گرو دت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گرو دت فلم پیاسا میں

پیدائش: 9 جولائی 1925ء

انتقال:10 اکتوبر 1964ء

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مشہور ہندوستانی اداکار ۔ ہدایت کار اور فلمساز۔ بنگلور میں پیدا ہوئے ۔گرو دت کا تعلق منگلور کے ایک سرسوت برھمن خاندان سے تھا لیکن اُن کی تعلیم کلکتہ میں ہوئی۔ بنگالی ثقافت کا اُن کے ذہن، شخصیت اور فن پہ گہرا اثر رہا۔گرو دت نے کئی مرتبہ بنگالی زبان میں فلم بنانے کی کوشِش بھی کی۔


پہلی فلم[ترمیم]

اکثر لوگ فلم ’باز‘ کوگرو دت کی پہلی فلم سمجھتے ہیں لیکن گرو دت ’باز‘ سے پہلے تین فلموں سے وابستہ رہے۔ ’لاکھا رانی‘ (1945)،’ ہم ایک ہی‘ (1946) اور’گرلز اسکول‘(1949)۔ فلم کیرئیر کا آغاز گرو دت کے چاہنے والوں میں سے شائد بہت کم ہی اِس امر سے واقف ہوں کہ گرو دت نے اپنے فلمی کیرئر کا آغاز ایک ڈانس ڈائریکٹر کی حیثیت سے مشہور پربھات سٹوڈیو میں فلم لاکھا رانی سے کیا۔ اُنہوں نے 1942 سے 1944 تک اُستاد اُدھے شنکر کی المورا ڈانس اکیڈمی میں تربیت حاصل کی تھی۔

کیرئیر[ترمیم]

فلموں میں اپنے کیرئر میں اُنہوں نے بطور اداکار کُل 17 فلموں میں کام کیا اور اُن میں سے 8 فلمیں انہوں نےخود ڈائریکٹ کیں اور یہی فلمیں اُن کی سب سے بہترین فِلمیں بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’صاحب، بیوی اور غلام‘ اور ’چودہویں کا چاند‘ بھی شامل ہیں جو انہوں نے خود ڈائریکٹ نہیں کیں۔

بے مثال فلمیں[ترمیم]

اگر گرو دت کی چار فلموں کو بےمثال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان میں دو تو کامیڈیز تھیں اور دو ٹریجیڈیز۔ گرو دت کے کام کرنے کا طریقہ ہی کچھ ایسا تھا کہ پہلے ایک کامیڈی بناتے اور اُس کے فورا بعد ایک سنجیدہ فلم بنانا شروع کر دیتے۔

’ آر پار‘ اور ’مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو‘ ہندوستانی فِلموں کی یادگار کامیڈیز میں سے ہیں جبکہ’پیاسا‘ اور’ کاغذ کے پھول‘ نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیما کی دو نہایت ہی اہم فِلمیں مانی جاتی ہیں۔ اِن دو فِلموں میں سے’پیاسا‘ نہ صرف زیادہ مقبول رہی بلکہ ایک وہ بہتر فِلم بھی ہے۔

پیاسا[ترمیم]

’پیاسا‘ کو یوں تو ٹریجیڈی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ فِلم کا ہیرو آخر میں نہ صرف ایک نئی زندگی شروع کرتا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو کلاس، فیملی اور کمیونٹی کے بندھن سے آزاد کر پاتا ہے۔

پیاسا میں گرو دت نے ایک اُداس شاعر کو مسیحا بنا کر پیش کیا۔ ایک ایسا مسیحا جس کی سماجی موت ہی اُس کی حیات کا سبب بنتی ہے۔ گرو دت نے اِپنی زندگی خود ختم کر کے موت اور آزادی کے رشتے کی اُسی کشمکش کا اِظہار کیا جو اُن کی فلم’پیاسا‘ میں نظر آتی ہے۔مشہور فِلم سکالر لاورا ملوی نے حال ہی میں ’سائٹ اینڈ ساونڈ‘ میگزین میں گرو دت کی فلم’پیاسا‘ کو دُنیا کی دس بہترین فلموں میں شمار کیا۔


مقام[ترمیم]

اگر محبوب خان، بمل رائے اور راج کپور کی فِلموں نے دیوداس کے امیج کی صورت میں اس دور کے ہندوستانی نوجوان کی ایک الگ اور نئی تصویر پیش کی توگُرو دت نے اُس اُداس ہیرو کوایک ذاتی اور سیاسی پہچان دی۔

ایک ایسے وقت میں جب ہندوستانی سنیما ایک نئے دور کی تلاش میں تھا ،گرو دت نے اپنی فلموں میں بہت سے کٹھن سوال اٹھا کر لاکھوں نوجوانوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اِن سوالوں کے جواب شاید خود گرو دت کو آخر تک نہ مل سکے لیکن اِن سوالوں سےگرو دت نے ہندوستانی سِنیما کی ایک ایسی الگ تاریخ لکھی جس کا اثر آج بھی ہندوستانی سِنیما پر نظر آتا ہے۔


اردو سے محبت[ترمیم]

گُرو دت کو اُردو سے محبت تھی لیکن وہ محبت ایک ایسی اُردو کے لئے تھی جسے بمبئی کا پارسی اپنے انداز میں اور مدھیہ پردیش کا ٹیکسی ڈرائیور اپنے انداز میں بولتا تھا۔ اُن کی فِلموں میں ایسی اردو شاعری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس کا جنم بمبئی کی فلم انڈسٹری میں ہوا اِور جس کا اثر آج بھی فلم انڈسٹری پر صاف نظر آتا ہے۔ ساحر لدھیانوی کی اس اردو سے پیار کی وجہ شائد یہ بھی تھی کہ یہ وہ اردو تھی جو خود گرو دت جذبات اور حالات سے واقف تھی، وہ اُردو جو اُنہیں پہچانتی تھی اور جس میں ہندوستان کے کئی نوجوان اس زمانے میں اپنے آپ کی تلاش کررہے تھے۔

انتقال[ترمیم]

اُنہوں نے 10 اکتوبر 1964 کو اپنی زندگی خود ختم کرلی۔