ڈیسپشن پوائنٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مشہور ناول ڈاونچی کوڈ سے شہرت پانے والے بیسٹ سیلر ناول نگار ڈین براؤن کا ڈیجیٹل فوٹریس کے بعد یہ دوسرا ناول تھا جو کہ 2001ء میں Deception Point کے نام سے منظرَ عام پر آیا تھا۔ اس ناول میں مصنف نے جس طرح سے جیالوجی، زوالوجی اور گلیشیالوجی وغیرہ کے بارے میں گاہے بگاہے بتایا ہے، اس پہ مصنف کی تحقیق کی داد دینی پرتی ہے۔

اس ناول کی کہانی کچھ یوں ہے کہ امریکی خلائی تحقیق کا ادارہ ناسا گرین لینڈ میں قطبِ شمالی کے قریب کچھ اس طرح کا انتظام کرتا ہے کہ پوری دنیا کو یہ ثبوت دکھایا جا سکے کہ ناسا کے سائنسدانوں نے ایکسڑا ٹیریٹوریل لائف دریافت کر لی ہے۔ اور اس ثبوت کو ایسا پرفیکٹ طریقے سے بہت سے ماہر سائنسدانوں کو دکھایا گیا کہ انہوں نے بھی تحقیق کر کے اس کی تصدیق کر دی۔ لیکن پھر ایک چھوٹی سی بات سے کچھ ماہرین کو شک پڑا کہ اس پلاٹ میں کچھ جھول ہے اور پھر سراغ در سراغ لگتے گئے جس سے پتا چلا کہ ناسا کو چونکہ بے تحاشا فنڈز کی ضرورت رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ میڈیا اور پبلک میں زیرِ عتاب ہی ہوتا تھا تو انہوں نے ایک بریک تھرو دکھانے کے چکر میں یہ ناٹک کر ڈالا۔[1]


ناول کی کہانی[ترمیم]

ڈیسیپشن پوائنٹ کی کہانی خلائی مخلوق اور ناسا کے گرد گھومتی ہے۔ خلائی مخلوق کی تلاش آج کل کے زمانے کی انتہائی اہم تلاش ہے۔ تاہم یہ تلاش نئے دور کی دین نہیں ہے بلکہ انسان صدیوں سے آسمان پہ ستاروں کو دیکھ کے اس بارے میں غور و فکر کرتا آیا ہے کہ آیا وہ اس کائنات میں تنہا ہے یا ستاروں پہ بھی کوئی مخلوق آباد ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ آج تک انسان کو اس تلاش کا کوئی مثبت جواب نہیں مل سکا ہے۔ ڈیسیپشن پوائنٹ کا آغاز اسی سوال کے جواب سے ہوتا ہے۔ جہاں ناسا نے ایک دور دراز جزیرے پہ ایک انتہائی قدیم شہابیہ دریافت کیا ہے جس کے اندر سے ایسے ثبوت ملے ہیں جو کسی خلائی مخلوق یا جرثومے کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ یہ خبر ناسا کے لئے انتہائی حوصلہ افزاء تھی جو ایک عرصے سے لوگوں کی تنقید کا شکار تھا کیونکہ بے انتہا فنڈز اور وسائل استعمال کرنے کے باوجود بھی ناسا ابھی تک اپنی افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اپنے دعوے کے تصدیق کے لئے ناسا نے کچھ ایکسپرٹ افراد کو اس دور دراز جزیرے پہ بھجوایا جنہوں نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ناسا کے اس دعوے کی تصدیق کی۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ انہی ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی کچھ لوگوں کو ناسا کے دعوے کی سچائی پہ شک ہوگیا اور جوں جوں معاملہ آگے بڑھا ناسا کے بیان کی سچائی مشکوک ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ یہ ثابت ہو گیا کہ ناسا نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے یہ جھوٹا دعویٰ گھڑا تھا اور اسے حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی تھی۔[2]


حوالہ جات[ترمیم]


مزید دیکھیئے[ترمیم]