ادُوم کا نسب نامہ یہ ہے۔ (2) عیسو کنعانی لڑکیوں میں سے حِتّی اَیلون کی بیٹی عدّہ کو اور حوی صبعو ن کی نواسی اور عنہ کی بیٹی اُہلیبامہ کو۔ (3)اور اِسمٰعیل کی بیٹی اور نبایوت کی بہن بشامہ کو بیاہ لایا۔ (4)اور عیسو سے عدّہ کے اِلیفز پَیدا ہُؤا اور بشامہ کے رعوایل پَیدا ہُؤا۔ (5) اور اُہلیبامہ کے یعوس اور یعلام اور قورح پَیدا ہُوئے ۔ یہ عیسو کے بیٹے ہیں جو مُلکِ کنعان میں پَیدا ہُوئے۔

(6) اور عیسو اپنی بِیویوں اور بیٹے بیٹِیوں اور اپنے گھر کے سب نوکر چاکروں اور اپنے چَوپایوں اور تمام جانوروں اور اپنے سب مال اسباب کو جو اُس نے مُلکِ کنعان میں جمع کِیا تھا لے کر اپنے بھائی یعقُوب کے پاس سے ایک دُوسرے مُلک کو چلا گیا۔ (7)کیونکہ اُن کے پاس اِس قدر سامان ہو گیا تھا کہ وہ ایک جگہ رہ نہیں سکتے تھے اور اُن کے چَوپایوں کی کثرت کے سبب سے اُس زمِین میں جہاں اُن کا قیام تھا گنجایش نہ تھی۔ (8) پس عیسو جِسے ادُوم بھی کہتے ہیں کوہِ شعیر میں رہنے لگا۔

(9)اور عیسو کا جو کوہِ شعیر کے ادُومیوں کا باپ ہے یہ نسب نامہ ہے۔ (10)عیسو کے بیٹوں کے نام یہ ہیں ۔ الیِفز عیسو کی بِیوی عدّہ کا بیٹا اور رعوایل عیسو کی بِیوی بشامہ کا بیٹا۔ (11)الیِفز کے بیٹے تیمان اور اومر اور صفو اور جعتام اور قنز تھے۔ (12)اور تِمنع عیسو کے بیٹے الیِفز کی حرم تھی اور الیِفز سے اُس کے عمالیق پَیدا ہُؤا ۔

سو عیسو کی بِیوی عدّہ کے بیٹے یہ تھے۔ (13)رعوایل کے بیٹے یہ ہیں ۔نحت اور زارح اور سمّہ اور مِزّہ ۔ یہ عیسو کی بِیوی بشامہ کے بیٹے تھے۔

(14)اور اُہلیبامہ کے بیٹے جو عنہ کی بیٹی صِبعون کی نواسی اور عیسو کی بِیوی تھی یہ ہیں۔ عیسو سے اُس کے یعُوس اور یعلام اور قورح پَیدا ہُوئے۔

(15)اور عیسو کی اَولاد میں جو رئِیس تھے سو یہ ہیں ۔ عیسو کے پہلوٹھے بیٹے الِیفز کی اَولاد میں رئِیس تیمان رئِیس اومر رئِیس صفو رئِیس قَنز۔ (16)رئِیس قورح رئِیس جعتام رئِیس عمالیق ۔ یہ وہ رئِیس ہیں جو الیِفز سے مُلکِ ادُوم میں پَیدا ہُوئے اور عدّہ کے فرزند تھے۔

(17)اور رعوایل بن عیسو کے بیٹے یہ ہیں ۔ رئِیس نحت رئِیس زارح رئِیس سمّہ رئِیس مِزّہ ۔ یہ وہ رئِیس ہیں جو رعوایل سے مُلکِ ادُوم میں پَیدا ہُوئے اور عیسو کی بِیوی بشامہ کے فرزند تھے۔

(18)اور عیسو کی بِیوی اُہلیبا مہ کی اَولاد یہ ہیں رئِیس یعُوس رئِیس یعلام رئِیس قورح۔ یہ وہ رئِیس ہیں جو عیسو کی بِیوی اُہلیبا مہ بِنت عنہ کے فرزند تھے۔ (19)سو عیسو یعنی ادُوم کی اَولاد اور اُن کے رئِیس یہ ہیں۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ [کتاب پیدائش] باب 25
  2. ^ عہد نامہ قدیم، ملاکی باب 1، ورس 3
  3. ^ عہد نامہ جدید ، عبرانیوں، باب 12، ورس 16
  4. ^ کتاب پیدائش، باب 26، ورس 29 تا 34
  5. ^ عہد نامہ قدیم، استشناء، باب 21 ورس 15
  6. ^ کتاب پیدائش، باب 25، ورس 29 تا 34
  7. ^ کتاب پیدائش، باب 27 ورس 1 تا 4
  8. ^ کتاب پیدائش، باب 36