واحد مرثالثہ کثیرشکلیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

واحد مرثالثہ کثیرشکلیت کو انگریزی میں single nucleotide polymorphism کہا جاتا ہے اور اسکے لیۓ SNP کا اختصار اختیار کر کہ سنپ (snip) پڑھا جاتا ہے۔ یہ دراصل دنا یا DNA کی متوالیت یا سیکوینس میں واقع ہونے والے ایسے تغیرات ہوتے ہیں کہ جن میں چار مرثالثات (nucleotides) (یعنی C، T، A اور G) میں سے کوئی ایک بدل جاۓ[1]۔ اسی بات کو یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ ؛ سنپ دراصل جانداروں کی کسی بھی نوع کے موراثہ (genome) میں کسی ایک مرثالثہ کے دوسرے مرثالثہ سے بدل جانے سے پیدا ہونے والی DNA متوالیت (sequencing) میں تبدیلی کے باعث نمودار ہونے والا مظہر ہے۔

مثال[ترمیم]

مثال کے طور پر کوئی سنپ، DNA کے درج ذیل متوالیہ (sequence)

AAGGCTAA     کـو

ATGGCTAA     میں

بدل سکتا ہے۔

تناسب و تکرار[ترمیم]

ایک ایسی تبدیلی یا تغیر کو سنپ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب اسکے کسی آبادی میں پائے جانے کا تناسب ٪1 سے زائد ہو۔ انسانی وراثی تغیر کا ٪90 سے زیادہ وانک یا سنپ کے باعث ہی وجود میں آتا ہے، یہ تغیر 3-ارب زوج قواعد (base pairs) سے بنے انسانی مووراثہ (human genome) کی ہر 100ویں سے 300ویں قاعدے پر واقع ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر تین میں سے دو وانک، C کے T سے تبدیل ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

مقام[ترمیم]

سنپ، DNA کے رمزی (coding) و غیررمزی (noncoding) دونوں مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ اکثر سنپ خلیہ میں کسی قسم کی خرابی نہیں پیدا کرتے، مگر ایسے سنپ بھی ہیں جو کہ افراد کی صحت و بیماری پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا اہم ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ اگر کوئی سنپ کسی وراثہ کے رمزی حصے واقع ہو تو وہ ہمیشہ مطلقہ لحمیہ (protein) کے امائنوایسڈ کی ترتیب میں خلل پیدا کرسکے اور ایسا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ایک امائنوایسڈ کیلیۓ ایک سے زائد وراثی رموز (genetic codes) ہوتے ہیں، اس مظہر کو وفررمزی (code redundancy) کہا جاتا ہے۔

اہمیت[ترمیم]

گو کہ ٪99 DNA متوالیت تمام انسانوں کی کسی آبادی میں یکساں ہوتی ہے، مگر ٪1 DNA میں ہونے والا یہ سنپ تغیر ؛ ماحولی اثرات مثلا بیکٹیریا، وائرس زہریلے مادے ، کیمیائی مادے ، ادویہ اور معالجہ پر انسانی ردعمل یہ اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وانک حیاتیات و طب میں تحقیق، ادویہ سازی اور تشخیص میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مزید برآں یہ کہ سنپ، ارتقاعی عمل کے دوران استقامت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انمیں نسل در نسل تک کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہوتی، اسی وجہ سے انکو کسی بھی اہل علاقہ (population) کے سائنسی مطالعے کیلیۓ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
علماء (scientists) اس بارے میں بھی پریقین ہیں کہ وانک یا سنپ کی شاخت کے زریعے پیچیدہ امراض مثلا؛ سرطان، ذیابیطس، وعائی امراض (vascular diseases) اور چند دماغی امراض کے بارے میں جاننے کیلیۓ مدد ملے گی۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Human Genome Project Information SNP Fact Sheet