قراچار نوئیاں
| وسط ایشیا کے مغل حکمران | |
| چنگیز خان | |
| چنگیز خان | |
| جوجی خان تولی خان اوکتائی خان چغتائی خان ہلاکو خان |
|
| قراچار نوئیاں | |
| امیر تیمور | |
| امیر تیمور | |
| امیر جلال الدین میراں شاہ امیر زادہ عمر شیخ شاہ رخ تیموری پیر محمد بن جہانگیر بن امیر تیمور خلیل سلطان الغ بیگ مرزا ابو سعید بن سلطان محمد بن میران شاہ بن امیر تیمور |
|
قراچار نوئیاں چنگیز خان کا مشیر اعلی تھا۔
فہرست |
تاریخ [ترمیم]
قراچار نوئیاں چوتھی پشت میں کچولہ بہادر بن تومنہ خان کی اولاد تھا۔ اور تومنہ خان کے عہدنامہ کے مطابق چنگیزخان کا مٹیراعلی بنا۔ اپنے علد حرومت کے شروع میں تیمورچی دشمنوں کے پاتھ قید ہوگیا تھا، تو قراچار نوئیاں کی مدد سے رہائ حاصل کی۔
چغتائی خان سے تعلق [ترمیم]
چنگیزخان نے مرتے وقت چغتائی خان کو تصیحت کی تھی کہ وہ اپدے اتالیق اور اس کے میشر اعلی کو اقتدار میں شریک رکھے اور دونوں کے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ قائم کرے۔ چغتائی خان نے اپنی پیٹی کارشتہ قراچار نوئیاں کو دے کر اور علاقوں کا انتظام اس کے حوالے کر کے خود اوکتائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی۔ خغتائی خان کی موت کے بعد وہ خود مختار حکمران ہوگیا تھا۔ مگر اس نے چغتائی کے بیٹیوں کو اقتدار میں شریک رکھا اور تربیت کرتا رہا۔ اس کے بیٹے اور پوتے کو خاقان بنایا۔
حکومت [ترمیم]
قراچار نوئیاں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو مختلف علاقوں سے تلاش کرکے (سمرقند) کش کے علاقے میں آباد کیا۔ مقامی ترک اور ایرانی باشندوں میں رہائش اختیار کرکے اس قبیلے نے اپنی علہدہ قومیت کھو دی اور ترکی زبان کے غلبے کی وجہ سے ترکی بولنے لگے اور ترک کہلائے ۔
نسل [ترمیم]
قراچار نوئیاں نے 89ء سال عمر پاکر 1254ء میں وقات پائ۔ اس کا بیٹا ایجل نوئیاں جانشین بنا۔ اس کے پوتے امیراینگو سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔
حولہ جات [ترمیم]
قاضی محمد اقبال چغتائی : وسط ایشیا کے مغل حکمران۔ چغتائی ادبی ادارہ، لاہور۔ 1983ء۔ صفحہ 33-34۔