قبر
جب کوئی مسلمان فوت ہو جاتا ہے تو اس کی جس جگہ دفن کیا جاتا ہے اس کو قبر کہتے ہیں۔
زیارت قبور [ترمیم]
زیارتِ قبور جائز و مستحب بلکہ مسنون ہے۔ بلکہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا کرتے اور یہ فرمایا بھی ہے کہ تم لوگ قبروں کی زیارت کرو، وہ دنیا میںبے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے۔
زیارت قبور کا مستحب طریقہ [ترمیم]
قبر کی زیارت کو جانا چاہیے تو مستحب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان میں دو رکعت نماز نفل پڑھے، ہر رکعت میں بعد فاتحہ آیت الکرسی ایک بار اور قل ہو اللہ تین بار پڑھے اور اس نماز کا ثواب مےّت کو پہنچائے، اللہ تعالٰیٰ مےّت کی قبر میں نور پیدا کریگا اور اس شخص کو بہت بڑا ثواب عطا فرمائے گا۔ اب قبرستان کو جائے تو راستہ میں فضول باتوں میںمشغول نہ ہو۔ جب قبرستان پہنچے جوتے اتارے اور پائنتی کی طرف سے جا کر اس طرح کھڑا ہو کر قبلہ کو پیٹھ ہو اورمےّت کے چہرے کی طرف منہ، سرہانے سے نہ آئے کہ مےّت کے لیے باعث تکلیف ہے یعنی مےّت کو گردن پھیر کر دیکھنا پڑتا ہے کہ کون آیا اور اس کے بعد یہ کہے:
| ” | السلام علیکم یا اھل القبور یغفر اللہ لنا ولکم انتم لنا سلف ونحن بلاثر | “ |
یا یوں کہے:
| ” | السلام علیکم اھل دارقوم مومنین انتم لنا سلف وانا ان شآ ء اللہ بیکم لا حقون | “ |
اور سورۃ الفاتحہ و آیت الکرسی اور سورئہ اذا زلزلت و الھاکم التکاثر oپڑھے۔ سورۃ ملک اور دوسری سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے اور اس کا ثواب مردوں کو پہنچائے اور اگر بیٹھنا چاہے تو اتنے فاصلہ سے بیٹھے کہ اس کے پاس زندگی میں نزدیک یاد ور جتنے فاصلے پر بیٹھ سکتا تھا۔